Jamal e Mustafa

Total Pages: 118

Page 18 of 118

تفسیر مظہری میں ہے کہ:

’’ حضور  اپنے قلب انور اور جسم منور کی وجہ سے سراج منیر تھے۔ ایمان والے اس آفتاب کے رنگ میں رنگ جاتے ہیں اور اس کے انوار سے نورانی ہوجاتے ہیں ‘‘۔

حضرت کعب بن زہیر رضی اللّٰہ عنہ نے بارگاہ رسالت میں اپنا قصیدہ ’’بانت سعاد‘‘پیش کیا اور سرکار دو عالم نے خوش ہو کر انہیں اپنی چادر مبارک عطافرمائی۔

اس قصیدے میں یہ شعر بھی تھا،

اِنَّ      الرَّسُوْلَ       لَنُوْرٌ            یُسْتَضَائُ          بِہٖ

مُھَنَّدٌ     مِنْ           سُیُوْفُ     اللّٰہِ          مَسْلُوْلٌ

’’بیشک رسول ایسا نور ہیں جن سے روشنی حاصل کی جاتی ہے ، وہ اللّٰہ کی تلواروں میں سے ایک بے نیام تلوار ہیں ‘‘۔ (سیرۃ النبویہ،ج3،ص706)

 

سورۃ النور میں فرمایاگیا ہے،

’’ اللّٰہ نور ہے آسما نوں اور زمین کا،اُس کے نور کی مثال ایک طاق کی اس میں چراغ ہے، وہ چراغ ایک فانوس میں ہے‘‘۔  (پارہ نمبر:18،سورۃالنور،آیت نمبر:35)

 

حضرت کعب الاحبار اور حضرت سعید بن جبیر رضی اللّٰہ عنہما اس کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ:

’’اس آیت میں دوسرے لفظ نور سے مراد حضرت  ہیں اور ارشادِ باری تعالیٰ ’’مثل نورہ‘‘یعنی اس کے نور کی مثال سے حضرت محمد  کے نور کی مثال مراد ہے‘‘۔ (کتاب الشفا،ج1ص17)

 

تفسیر مظہری میں اس آیت کے تحت مذکورہے کہ حضرت کعب الاحبار رضی اللّٰہ عنہ نے سیدنا عبد اللّٰہ بن عباس رضی اللّٰہ عنہما کی خدمت میں بیان کیا کہ:

’’اس کے نور کی مثال سے سیدنا محمد  کے نور کی مثال مرادہے۔ مشکوٰۃ یعنی طاق سے مراد حضور  کاسینۂ اقدس ہے، زجاجہ یعنی فانوس سے مراد قلبِ انور ہے اور مصباح یعنی چراغ سے مراد نبوت ہے‘‘۔

تفسیر کبیر میں حضرت سہل بن عبداللّٰہ کاقول بیان کیاگیا ہے کہ:

مصباح سے مراد قلب اقدس اور زجاجہ سے مراد سینہ مبارک ہے۔

(تفسیر طبرٰی،ج19،ص178)

 

مجد دِدین و ملت اعلیٰ حضر ت فرماتے ہیں،

شمع دل، مشکوٰۃ تن، سینہ زُجاجہ نور کا

تیری صورت کے لیے آیا ہے سورہ نور کا

میں گدا تو بادشاہ بھر دے پیالہ نور کا

نور دن دونا ترا، دے ڈال صدقہ نور کا

 

حقیقتِ مصطفی :

ارشادِ باری تعالیٰ ہے،

’’اور بیشک پچھلی (یعنی ہر آنے والی گھڑی) تمہارے لیے پہلی سے بہتر ہے‘‘۔

(پارہ نمبر:30،سورۃالضحیٰ،آیت نمبر:4)

 

تفسیر خزائن العرفان میں ہے،

’’گویا کہ حق تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ وہ روز بروز آپ کے درجے بلند کرے گا،اور عزت پر عزت اور منصب پر منصب زیادہ فرمائے گا اور ساعت بہ ساعت آپ کے مراتب ترقی کرتے رہیں گے‘‘۔ (خزائن العرفان، پارہ نمبر:30،سورۃالضحیٰ،آیت نمبر:4)

 

امام قاضی عیاض علیہ الرحمہ شفا شریف میں فرماتے ہیں،

’’رسول معظم ﷺ   پر اللّٰہ تعالیٰ کاجو فضل و کرم ہے اور جو کمالات آپ کو عطا فرمائے گئے ہیں، عقلیں ان کو سمجھنے سے اور زبانیں انہیں بیان کرنے سے قاصر ہیں ‘‘۔

امام قسطلانی مواہب اللدنیہ میں، امام شعرانی کشف الغمہ میں، شیخ عبدالحق محدث دہلوی اشعۃ اللمعات میں اور محدث علی قار ی حنفی علیہم الرحمہ مرقاۃ شرح مشکوٰۃ میں فرماتے ہیں کہ:

’’ آقائے دو جہاں کی ذاتِ اقدس کے فضائل و کمالا ت اتنے زیادہ ہیں کہ انہیں شمار نہیں کیا جا سکتا ‘‘۔

 

امام نبہانی فرماتے ہیں،

’’حضور کی حقیقت کو کما حقہ سوائے اللّٰہ تعالیٰ کے کوئی نہیں جانتا جیسا کہ آقا و مولیٰ  نے سیدنا ابوبکر رضی اللّٰہ عنہ سے فرمایا، ’’ قسم ہے اس ذات کی جس نے مجھے حق کے ساتھ مبعوث فرمایا، میری حقیقت کو سوائے میرے رب کے کسی نے بھی کما حقہ نہ جانا‘‘۔ (مطالع المسرات،ص129)

 

اسی لیے سید التابعین اویس قرنی رضی اللّٰہ عنہ نے فرمایا کہ:

صحابہ کرام  نے نبی کریم  کا صرف عکس دیکھا تھا وہ آپ  کی حقیقت کو نہ پا سکے۔ آپ سے پوچھا گیا، کیا ابوبکر صدیق رضی اللّٰہ عنہ نے بھی نہیں دیکھا ؟ فرمایا، ہاں انہوں نے بھی آپ  کو کما حقہ نہیں دیکھا‘‘۔

(حجۃ اللّٰہ علی العالمین)

Share:
keyboard_arrow_up