حسانُ الہنداما م اہلسنّت اعلیٰ حضرت محدث بریلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں،
لَمْ یَاتِ نَظِیْرُکَ فِیْ نَظَرٍ مثلِ تو نہ شد پیدا جانا
جگ راج کو تاج تورے سر سو ہے تجھ کو شہِ دوسرا جانا
’’یا رسول اللّٰہ ﷺ ! آپ جیسا کسی نے دیکھا نہیں اور آپ کی مثل پیدا ہوا ہی نہیں۔ کائنات کے مالک و مختار ہونے کا تاج آپ ہی کے سر اقدس پر سجتا ہے اور سب آپ ہی کو دو جہاں کا بادشا ہ جانتے ہیں ‘‘۔
مکہ مکرمہ کے عظیم محقق ڈاکٹر محمد علوی مالکی اپنی تصنیف الانسان الکامل میں لکھتے ہیں،
’’نبی کریم ﷺ کی عظمت و ہیبت اور وقار کے باعث صحابہ کرام آپ کو نظر بھر کرنہ دیکھ پاتے۔ یہی وجہ ہے کہ رحمت عالم ﷺ کا حلیہ مبارکہ وہی صحابہ کرام بیان فرماتے ہیں جواُس وقت بچے تھے یا اعلانِ نبوت سے قبل حضور ﷺ کے زیرِ تربیت تھے جیسے حضر ت ہند بن ابی ہالہ اور حضرت علی رضی اللّٰہ عنہم‘‘۔
بلاشبہ جن صحابہ نے آپ ﷺ کا حلیہ مبارک بیان فرمایا ہے یہ ان کا ملت اسلامیہ پر احسان عظیم ہے۔ یہ ایسی نعمت ہے جس کے حصول کے لیے تابعین صحابہ کرام علیہم الرضوان کی خدمت میں حاضر ہوتے اور ان سے آقائے دوجہاں ﷺ کے جسم اطہر کے اعضائے مقدسہ کے بارے میں سوالات کرتے اور حضور کاحلیہ مبارک دریافت فرماتے جیساکہ روایات سے ثابت ہے۔
اگر ایمان کی نظر سے دیکھا جائے تو اللّٰہ تعالیٰ نے قرآن حکیم کی متعدد آیات میں آقا و مولیٰ ﷺ کے حسن و جمال اور اعضا ئے مقدسہ کا ذکر فرمایا ہے۔ چند آیات پہلے بیان کی گئیں جن میں حضور ﷺ کو نور فرمایا گیا ، سراج منیر قرار دیا گیا ، آپ کے چہرۂ انور کو والضحیٰ فرمایا گیا۔
اب مزید آیات ملا حظہ فرمائیں۔
سورہ بقرہ آیت میں حضور ﷺ کے چہر ۂ اقدس کا ذکر فرمایا،
’’ہم دیکھ رہے ہیں بار بار تمہارا آسمان کی طرف منہ کرنا ‘‘۔
(پارہ نمبر: 1، سورۃ البقرۃ ، آیت نمبر:144)
سورہ شعراء کی آیت میں آپ کے قلب مبارک کا ذکر فر مایا،
’’اسے روح الامین لے کر اترا تمہارے دل پر‘‘۔
(پارہ نمبر: 26، سورۃ الشعراء، آیت نمبر:194)
سورہ البقرہ آیت (پارہ نمبر: 1، سورۃ البقرۃ ، آیت نمبر:97) ،
سورہ الشوریٰ آیت (پارہ نمبر: 25، سورۃ الشوری، آیت نمبر: 24) ،
سورہ الفرقان آیت ( پارہ نمبر: 19، سورۃ الفرقان، آیت نمبر:32)
اور سورہ النجم آیت میں بھی حضور ﷺ کے قلب اطہر کا ذکر فرمایا گیا ہے۔
(پارہ نمبر: 27، سورۃ النجم، آیت نمبر:11)
سورۃ القیامہ آیت میں آپ کی زبان اقدس کا ذکر فرمایا، ’’تم یاد کرنے کی جلدی میں اپنی زبان کو حرکت نہ دو‘‘۔ (پارہ نمبر: 29، سورۃ القیامۃ، آیت نمبر:16)
سورہ الدخان آیت میں بھی زبان حق ترجمان کا ذکر فرمایا گیا۔
(پارہ نمبر: 25، سورۃ الدخان، آیت نمبر:58)
سورۃ التوبہ میں کان مبارک کا ذکر فرمایا گیا،
’’تم فرماؤ تمہارے بھلے کے لیے کان ہیں‘‘۔
سور ۃ النجم میں آپ کی چشمان مبارک کا ذکر فرمایا،
’’آنکھ نہ کسی طرف پھر ی نہ حد سے بڑھی ‘‘۔
(پارہ نمبر: 27، سورۃ النجم، آیت نمبر:17)
سورۂ بنی اسرائیل میں آپ کے دست اقدس اور گردن مبارک کا ذکر فرمایا،
’’اور اپنا ہاتھ اپنی گردن سے بندھا ہوا نہ رکھیے ‘‘۔
( پارہ نمبر: 15، سورۃ بنی اسرائیل، آیت نمبر:29)
سورۂ الم نشرح کی پہلی آیت میں حضور ﷺ کے مبارک سینے کا ذکر فرمایا،
’’کیا ہم نے تمہارا سینہ کشاد ہ نہ کیا ‘‘۔
(پارہ نمبر: 30، سورۃ لم نشرح، آیت نمبر:1)
اور اگلی آیت میں آپ کی پشت مبارک کا بھی ذکر فرمایا،
’’اور تم پر سے وہ بوجھ اُتار لیاجس نے تمہاری پیٹھ بوجھل کردی تھی ‘‘۔
(پارہ نمبر: 30، سورۃ لم نشرح، آیت نمبر:2)
یہ تو صر یحاً اعضا ئے مبارکہ کا ذکر تھا۔ بعض اکابر مفسرین فرماتے ہیں کہ قرآن حکیم میں ’’یٰس ‘‘اور ’’طٰہٰ‘‘سے مراد حضور ﷺ ہی کی ذات ہے۔
(تفسیر مظہری، پارہ نمبر22،سورۃ یس، آیت نمبر1)

