Jamal e Mustafa

Total Pages: 120

Page 24 of 120
حسانُ الہنداما م اہلسنّت اعلیٰ حضرت محدث بریلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں،
لَمْ یَاتِ نَظِیْرُکَ فِیْ نَظَرٍ مثلِ تو نہ شد پیدا جانا
جگ راج کو تاج تورے سر سو ہے تجھ کو شہِ دوسرا جانا
’’یارسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم!آ پ جیسا کسی نے دیکھا نہیں اورآپ کی مثل پیدا ہوا ہی نہیں۔ کائنات کے مالک ومختار ہونے کاتاج آپ ہی کے سر اقدس پر سجتا ہے اور سب آپ ہی کو دوجہاں کا بادشا ہ جانتے ہیں ‘‘۔
مکہ مکرمہ کے عظیم محقق ڈاکٹر محمد علوی مالکی اپنی تصنیف الا نسا ن الکامل میں لکھتے ہیں،
’’نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی عظمت وہیبت اور وقار کے باعث صحابہ کرام آپ کو نظر بھر کرنہ دیکھ پاتے۔ یہی وجہ ہے کہ رحمت عالم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کاحلیہ مبارکہ وہی صحابہ کرام بیان فرماتے ہیں جواُس وقت بچے تھے یااعلانِ نبوت سے قبل حضورصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکے زیرِ تربیت تھے جیسے حضر ت ہند بن ابی ہالہ اورحضرت علی رضی اللہ عنہم‘‘۔
بلاشبہ جن صحابہ نے آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکاحلیہ مبارک بیان فرمایا ہے یہ ان کاملت اسلامیہ پر احسان عظیم ہے۔ یہ ایسی نعمت ہے جس کے حصول کے لیے تابعین صحابہ کرام علیہم الرضوان کی خدمت میں حاضر ہوتے اور ان سے آقائے دوجہاں صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے جسم اطہر کے اعضائے مقدسہ کے بارے میں سوالات کرتے اور حضور کاحلیہ مبارک دریافت فرماتے جیساکہ روایات سے ثابت ہے۔ اگر ایمان کی نظر سے دیکھا جائے تو اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم کی متعد د آیات میں آقا ومولیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکے حسن وجمال اور اعضا ئے مقدسہ کاذکر فرمایا ہے۔
چند آیات پہلے بیان کی گئیں جن میں حضورصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو نور فرمایاگیا ، سراج منیر قرار دیا گیا ، آپ کے چہرۂ انور کو والضحیٰ فرمایا گیا۔اب مزید آیات ملا حظہ فرمائیں۔
سورہ بقرہ آیت میں حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے چہر ۂ اقدس کاذکر فرمایا،’’ہم دیکھ رہے ہیں باربار تمہارا آسمان کی طرف منہ کرنا ‘‘۔()
سورہ شعر اء کی آیت میں آپ کے قلب مبارک کا ذکر فر مایا،’’اسے روح الامین لے کر اترا تمہارے دل پر‘‘۔()سورہ البقرہ آیت ()، سورہ الشوریٰ آیت () ، سورہ الفرقان آیت ()اور سورہ النجم آیت ()میں بھی حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے قلب اطہر کا ذکر فرمایا گیا ہے۔
سورۃ القیامہ آیت میں آپ کی زبان اقدس کاذکر فرمایا،’’تم یاد کرنے کی جلدی میں اپنی زبان کو حرکت نہ دو‘‘۔()
سور ہ الدخان آیت میں بھی زبان حق ترجمان کا ذکر فرمایا گیا۔ سورۃ التوبہ میں کان مبارک کاذکر فرمایاگیا ،’’تم فرماؤ تمہارے بھلے کے لیے کان ہیں‘‘۔()
سور ۃ النجم میں آپ کی چشمان مبارک کاذکر فرمایا، ’’آنکھ نہ کسی طرف پھر ی نہ حد سے بڑھی ‘‘۔()
سورۂ بنی اسرائیل میں آپ کے دست اقدس اور گردن مبارک کاذکر فرمایا، ’’اور اپنا ہاتھ اپنی گردن سے بندھا ہوا نہ رکھیے ‘‘۔()
سورۂ الم نشرح کی پہلی آیت میں حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکے مبارک سینے کا ذکر فرمایا، ’’کیاہم نے تمہارا سینہ کشاد ہ نہ کیا ‘‘۔()
اوراگلی آیت میں آپ کی پشت مبارک کا بھی ذکر فرمایا،’’اور تم پر سے وہ بوجھ اُتار لیاجس نے تمہاری پیٹھ بوجھل کردی تھی ‘‘۔()
یہ تو صر یحاً اعضا ئے مبارکہ کاذکر تھا۔ بعض اکا بر مفسرین فرماتے ہیں کہ قرآن حکیم میں ’’یٰس ‘‘اور ’’طٰہٰ‘‘سے مراد حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم ہی کی ذات ہے۔()
Share:
keyboard_arrow_up