Jamal e Mustafa

Total Pages: 120

Page 20 of 120
مجد دِدین وملت، امام اہلسنّت، اعلیٰ حضرت علیہ الر حمہ فرماتے ہیں ،
ممکن میں یہ قدرت کہاں واجب میں عبدیت کہاں
حیراں ہوں یہ بھی ہے خطا، یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں
حق یہ کہ ہیں عبد اِلٰہ اور عالمِ امکاں کے شاہ
برزخ ہیں وہ سرِّ خدا، یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں
امام ابن حجر مکی شافعی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں ،’’سید عالم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے فضائل وشمائل کا شمار اور بیان ناممکن ہے پس اے حضور کی تعریف کرنے والے ! تو آپ کی تعریف میں جتنا بھی مبالغہ کرلے آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے حقیقی مقام کو اور اوصافِ حمید ہ کو احاطہ نہیں کر سکتا، کہاں آسمان اور کہاں پکڑنے والا ہاتھ !‘‘۔ ()
یَا صَاحِبَ الْجَمَالِ وَ یَا سَیِّدَ الْبَشَر
مِنْ وَّجْھِکَ الْمُنِیْرِ لَقَدْ نُوِّرَ الْقَمَر
لاَ یُمْکِنُ الثَّنَاءُ کَمَا کَانَ حَقُّہٗ
بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر
’’اے صاحبِ حسن وجمال ، اے سردار ِکائنات !آپ کے چہرہ ٔ انور سے ہی چاند نے نور حاصل کیا ہے۔ آپ کی تعریف کا حق اداکرناممکن ہی نہیں ، مختصر یہ کہ اللہ تعالیٰ کے بعد ہر کما ل و بزرگی آپ ہی کے لیے ہے‘‘۔
ہے کلامِ الٰہی میں شمس وضحی :
ایک مرتبہ ایسا اتفاق ہو اکہ چند روز وحی نہ آئی تو کفار نے طعنہ دیتے ہوئے کہا کہ ’’محمد (صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم)کو ان کے رب نے چھوڑدیا اور مکر وہ جا نا ‘‘۔ یہ سن کر آپ کی طبیعت مبارکہ میں بتقاضائے بشریت کچھ ملال ساپیداہوا ، اس پر سورہ والضحٰی نازل ہوئی۔ ارشادِ ہوا ،
’’چاشت (کی طرح چمکتے ہوئے چہرے ) کی قسم اوررات (کی مانند شانوں کو چھوتی ہوئی زلفوں)کی جب پردہ ڈالے کہ تمہیں تمہارے رب نے نہ چھوڑا اور نہ مکرو ہ جانا۔اور بے شک پچھلی تمہارے لیے پہلی سے بہتر ہے، اور بیشک قریب ہے کہ تمہارا رب تمہیں اتنا دے گا کہ تم راضی ہو جاؤ گے‘‘۔()
صد رُالافاضل شیخ التفسیر مولانا سیدمحمد نعیم الدین مراد آبادی تفسیر خزائن العرفان میں فرماتے ہیں ، ’’بعض مفسرین نے فرمایا، چاشت سے اشارہ ہے نور ِجمالِ مصطفی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی طرف اور شب کنا یہ ہے آپ کے گیسو ئے عنبریں سے‘‘۔()
علامہ اسماعیل حقی نے تفسیر روح البیان میں، علامہ نیشاپور ی نے اپنی تفسیر میں، قاضی عیاض مالکی نے کتاب الشفا میں اور امام زرقانی علیہم الرحمہ نے شرح مواہب میں یہی مفہوم بیان فرمایا ہے۔
محدث علی قاری شرح شفامیں فرماتے ہیں،’’یہ سورت جس مقصد کے لیے نازل ہوئی اس کا تقا ضا یہ ہے کہ یہ کہا جائے کہ ضحی سے حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا چہر ۂ انور اورلیل سے آپ کی مبارک زلفیں مراد ہیں۔()
امام رازی نے تفسیر کبیر میں اس قول کو ذکر کیا ہے اور فرمایا ہے کہ یہ معنیٰ لینے میں کوئی حرج نہیں ‘‘۔()
شاہ عبد العزیز محدث دہلو ی نے بھی تفسیر عزیزی میں اکابرمفسرین کایہ قول بیان کیا ہے کہ ’’ضحی سے سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا ر خِ انور اورلیل سے آپ کی زلفِ عنبریں مراد ہیں‘‘۔()
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں ،
ہے کلامِ الٰہی میں شمس و ضحی تیرے چہرۂ نور فزا کی قسم
قسم شبِ تار میں راز یہ تھا کہ حبیب کی زلفِ دوتا کی قسم
علامہ سید عمر آفند ی خر پوتی قصیدہ بردہ شریف کی شرح میں فرماتے ہیں،
’’ضحی سے نور مجسم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا چہرۂ انور مراد ہے اور لیل سے گیسوئے محبوب صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم۔ اور اس پر حضرت انسرضی اللہ عنہ سے مرو ی یہ حدیث کافی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا، کوئی نبی مبعوث نہیں ہو امگر خوبصورت چہرے اور دلکش آواز والا ،اور تمہارے نبی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم سب سے زیادہ حسین اور سب سے زیادہ دلکش آواز والے ہیں‘‘۔()
Share:
keyboard_arrow_up