Jamal e Mustafa

Total Pages: 120

Page 21 of 120
دانائے شیراز،شیخ سعدی علیہ الر حمہ فرماتے ہیں ،
اگر نہ واسطہ روئے و موئے او بودے
خدائے نہ گفتے قسم بہ لیل و نہار
’’اگرحضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے چہرۂ انور اور مبارک زلفوں کی بات نہ ہوتی تو اللہ تعا لیٰ ہر گز رات اور دن کی قسم ارشاد نہ فرماتا‘‘۔
عارف کامل مولانا جامی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ،
دو چشمِ نرگسینش را کہ مَازَاغَ الْبَصَر خوانند
دو زلفِ عنبرینش را کہ وَالَّیْلِ اِذَا یَغْشٰی
’’حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی دونوں نرگسی آنکھیں ایسی خوبصورت ہیں کہ (قرآن میں ان کے بارے میں ) ارشاد ہوا، ’’آنکھ (دیدارِ الٰہی سے ) کسی طر ف نہ پھری ‘‘،اور آپ کی زلف عنبریں ایسی سیاہ ہیں کہ فرمایاگیا ، ’’رات کی قسم جب چھاجائے ‘‘۔
جار اللہ سمہود ی کے قصید ہ ذوقافیتین کامشہور شعر ملاحظہ فرمائیں ،
اَلصُّبْحُ بَدَا مِنْ طَلْعَتِہٖ
وَالَّیْلُ دَجٰی مِنْ وَّفْرَتِہٖ
’’حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے حسن وجمال ہی سے صبح طلوع ہوئی اور آپ کی زلفوں کی سیاہی سے ہی رات چھاگئی ‘‘۔
بے مثال حسن وجمال :
تمام مسلمانوں کاعقید ہ ہے کہ اللہ تعالیٰ عزوجل نے نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکو اپنے نور کے فیض سے تخلیق فرمایا اور نفسِ بشریت میں اس دنیا میں مبعوث فرمایا۔ آقاو مولیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات کے مظہر اور باری تعالیٰ کے نائب ِ مطلق ہیں۔اس بات پر بھی تمام امت کا اتفاق ہے کہ سرکارِ دوعالم نورِ مجسم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکو اللہ تعالیٰ نے فضل وکمال اور حسن وجمال میں بے مثل وبے مثال پیدا فرمایا ہے۔
سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ بارگا ہ نبوی میں یوں عر ض کرتے ہیں،
وَاَحْسَنَ مِنْکَ لَمْ تَرَقَطُّ عَیْنی
وَاَجْمَلَ مِنْکَ لَمْ تَلِدِ النِّسَاءُ
خُلِقْتَ مُبَرَّأَ مِّنْ کُلِّ عَیْبٍ
کَاَنَّکَ قَدْ خُلِقْتَ کَمَا تَشَاءُ
’’آپ جیسا حسین کسی آنکھ نے دیکھا ہی نہیں اور آپ جیسا خوبصورت کسی ماں نے جنا ہی نہیں۔آپ کو ہر عیب سے ایسے پاک پیدا فرمایا گیا۔ گویاآپ کو آپ کی مر ضی کے مطابق پیدا فرمایا گیا ‘‘۔()
امام قسطلانی مواہب الدنیہ میں فرماتے ہیں ،’’جان لو کہ ایمان کی تکمیل کے لیے یہ عقیدہ ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا وجود ِاقدس ایسا حسین وجمیل تخلیق فرمایا ہے کہ آپ سے پہلے نہ کوئی آپ کی مثل تھا اور نہ آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے بعد کوئی آپ کی مثل ہوگا‘‘۔
یہی بات محدث علی قاری نے جمع الوسائل میں اور حافظ ابن حجر مکی کے حوالے سے علامہ نبہانی علیہم الرحمہ نے جواہر البحار میں بیان فرمائی ہے۔
امام المحدثین شیخ عبدالحق محدث دہلو ی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں ،
’’آقاومولیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمسراقدس سے لے کر قدم مبارک تک مجسم نور تھے۔ آپ کے جمالِ باکمال کو دیکھنے سے آنکھیں چند ھیا جاتیں، آپ کا جسمِ انور ماہتاب و آفتاب کی طرح روشن تھا۔ اگر حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم بشری لباس میں نہ ہوتے تو آپ کی طرف نظر اٹھا کر دیکھنا اور آپ کے حسن وجمال کا ادراک ہرگز ممکن نہ ہوتا‘‘۔()
خورشید تھا کس زور پر، کیا بڑھ کے چمکا تھا قمر
بے پردہ جب وہ رُخ ہوا، یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں
امام قرطبی فرماتے ہیں ’’نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کاحسن وجمال کامل طورپر ظاہر نہیں ہو اکیونکہ اگر آپ کا حسن وجمال کامل طور پر ظاہر ہو جاتا تو آنکھیں آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے دیدار کی تاب نہ لاسکتیں‘‘۔()
Share:
keyboard_arrow_up