Jamal e Mustafa

Total Pages: 120

Page 23 of 120
آئی جو اُن کی یاد تو آتی چلی گئی
ہر نقشِ ماسوا کو مٹاتی چلی گئی
یہ بھی ناقابلِ انکار حقیقت ہے کہ جیسے جیسے محبوب کی خوبیوں اور کمالات سے آگاہی ہوتی جاتی ہے ، محبت بڑھتی جاتی ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب اسلامی لشکر یمامہ کے سردار ثمامہ کو قیدی بناکر لایا تواسے مسجد نبوی کے ستون سے باندھ دیا گیا۔ روزانہ نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم اس سے گفتگو فرماتے۔
تیسرے دن اسے حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے حکم سے کھول دیا گیا۔ وہ چلا گیا اور غسل کرکے بارگاہ نبوی میں قبول اسلام کے لیے حاضر ہوااور عر ض کی، ’’یارسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم ! اللہ تعالیٰ کی قسم روئے زمین پر پہلے آپ کے چہرے سے بڑھ کر مجھے کوئی شے نا پسند نہ تھی لیکن اب مجھے آپ کے چہرۂ اقدس سے بڑھ کر کوئی شے محبوب نہیں ہے ‘‘۔()
اس حدیث پاک سے معلوم ہواکہ رحمت عالم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے دیدارِ پُر انوار نے اس کے دل کی دنیا ہی بدل ڈالی۔ آج اگر ہم باطنی پاکیز گی حاصل کرکے اپنے دل کی دنیا بدلنا چاہیں اور عظمت رفتہ حاصل کرنا چاہیں توہمیں صحابہ کرام کے ان مقدس ارشادات کو اپنا وظیفہ بناناہوگاجن میں انہوں نے جانِ کائنات صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے حسن وجمال اور فضائل وکمالات کو بیان فرمایا ہے تاکہ عشق رسول صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کاجذبہ بیدار ہواور پھر یہ جذبہ اطاعت رسول صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکاداعی اور محرک بن جائے۔
جواہر البحار میں سید عالم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کاحلیہ مبارکہ ذ کر کرنے کی غرض وغایت یہ بیان کی گئی ہے کہ ’’حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی صور ت مبارکہ کاتصور کرنے اوراس کامسلسل مشاہدہ کرنے سے سعادت کبریٰ بھی نصیب ہوگی اور تمہارے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکے درمیان استمداد کی راہ بھی کھل جائے گی‘‘۔
حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے وصال کے وقت بہت چھوٹا تھا اس لیے میں نے اپنے ماموں حضرت ہند بن ابی ہالہرضی اللہ عنہسے حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے حلیہ مبارک کے متعلق سوال کیا اور میری خواہش تھی کہ وہ آقاکریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکے اوصاف بیان فرمائیں تاکہ ان کے بیان کو میں اپنے لیے سند بناؤ ں۔()
محدث علی قار ی فرماتے ہیں ،’’تاکہ ان اوصاف کے ذریعہ میں آپ سے تعلق مزید مضبوط کرلوں اور انہیں اپنے ذہن وخیال میں محفوظ کرلوں‘‘۔()
معلوم ہواکہ صحابہ کرا م ارشاداتِ رسول صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے ساتھ ساتھ سرکار کی صورت مبارکہ کواپنے ذہن ودماغ میں بسانے کی کوشش کرتے اور یہی بات ان کے لیے باعث فخر بھی ہوتی جیسا کہ حضرت ابو طفیل رضی اللہ عنہ کایہ ارشاد گرامی ہے۔
انہوں نے فرمایا، ’’آج میرے سوا روئے زمین پر کو ئی اور ایسا شخص نہیں ہے جس نے آقا ومولیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کادیدار کیا ہو ‘‘۔()
حضرت ابن سعید بن مسیّب رضی اللہ عنہم فرماتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ جب کسی ایسے شخص سے ملتے جس نے سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکے حسن وجمال کادیدار نہ کیا ہوتا آپ اسے فرماتے کہ آؤ میں تمہیں آقاومولیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے حسن وجمال اور حلیہ مبارک کے متعلق بتاؤں پھر حلیہ مبارک بیان فرماکر کہتے، ’’میرے ماں باپ حضور پر قربان ہوں ، میں نے آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی مثل نہ پہلے کوئی دیکھا اور نہ آپ کے بعد‘‘۔()
Share:
keyboard_arrow_up