Jamal e Mustafa

Total Pages: 118

Page 19 of 118

آقا و مولیٰ نورِ مجسم کا فرمانِ عالی شان ہے،

’’جس نے مجھے دیکھا اس نے حق دیکھا‘‘۔ (بخاری،ج1،ص52،حدیث نمبر:110)

 

شارحین اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں کہ:

’’جس  نے مجھے دیکھا اس نے اللّٰہ تعالیٰ کا دید ار کیا ‘‘۔ (فیض القدیر،ج6،ص171)

 

اعلیٰ حضرت محدث بریلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں،

مَنْ رَاٰنِیْ قَدْ رَایَٔ الْحَقْ جو کہے

کیا بیاں اس کی حقیقت کیجیے

 

امام قسطلانی علیہ الرحمہ نے مواہب الد نیہ میں یہ حدیث پاک بیان فرمائی ہے،

اَنَا مِرْاٰۃُ جَمَالِ الْحَق

یعنی ’’میں حق تعالیٰ کے جمال کا آئینہ ہوں ‘‘۔

 

امام اجل شیخ عبدالحق محدث دہلوی فرماتے ہیں،

’’حضور  کاچہرۂ انور اللّٰہ تعالیٰ کے جمال کا آئینہ اور لا محدود و لامتناہی انوارِ الٰہی کا مظہر ہے‘‘۔ (مدارج النبوۃ،ج1،ص15)

 

حق را بچشم اگرچہ ندیدند لیکنش

از  دیدن   جمالِ    محمد  شناختند

 

’’اگر چہ اللّٰہ تعالیٰ کو کسی نے اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا لیکن اُس ذاتِ اقدس کو حضور کے حسن و جمال سے پہچان لیا ہے‘‘۔

امام ربانی مجد دالف ثانی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں ،

’’حقیقت محمدی  ظہور اول اور تمام حقائق کی اصل حقیقت ہے۔

نبی کریم  نے فرمایا،

اَوَّلُ مَاخَلَقَ اللہُ نُوْرِیْ

’’اللّٰہ تعالیٰ نے سب سے پہلے میرے نور کو پیدا فرمایا ‘‘۔

 

یہ بھی ارشادِ گرامی ہے کہ:

مجھے اللّٰہ تعالیٰ کے نور سے پیدا فرمایا گیا اور تمام ایمان والے میرے نور سے پیدا کیے گئے ‘‘۔

(مکتوبات دفتر، سوم حصہ نہم مکتوب،ص122)

 

امام بوصیری علیہ الرحمہ قصیدہ بردہ شریف میں فرماتے ہیں،

اَعْیَ الْوَرٰی فَھْمُ مَعْنَاہُ فَلَیْسَ یُرٰی

لِلْقُرْبِ وَاْلبُعْدِ مِنْہُ غَیْرُ مُنْفَحِمٖ

یعنی ’’ آپ کی حقیقت سمجھنے سے تمام مخلوق عاجز ہے اور ہر دور و نزدیک آپ  کے حقیقی کمالات بیان کرنے سے قاصر ہے ‘‘۔

 

بعض لوگ اہلِ سنّت پرشانِ رسالت میں غلو کرنے کا الزام لگا تے ہیں جو کہ صریح بہتان ہے۔ اکابرین امت کے اقوال پہلے بھی پیش کیے گئے، مزید دلائل ملا حظہ فرمانے سے قبل یہ جان لیجیے کہ غلو کیا ہے ؟

 

مفسر قرآن، قاضی ثناء اللّٰہ پانی پتی فرماتے ہیں،

’’غلو سے مراد حدود سے آگے بڑھنا ہے خواہ زیادتی کی صورت میں یا کمی کی صورت میں ‘‘ یعنی افراط وتفریط دونوں نا جائز ہیں۔

 

نبی کریم  کے فضائل و کمالات کا انکار کرنا تفریط اور آپ کو نعوذ باللّٰہ خدایا خداکا بیٹا کہنا افراط ہے اور ان دونوں سے بچنا صراط مستقیم ہے۔

 

بقول مولا نا حسن رضا بریلوی رحمہ اللّٰہ،

 

حسنؔ سنی ہے افراط اور تفریط اس سے کیونکر ہو

ادب  کے  ساتھ  رہتی  ہے  روش  اربابِ  سنت  کی

 

شیخ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں،

’’آقا و مولیٰ کی تعریف میں مبالغہ ممکن نہیں کیونکہ جو وصف بھی آپ کے لیے ثابت کیا جائے گا وہ آپ کے حقیقی اعلیٰ مقام کے سامنے ہیچ ہوگا ، پس آقا و مولیٰ  کی شا ن میں مبالغہ یہی ہے کہ آپ  کے لیے صفت اُلوہیت بیا ن کی جائے اور یہ یقیناً منع ہے ‘‘۔

(اشعۃ اللعلمات، کتاب الایمان، الفصل الاول، ج1،ص43)

 

دَعْ مَا اَدَّعَتْہُ النَّصَارٰی فِیْ نَبِیِّھِمِ

وَاحْکُمْ بِمَا شِئْتَ مَدْحًا فِیْہِ وَاحْتَکِمِ

’’جو کچھ نصاری نے اپنے نبی کی شان میں کہا وہ چھوڑ، اور اس کے سوا جو کچھ آپ کی تعریف میں کہنا چاہے حکم لگا کر اور فیصلہ کر کے کہہ دے ‘‘۔

(قصیدہ بردۃ،ص5)

Share:
keyboard_arrow_up