Jamal e Mustafa

Total Pages: 120

Page 19 of 120
آقا ومولیٰ نورِ مجسم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا فرمانِ عالی شان ہے ،’’جس نے مجھے دیکھا اس نے حق دیکھا‘‘۔()
شارحین اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں کہ’’ جس نے مجھے دیکھا اس نے اللہ تعالیٰ کا دید ار کیا ‘‘۔()
اعلیٰ حضرت محدث بریلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں ،
مَنْ رَاٰنِیْ قَدْ رَایَٔ الْحَقْ جو کہے
کیا بیاں اس کی حقیقت کیجیے
امام قسطلانی علیہ الرحمہ نے مواہب الد نیہ میں یہ حدیث پاک بیان فرمائی ہے،
اَنَا مِرْاٰۃُ جَمَالِ الْحَق یعنی ’’میں حق تعالیٰ کے جمال کاآئینہ ہوں ‘‘۔
امام اجل شیخ عبدالحق محدث دہلوی فرماتے ہیں ،
’’حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کاچہرۂ انوراللہ تعالیٰ کے جمال کا آئینہ اور لا محدود ولامتنا ہی انوارِ الٰہی کامظہرہے‘‘۔()
حق را بچشم اگرچہ ندیدند لیکنش
از دیدن جمالِ محمد شناختند
’’اگر چہ اللہ تعالیٰ کو کسی نے اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا لیکن اُس ذاتِ اقدس کو حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے حسن وجمال سے پہچان لیاہے‘‘۔
امام ربانی مجد دالف ثانی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں ،’’حقیقت محمدی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم ظہور اول اور تمام حقائق کی اصل حقیقت ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا، اَوَّلُ مَاخَلَقَ اللہُ نُوْرِیْ ’’اللہ تعا لیٰ نے سب سے پہلے میرے نور کو پیدافرمایا ‘‘۔
یہ بھی ارشادِ گرامی ہے کہ مجھے اللہ تعا لیٰ کے نور سے پیدافرمایا گیا اور تمام ایمان والے میرے نور سے پیدا کیے گئے ‘‘۔()
امام بوصیری علیہ الرحمہ قصیدہ بردہ شریف میں فرماتے ہیں ،
اَعْیَ الْوَرٰی فَھْمُ مَعْنَاہُ فَلَیْسَ یُرٰی
لِلْقُرْبِ وَاْلبُعْدِ مِنْہُ غَیْرُ مُنْفَحِمٖ
یعنی ’’ آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکی حقیقت سمجھنے سے تمام مخلوق عاجز ہے اور ہر دور ونزدیک آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکے حقیقی کمالات بیان کرنے سے قاصر ہے ‘‘۔
بعض لوگ اہلِ سنّت پرشانِ رسالت میں غلو کرنے کا الزام لگا تے ہیں جو کہ صریح بہتان ہے۔ اکابرین امت کے اقوال پہلے بھی پیش کیے گئے، مزید دلائل ملا حظہ فرمانے سے قبل یہ جان لیجیے کہ غلوکیاہے ؟
مفسر قرآن،قاضی ثناء اللہ پانی پتی فرماتے ہیں ،’’غلو سے مراد حدود سے آگے بڑھنا ہے خواہ زیادتی کی صورت میں یا کمی کی صورت میں ‘‘ یعنی افراط وتفریط دونوں ناجائز ہیں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے فضائل وکمالات کا انکار کرنا تفریط اور آپ کو نعوذ با للہ خدایا خداکا بیٹا کہنا افراط ہے اور ان دونوں سے بچنا صراط مستقیم ہے۔ بقول مولا نا حسن رضا بریلوی رحمہ اللہ ،
حسنؔ سنی ہے افراط اور تفریط اس سے کیونکر ہو
ادب کے ساتھ رہتی ہے روش اربابِ سنت کی
شیخ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں ،’’آقا و مولیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی تعریف میں مبالغہ ممکن نہیں کیونکہ جو وصف بھی آپ کے لیے ثابت کیا جائے گا وہ آپ کے حقیقی اعلیٰ مقام کے سامنے ہیچ ہوگا ،پس آقاومولیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی شا ن میں مبالغہ یہی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے لیے صفت اُلوہیت بیا ن کی جائے اور یہ یقیناً منع ہے ‘‘۔()
دَعْ مَا اَدَّعَتْہُ النَّصَارٰی فِیْ نَبِیِّھِمِ
وَاحْکُمْ بِمَا شِئْتَ مَدْحًا فِیْہِ وَاحْتَکِمِ
’’جو کچھ نصاری نے اپنے نبی کی شان میں کہا و ہ چھوڑ، اور اس کے سوا جو کچھ آپ کی تعریف میں کہنا چاہے حکم لگا کر اور فیصلہ کر کے کہہ دے ‘‘۔()
Share:
keyboard_arrow_up