Jamal e Mustafa

Total Pages: 118

Page 23 of 118

آئی جو اُن کی یاد تو آتی چلی گئی

ہر نقشِ ماسوا کو مٹاتی چلی گئی

 

یہ بھی ناقابلِ انکار حقیقت ہے کہ جیسے جیسے محبوب کی خوبیوں اور کمالات سے آگاہی ہوتی جاتی ہے، محبت بڑھتی جاتی ہے۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ عنہ سے روایت ہے کہ،

جب اسلامی لشکر یمامہ کے سردار ثمامہ کو قیدی بنا کر لایا تو اسے مسجد نبوی کے ستون سے باندھ دیا گیا۔ روزانہ نبی کریم  اس سے گفتگو فرماتے۔ تیسرے دن اسے حضور  کے حکم سے کھول دیا گیا۔ وہ چلا گیا اور غسل کرکے بارگاہ نبوی میں قبول اسلام کے لیے حاضر ہوا اور عر ض کی،

’’یا رسول ! اللّٰہ تعالیٰ کی قسم روئے زمین پر پہلے آپ کے چہرے سے بڑھ کر مجھے کوئی شے نا پسند نہ تھی لیکن اب مجھے آپ کے چہرۂ اقدس سے بڑھ کر کوئی شے محبوب نہیں ہے ‘‘۔ (مشکوۃ،ج2،ص400،حدیث نمبر:3964)

 

اس حدیث پاک سے معلوم ہوا کہ رحمت عالم  کے دیدارِ پُر انوار  نے اس کے دل کی دنیا ہی بدل ڈالی۔ آج اگر ہم باطنی پاکیز گی حاصل کرکے اپنے دل کی دنیا بدلنا چاہیں اور عظمت رفتہ حاصل کرنا چاہیں تو ہمیں صحابہ کرام کے ان مقدس ارشادات کو اپنا وظیفہ بنانا ہوگا جن میں انہوں نے جانِ کائنات  کے حسن و جمال اور فضائل و کمالات کو بیان فرمایا ہے تاکہ عشق رسول  کاجذبہ بیدار ہو اور پھر یہ جذبہ اطاعت رسول  کا داعی اور محرک بن جائے۔

 

جواہر البحار میں سید عالم  کا حلیہ مبارکہ ذکر کرنے کی غرض و غایت یہ بیان کی گئی ہے کہ ’’حضور  کی صور ت مبارکہ کا تصور کرنے اور اس کا مسلسل مشاہدہ کرنے سے سعادت کبریٰ بھی نصیب ہوگی اور تمہارے اور نبی کریم  کے درمیان استمداد کی راہ بھی کھل جائے گی‘‘۔

 

حضرت امام حسن رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں کہ،

میں نبی کریم  کے وصال کے وقت بہت چھوٹا تھا اس لیے میں نے اپنے ماموں حضرت ہند بن ابی ہالہ رضی اللّٰہ عنہ سے حضور  کے حلیہ مبارک کے متعلق سوال کیا اور میری خواہش تھی کہ وہ آقا کریم  کے اوصاف بیان فرمائیں تاکہ ان کے بیان کو میں اپنے لیے سند بناؤ ں۔

(شمائل ترمذی،ص35، حدیث نمبر:8)

 

محدث علی قاری فرماتے ہیں،

’’تاکہ ان اوصاف کے ذریعہ میں آپ سے تعلق مزید مضبوط کرلوں اور انہیں اپنے ذہن و خیال میں محفوظ کر لوں‘‘۔ (جمع الوسائل، ج1، ص33)

معلوم ہوا کہ صحابہ کرا م ارشاداتِ رسول  کے ساتھ ساتھ سرکار کی صورت مبارکہ کو اپنے ذہن و دماغ میں بسانے کی کوشش کرتے اور یہی بات ان کے لیے باعث فخر بھی ہوتی جیسا کہ حضرت ابو طفیل رضی اللّٰہ عنہ کا یہ ارشاد گرامی ہے۔

انہوں نے فرمایا،

’’آج میرے سوا روئے زمین پر کو ئی اور ایسا شخص نہیں ہے جس نے آقا و مولیٰ  کا دیدار کیا ہو ‘‘ ۔ (شمائل ترمذی، ص41، حدیث نمبر: 14)

 

حضرت ابن سعید بن مسیّب رضی اللّٰہ عنہم فرماتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ عنہ جب کسی ایسے شخص سے ملتے جس نے سرکار دو عالم کے حسن و جمال کا دیدار نہ کیا ہوتا آپ اسے فرماتے کہ آؤ میں تمہیں آقا و مولیٰکے حسن و جمال اور حلیہ مبارک کے متعلق بتاؤں پھر حلیہ مبارک بیان فرماکر کہتے، ’’میرے ماں باپ حضور پر قربان ہوں ، میں نے آپ کی مثل نہ پہلے کوئی دیکھا اور نہ آپ کے بعد‘‘۔ (طبقات الکبری،ج3، ص106)

Share:
keyboard_arrow_up