مجد دِدین و ملت، امام اہلسنّت، اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ فرماتے ہیں،
ممکن میں یہ قدرت کہاں واجب میں عبدیت کہاں
حیراں ہوں یہ بھی ہے خطا، یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں
حق یہ کہ ہیں عبد اِلٰہ اور عالمِ امکاں کے شاہ
برزخ ہیں وہ سرِّ خدا، یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں
امام ابن حجر مکی شافعی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں،
’’سید عالم ﷺ کے فضائل و شمائل کا شمار اور بیان نا ممکن ہے پس اے حضور کی تعریف کرنے والے ! تو آپ کی تعریف میں جتنا بھی مبالغہ کرلے آپ ﷺ کے حقیقی مقام کو اور اوصافِ حمید ہ کو احاطہ نہیں کر سکتا، کہاں آسمان اور کہاں پکڑنے والا ہاتھ !‘‘۔ (جواہر البحار،ج3،ص350،351)
یَا صَاحِبَ الْجَمَالِ وَ یَا سَیِّدَ الْبَشَر
مِنْ وَّجْھِکَ الْمُنِیْرِ لَقَدْ نُوِّرَ الْقَمَر
لاَ یُمْکِنُ الثَّنَاءُ کَمَا کَانَ حَقُّہٗ
بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر
’’اے صاحبِ حسن وجمال، اے سردارِ کائنات! آپ کے چہرہ ٔ انور سے ہی چاند نے نور حاصل کیا ہے۔ آپ کی تعریف کا حق ادا کرنا ممکن ہی نہیں، مختصر یہ کہ اللّٰہ تعالیٰ کے بعد ہر کمال و بزرگی آپ ہی کے لیے ہے‘‘۔
ہے کلامِ الٰہی میں شمس وضحی :
ایک مرتبہ ایسا اتفاق ہوا کہ چند روز وحی نہ آئی تو کفار نے طعنہ دیتے ہوئے کہا کہ ’’محمد ﷺ کو ان کے رب نے چھوڑدیا اور مکر وہ جانا ‘‘۔ یہ سن کر آپ کی طبیعت مبارکہ میں بتقاضائے بشریت کچھ ملال سا پیدا ہوا ، اس پر سورہ والضحٰی نازل ہوئی۔
ارشادِ ہوا ،
’’چاشت (کی طرح چمکتے ہوئے چہرے ) کی قسم اور رات (کی مانند شانوں کو چھوتی ہوئی زلفوں)کی جب پردہ ڈالے کہ تمہیں تمہارے رب نے نہ چھوڑا اور نہ مکروہ جانا۔ اور بے شک پچھلی تمہارے لیے پہلی سے بہتر ہے، اور بیشک قریب ہے کہ تمہارا رب تمہیں اتنا دے گا کہ تم راضی ہو جاؤ گے‘‘۔
(پارہ نمبر:30، سورۃالضحیٰ، آیت نمبر:1،5)
صدرُالافاضل شیخ التفسیر مولانا سید محمد نعیم الدین مراد آبادی تفسیر خزائن العرفان میں فرماتے ہیں،’’بعض مفسرین نے فرمایا،
چاشت سے اشارہ ہے نورِ جمالِ مصطفی ﷺ کی طرف اور شب کنایہ ہے آپ کے گیسو ئے عنبریں سے‘‘۔ (خزائن العرفان،پارہ نمبر:30،سورۃالضحیٰ، آیت نمبر:1،5)
علامہ اسماعیل حقی نے تفسیر روح البیان میں، علامہ نیشاپور ی نے اپنی تفسیر میں، قاضی عیاض مالکی نے کتاب الشفا میں اور امام زرقانی علیہم الرحمہ نے شرح مواہب میں یہی مفہوم بیان فرمایا ہے۔ محدث علی قاری شرح شفا میں فرماتے ہیں،
’’یہ سورت جس مقصد کے لیے نازل ہوئی اس کا تقاضا یہ ہے کہ یہ کہا جائے کہ ضحی سے حضور ﷺ کا چہر ۂ انور اور لیل سے آپ کی مبارک زلفیں مراد ہیں۔ (شرح الشفا،ج1،ص92)
امام رازی نے تفسیر کبیر میں اس قول کو ذکر کیا ہے اور فرمایا ہے کہ یہ معنیٰ لینے میں کوئی حرج نہیں ‘‘۔ (تفسیر طبریٰ،ج24، ص482)
شاہ عبد العزیز محدث دہلو ی نے بھی تفسیر عزیزی میں اکابر مفسرین کا یہ قول بیان کیا ہے کہ
’’ضحی سے سرکار دو عالم ﷺ کا رخِ انور اور لیل سے آپ کی زلفِ عنبریں مراد ہیں‘‘۔ (تفسیر عزیزی،ج4، ص411)
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں،
ہے کلامِ الٰہی میں شمس و ضحی تیرے چہرۂ نور فزا کی قسم
قسم شبِ تار میں راز یہ تھا کہ حبیب کی زلفِ دوتا کی قسم
علامہ سید عمر آفندی خرپوتی قصیدہ بردہ شریف کی شرح میں فرماتے ہیں،
’’ضحی سے نور مجسم ﷺ کا چہرۂ انور مراد ہے اور لیل سے گیسوئے محبوب ﷺ ۔
اور اس پر حضرت انس رضی اللّٰہ عنہ سے مرو ی یہ حدیث کافی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا،
کوئی نبی مبعوث نہیں ہوا مگر خوبصورت چہرے اور دلکش آواز والا ،اور تمہارے نبی ﷺ سب سے زیادہ حسین اور سب سے زیادہ دلکش آواز والے ہیں‘‘۔ (قصیدہ شہید،ص190)

