علامہ صاوی رقم طراز ہیں ،’’نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو نور اس لیے فرمایا گیا کیونکہ آپ بصارتوں کو نورانی بناتے ہیں اور کامیابی کی طرف ہدایت دیتے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم ہرحسی اور معنو ی نور کی اصل ہیں‘‘۔()
امام ابن جریر فرماتے ہیں،’’حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نور ہیں اُس کے لیے جو اس نور سے اپنا دل منور کرنا چاہے‘‘۔()
آنکھ والا ترے جلوے کا نظارہ دیکھے
دیدۂ کور کو کیا آئے نظر، کیا دیکھے
امام احمدرضامحدث بریلو ی قدس سر ہ فرماتے ہیں کہ ’’امام مالکرضی اللہ عنہ کے شاگرد، امام احمد بن حنبلرضی اللہ عنہکے استاذ اور امام بخاری وامام مسلم کے استاذ الاستاذ حافظ الحدیث امام عبد الرزاق ابوبکر بن ہمام نے اپنی مصنف میں سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ وہ فرماتے ہیں، میں نے عرض کی، یارسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم! میرے ماں باپ حضور پر قربان! مجھے بتادیجیے کہ سب سے پہلے اللہ عزوجل نے کیا چیز بنائی؟
ارشاد فرمایا، اے جابر!بے شک اللہ نے تمام مخلوق سے پہلے تیرے نبی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکانور اپنے نور (کے فیض ) سے پیدافرمایا پھر وہ نور جہاں خدانے چاہا سیر کرتا رہا ، اُس وقت لوح، قلم ، جنت ، دوزخ، فرشتے، آسمان، زمین، سورج ، چاند، جن ،انسان کچھ نہ تھا۔ پھر جب اللہ تعا لیٰ نے مخلوق کوپیدا کرنا چاہا تو اس نور کے چار حصے کیے پہلے سے قلم، دوسرے سے لوح، تیسرے سے عرش بنایا پھر چوتھے کے چار حصے کیے پہلے سے آسمان، دوسرے سے زمین ، تیسرے سے جنت اور چوتھے سے دوزخ بنائے، …الیٰ آخر الحدیث۔()
یہ حدیث امام بیہقی نے دلائل النبوۃ میں ، امام قسطلانی نے مواہب اللدنیہ میں، امام ابن حجر مکی نے فتاویٰ حدیثیہ میں ، علامہ فاسی نے مطالع المسرات میں ، علامہ زرقانی نے شرح مواہب میں ، علامہ حسین دیار بکری نے تاریخ الخمیس میں اور شیخ عبدالحق محدث دہلوی نے مدارج النبوۃ میں روایت کرکے اس پر اعتماد کیا ہے۔ (افسوس کہ موجودہ زمانے کے وہابیہ نے مصنف عبدالرزاق سے اس حدیث کو نکال دیاہے )
علامہ محقق نابلسی حدیقہ ندیہ شر ح طریقہ محمدیہ میں فرماتے ہیں،’’بے شک ہر چیز نبی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے نورسے بنی ہے جیسا کہ صحیح حدیث سے ثابت ہے‘‘۔ ()
مجد دِامت، امام اہلسنّت، اعلیٰ حضرت محدث بریلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں ،
انبیاء اجزا ہیں تو بالکل ہے جملہ نور کا
اس علاقے سے ہے ان پر نام سچا نور کا
تو ہے سایہ نور کا ہر عضو ٹکڑا نور کا
سایہ کا سایہ نہ ہوتا ہے نہ سایہ نور کا
سورہ الاحزاب میں ارشادہوا،’’اے غیب بتانے والے نبی! بے شک ہم نے تمہیں بھیجا حاضر و ناظر اور خو شخبری دیتااور ڈر سنا تا اور اللہ کی طر ف اُس کے حکم سے بلاتااور چمکا دینے والا آفتاب بناکر‘‘۔()
تفسیر خزائن العر فان میں ہے کہ ’’حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے اپنے نور ِنبوت سے قلوب وارواح کو منور کیا ، حقیقت میں آپ کا وجود مبارک ایک ایسا آفتاب عالم تاب ہے جس نے ہزار ہا آفتاب بنا دیے اسی لیے اس کی صفت میں منیر (چمکا دینے والا) ارشاد فرمایا گیا‘‘۔()
تفسیر مظہری میں ہے کہ ’’ حضورصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلماپنے قلب انوراور جسم منور کی وجہ سے سراج منیر تھے۔ ایمان والے اس آفتاب کے رنگ میں رنگ جاتے ہیں اور اس کے انوار سے نورانی ہوجاتے ہیں ‘‘۔حضرت کعب بن زہیررضی اللہ عنہ نے بارگاہ رسالت میں اپنا قصیدہ ’’بانت سعاد‘‘پیش کیا اور سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے خوش ہو کر انہیں اپنی چادر مبارک عطافرمائی۔
Page 17 of 120

