دانائے شیراز،شیخ سعدی علیہ الر حمہ فرماتے ہیں،
اگر نہ واسطہ روئے و موئے او بودے
خدائے نہ گفتے قسم بہ لیل و نہار
’’اگرحضور ﷺ کے چہرۂ انور اور مبارک زلفوں کی بات نہ ہوتی تو اللّٰہ تعالیٰ ہر گز رات اور دن کی قسم ارشاد نہ فرماتا‘‘۔
عارف کامل مولانا جامی رحمۃ اللّٰہ علیہ فرماتے ہیں،
دو چشمِ نرگسینش را کہ مَازَاغَ الْبَصَر خوانند
دو زلفِ عنبر ینش را کہ وَالَّیْلِ اِذَا یَغْشٰی
’’حضور ﷺ کی دونوں نرگسی آنکھیں ایسی خوبصورت ہیں کہ (قرآن میں ان کے بارے میں ) ارشاد ہوا،
’’آنکھ دیدارِ الٰہی سے کسی طر ف نہ پھری ‘‘،
اور آپ کی زلف عنبریں ایسی سیاہ ہیں کہ فرمایا گیا ،
’’رات کی قسم جب چھا جائے ‘‘۔
جار اللّٰہ سمہود ی کے قصیدہ ذوقافیتین کامشہور شعر ملاحظہ فرمائیں،
اَلصُّبْحُ بَدَا مِنْ طَلْعَتِہٖ
وَالَّیْلُ دَجٰی مِنْ وَّفْرَتِہٖ
’’حضورﷺ کے حسن و جمال ہی سے صبح طلوع ہوئی اور آپ کی زلفوں کی سیاہی سے ہی رات چھاگئی ‘‘۔
بے مثال حسن وجمال:
تمام مسلمانوں کا عقید ہ ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ عزوجل نے نبی کریم ﷺ کو اپنے نور کے فیض سے تخلیق فرمایا اور نفسِ بشریت میں اس دنیا میں مبعوث فرمایا۔
آقا و مولیٰ ﷺ اللّٰہ تعالیٰ کی ذات و صفات کے مظہر اور باری تعالیٰ کے نائبِ مطلق ہیں۔ اس بات پر بھی تمام امت کا اتفاق ہے کہ سرکارِ دو عالم نورِ مجسم ﷺ کو اللّٰہ تعالیٰ نے فضل و کمال اور حسن و جمال میں بے مثل و بے مثال پیدا فرمایا ہے۔
سیدنا حسان بن ثابت رضی اللّٰہ عنہ بارگاہِ نبوی میں یوں عرض کرتے ہیں،
وَاَحْسَنَ مِنْکَ لَمْ تَرَقَطُّ عَیْنی
وَاَجْمَلَ مِنْکَ لَمْ تَلِدِ النِّسَاءُ
خُلِقْتَ مُبَرَّأَ مِّنْ کُلِّ عَیْبٍ
کَاَنَّکَ قَدْ خُلِقْتَ کَمَا تَشَاءُ
’’آپ جیسا حسین کسی آنکھ نے دیکھا ہی نہیں اور آپ جیسا خوبصورت کسی ماں نے جنا ہی نہیں۔آپ کو ہر عیب سے ایسے پاک پیدا فرمایا گیا۔ گویا آپ کو آپ کی مرضی کے مطابق پیدا فرمایا گیا ‘‘۔ (دیوان حسان بن ثابت،ص20)
امام قسطلانی مواہب الدنیہ میں فرماتے ہیں،
’’جان لو کہ ایمان کی تکمیل کے لیے یہ عقیدہ ضروری ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کا وجودِ اقدس ایسا حسین و جمیل تخلیق فرمایا ہے کہ آپ سے پہلے نہ کوئی آپ کی مثل تھا اور نہ آپ ﷺ کے بعد کوئی آپ کی مثل ہوگا‘‘۔
یہی بات محدث علی قاری نے جمع الوسائل میں اور حافظ ابن حجر مکی کے حوالے سے علامہ نبہانی علیہم الرحمہ نے جواہر البحار میں بیان فرمائی ہے۔
امام المحدثین شیخ عبدالحق محدث دہلو ی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں ،
’’آقا و مولیٰ ﷺ سر اقدس سے لے کر قدم مبارک تک مجسم نور تھے۔ آپ کے جمالِ باکمال کو دیکھنے سے آنکھیں چندھیا جاتیں، آپ کا جسمِ انور ماہتاب و آفتاب کی طرح روشن تھا۔ اگر حضور ﷺ بشری لباس میں نہ ہوتے تو آپ کی طرف نظر اٹھا کر دیکھنا اور آپ کے حسن و جمال کا ادراک ہرگز ممکن نہ ہوتا‘‘۔ (مدارج النبوۃ،ج1،ص7)
خورشید تھا کس زور پر، کیا بڑھ کے چمکا تھا قمر
بے پردہ جب وہ رُخ ہوا، یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں
امام قرطبی فرماتے ہیں،
’’نبی کریم ﷺ کا حسن و جمال کامل طور پر ظاہر نہیں ہوا کیونکہ اگر آپ کا حسن و جمال کامل طور پر ظاہر ہو جاتا تو آنکھیں آپ ﷺ کے دیدار کی تاب نہ لاسکتیں‘‘۔ (الموھب اللدنیہ،زرقانی،ج6، ص4)

