شاہ ولی اللہ” الدرُالثمین” میں فرماتے ہیں کہ میرے والد شاہ عبد الرحیم کو خواب میں حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی زیارت نصیب ہوئی۔انہوں نے عرض کی ،
حسنِ یوسف علیہ السلام دیکھ کر مصر کی عورتوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لیے تھے اور بعض انہیں دیکھ کر بیہوش ہوجاتے تھے مگر آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو دیکھ کر ایسی کیفیات کیوں طار ی نہیں ہوئیں؟
ارشاد فرمایا، ’’میرے رب نے غیرت کے باعث میرا حقیقی جمال لوگوں سے مخفی رکھا ، اگر وہ ظاہر کردیا جاتاتو لوگ اس سے بھی زیادہ بیخود ہوجاتے جیسے یوسف علیہ السلام کو دیکھ کر ہواکر تے تھے ‘‘۔
بقول مولانا حسن رضا خاں:
اک جھلک دیکھنے کی تاب نہیں عالم کو
وہ اگر جلوہ کریں کون تماشائی ہو؟
مجد ددین وملت اعلیٰ حضرت محدث بریلوی علیہ الر حمہ فرماتے ہیں :
حسنِ یوسف پہ کٹیں مصر میں انگشتِ زناں
سرکٹاتے ہیں ترے نام پہ مردانِ عرب
احادیث کریمہ میں رحمت عالم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کاجو حلیہ مبارکہ اور اوصافِ جمیلہ بیان ہوئے ہیں، امام قسطلانی ان کے بارے میں فرماتے ہیں ، حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے جو اوصاف مذکور ہیں وہ بطورتمثیل کے ہیں کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی ذات اقدس ان سے کہیں بلند وبالاہے ‘‘۔()
مجد ددین وملت اعلیٰ حضرت امام احمد رضامحدث بریلوی علیہ الر حمہ فرماتے ہیں ،
رُخ دن ہے یا مہرِ سما، یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں
شب زلف یا مشکِ ختا، یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں
بلبل نے گل اُن کو کہا، قمری نے سروِ جاں فزا
حیرت نے جھنجلا کر کہا، یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں
شیخ عبدالحق محدث دہلو ی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں ،’’جس نے بھی حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی تعریف کی ہے اس نے اپنی سمجھ اور عقل وفہم کے مطابق کی ہے اور آپ کی ذاتِ اقدس ہر صاحبِ عقل ودانش کے فہم سے بالا تر ہے ‘‘۔()
یعنی ان تمام بزرگوں نے اوصافِ مصطفی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی ظاہری صورت کو بیان فرمادیا ہے اور ان اوصاف کی حقیقت تو سوائے اللہ عزوجل کے کوئی نہیں جانتا۔
فَاِنَّ فَضْلَ رَسُوْلِ اللّٰہِ لَیْسَ لَہٗ
حَدٌّ فَیُعْرِبَ عَنْہُ نَاطِقٌ بِفَمٖ
’’بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکے فضائل وکمالا ت کی کوئی حد نہیں کہ جو کوئی فصاحت والا اپنے منہ سے بول سکے‘‘۔()
اسی لیے حضرت عمر وبن عاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے آقا ومولیٰصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم سے زیاد ہ کوئی محبوب نہ تھا لیکن آپ کی عظمت وجلا ل کے باعث میں آپ کے چہرۂ اقدس کادیدار نہ کرسکتا تھا۔ اسی لیے اگر کوئی مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے اوصافِ حمید ہ بیان کرنے کے لیے کہتا تو میں کچھ نہ کہہ پاتا کیونکہ میں آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے حسن جہاں تاب کوآنکھ بھر کر دیکھ ہی نہ سکا تھا۔ ()
حضرت خالدبن ولید رضی اللہ عنہ سے جب عرض کی گئی کہ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے اوصاف بیان فرمائیں توانہوں نے معذرت کی پھر اصرار کرنے پر فرمایا، آقاصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم اپنے بھیجنے والے (اللہ تعالیٰ)کی شان کا مظہر ہیں‘‘۔()
سمجھا نہیں ہنوز مرا عشق بے ثبات
تو کائناتِ حسن ہے یا حسنِ کائنات
اک خالقِ جہاں ہے تو اک مالکِ جہاں
اک جانِ کائنات ہے اک وجہِ کائنات
ذکرِ جمالِ مصطفی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم:
سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے حسن وجما ل اور آپ کے حلیہ مبارک کے ذکر سے دلوں میں محبت وعشق کی حرارت پیداہوتی ہے اور جن کے دل محبتِ رسول صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم سے لبر یز ہو چکے ہوں، ان کے لیے یہ ذکر سکونِ دل اور آرام جاں کاباعث ہوتاہے کیونکہ جب عاشقِ صادق اپنے محبوب کے دیدار اور وصال سے محروم ہوتاہے تو محبوب کاتصو ر، اس کی یادیں اور اس کی باتیں ہی دل کو سکون پہنچاتی ہیں۔
Page 22 of 120

