Jamal e Mustafa

Total Pages: 120

Page 18 of 120
اس قصیدے میں یہ شعر بھی تھا،
اِنَّ الرَّسُوْلَ لَنُوْرٌ یُسْتَضَائُ بِہٖ
مُھَنَّدٌ مِنْ سُیُوْفُ اللّٰہِ مَسْلُوْلٌ
’’بیشک رسول صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم ایسا نور ہیں جن سے روشنی حاصل کی جاتی ہے ، وہ اللہ کی تلواروں میں سے ایک بے نیام تلوار ہیں ‘‘۔()
سورۃ النور میں فرمایاگیا ہے، ’’اللہ نور ہے آسما نوں اور زمین کا،اُس کے نور کی مثال ایک طاق کی اس میں چراغ ہے، وہ چراغ ایک فانوس میں ہے‘‘۔ ()
حضرت کعب الاحبار اور حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہما اس کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ ’’اس آیت میں دوسرے لفظ نور سے مرا د حضرت محمد صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم ہیں اور ارشادِ باری تعالیٰ ’’مثل نورہ‘‘یعنی اس کے نور کی مثال سے حضرت محمد صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے نورکی مثال مراد ہے‘‘۔()
تفسیر مظہری میں اس آیت کے تحت مذکورہے کہ حضرت کعب الاحباررضی اللہ عنہ نے سید نا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہماکی خدمت میں بیان کیا کہ’’اس کے نور کی مثال سے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے نور کی مثال مرادہے۔ مشکوٰۃ یعنی طاق سے مراد حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کاسینۂ اقدس ہے، زجاجہ یعنی فانوس سے مراد قلبِ انور ہے اور مصباح یعنی چراغ سے مراد نبوت ہے‘‘۔
تفسیر کبیر میں حضرت سہل بن عبداللہ کاقول بیان کیاگیا ہے کہ مصباح سے مراد قلب اقدس اور زجاجہ سے مراد سینہ مبارک ہے۔()
مجد دِدین وملت اعلیٰ حضر ت فرماتے ہیں ،
شمع دل، مشکوٰۃ تن، سینہ زُجاجہ نور کا
تیری صورت کے لیے آیا ہے سورہ نور کا
میں گدا تو بادشاہ بھر دے پیالہ نور کا
نور دن دونا ترا، دے ڈال صدقہ نور کا
حقیقتِ مصطفی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم :
ارشادِ باری تعالیٰ ہے،’’اور بیشک پچھلی (یعنی ہر آنے والی گھڑی) تمہارے لیے پہلی سے بہتر ہے‘‘۔()
تفسیر خزائن العر فا ن میں ہے، ’’گویا کہ حق تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ وہ روز بروز آپ کے درجے بلند کرے گا،اور عزت پر عزت اور منصب پر منصب زیادہ فرمائے گا اور ساعت بہ ساعت آپ کے مراتب ترقی کرتے رہیں گے‘‘۔()
امام قاضی عیاض علیہ الرحمہ شفاشریف میں فرماتے ہیں ،
’’رسول معظم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمپر اللہ تعالیٰ کاجو فضل وکرم ہے اورجو کمالات آپ کو عطافرمائے گئے ہیں، عقلیں ان کو سمجھنے سے اور زبانیں انہیں بیان کرنے سے قاصر ہیں ‘‘۔
امام قسطلانی مواہب اللدنیہ میں، امام شعرانی کشف الغمہ میں ، شیخ عبدالحق محدث دہلوی اشعۃ اللمعات میں اورمحدث علی قار ی حنفی علیہم الرحمہ مرقاۃ شرح مشکوٰ ۃ میں فرماتے ہیں کہ: ’’آقا ئے دوجہاں صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی ذاتِ اقدس کے فضائل وکمالا ت اتنے زیاد ہ ہیں کہ انہیں شمار نہیں کیاجاسکتا ‘‘۔
امام نبہانی فرماتے ہیں، ’’حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی حقیقت کو کماحقہ سوائے اللہ تعالیٰ کے کوئی نہیں جانتا جیسا کہ آقاو مولیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے سیدنا ابوبکررضی اللہ عنہ سے فرمایا، ’’ قسم ہے اس ذات کی جس نے مجھے حق کے ساتھ مبعوث فرمایا، میری حقیقت کو سوائے میرے رب کے کسی نے بھی کماحقہ نہ جانا‘‘۔()
اسی لیے سیدالتا بعین اویس قرنی رضی اللہ عنہ نے فرمایاکہ صحابہ کرام نے نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا صرف عکس دیکھا تھا وہ آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی حقیقت کو نہ پاسکے۔
آپ سے پوچھا گیا، کیا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بھی نہیں دیکھا ؟ فرمایا، ہاں انہوں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو کماحقہ نہیں دیکھا‘‘۔()
Share:
keyboard_arrow_up