Jamal e Mustafa

Total Pages: 118

Page 17 of 118

باب دوم

حسن و جمالِ مصطفیٰ

 

نورِمصطفی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم:

ارشادِ باری تعالیٰ ہوا،

﴿ قَدْ جَآءَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ نُوْرٌ وَّ كِتٰبٌ مُّبِیْنٌۙ (۱۵)﴾

’’بیشک تمہارے پاس اللّٰہ کی طرف سے نور آیا اور روشن کتاب ‘‘۔

(پارۃ نمبر:6،سورۃ المائدۃ،آیت نمبر 15)

اس آیت مبارکہ میں حضورِ انورکے وجودِ اقدس کو نور فرمایا گیا۔

 

سید المفسرین حضرت عبداللّٰہ بن عباس رضی اللّٰہ عنہما اور دیگر مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ: اس نور سے مراد رحمتِ دو عالم کی ذات گرامی ہے۔

تفسیر جلالین، تفسیر کبیر، تفسیر خازن، تفسیر مدارک، تفسیر بیضاوی، تفسیر روح البیان، تفسیر مظہری وغیرہ معتبر تفاسیر میں یہ معنی موجود ہیں۔

(تفسیر بیضاوی،ج2،ص56، وتفسیر جلالین،ج2،ص191، وتفسیر خازن،ج2، 251 و تفسیر طبری،ج10،ص143، روح البیان،ج1،ص322)

 

علامہ صاوی رقم طراز ہیں،

’’ نبی کریم کو نور اس لیے فرمایا گیا کیونکہ آپ بصارتوں کو نورانی بناتے ہیں اور کامیابی کی طرف ہدایت دیتے ہیں اور آپ  ہرحسی اورمعنوی نور کی اصل ہیں‘‘۔ (تفسیر صاوی،ج11،ص310)

 

امام ابن جریر فرماتے ہیں،

’’حضورِ اکرم  نور ہیں اُس کے لیے جو اس نور سے اپنا دل منور کرنا چاہے‘‘۔ (تفسیر طبری،ج10،ص143)

 

آنکھ والا ترے جلوے کا نظارہ دیکھے

دیدۂ کور کو کیا آئے نظر، کیا دیکھے

 

امام احمد رضا محدث بریلو ی قدس سرہ فرماتے ہیں کہ:’’امام مالک رضی اللّٰہ عنہ کے شاگرد، امام احمد بن حنبل رضی اللّٰہ عنہ کے استاذ اور امام بخاری و امام مسلم کے استاذ الاستاذ حافظ الحدیث امام عبد الرزاق ابوبکر بن ہمام  نے اپنی مصنف میں سیدنا جابر بن عبداللّٰہ رضی اللّٰہ عنہما سے روایت کی کہ وہ فرماتے ہیں،

میں نے عرض کی، یارسول اللّٰہ ! میرے ماں باپ حضور پر قربان! مجھے بتا دیجیے کہ سب سے پہلے اللّٰہ عزوجل نے کیا چیز بنائی؟

ارشاد فرمایا، اے جابر!بے شک اللّٰہ نے تمام مخلوق سے پہلے تیرے نبی کا نور اپنے نور (کے فیض ) سے پیدا فرمایا پھر وہ نور جہاں خدانے چاہا سیر کرتا رہا،  اُس وقت لوح، قلم، جنت، دوزخ، فرشتے، آسمان، زمین، سورج ، چاند، جن، انسان کچھ نہ تھا۔  پھر جب اللّٰہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کرنا چاہا تو اس نور کے چار حصے کیے پہلے سے قلم، دوسرے سے لوح، تیسرے سے عرش بنایا پھر چوتھے کے چار حصے کیے پہلے سے آسمان، دوسرے سے زمین ، تیسرے سے جنت اور چوتھے سے دوزخ بنائے، …الیٰ آخر الحدیث۔

(الموہب اللدنیہ،1 / 71-72، شرحالزرقانی علی المواہب،1/ 46-47، تاریخ الخمیس،1/ 19-20، مطالع المسعرات،ص221)

 

یہ حدیث امام بیہقی نے دلائل النبوۃ میں، امام قسطلانی نے مواہب اللدنیہ میں، امام ابن حجر مکی نے فتاویٰ حدیثیہ میں، علامہ فاسی نے مطالع المسرات میں، علامہ زرقانی نے شرح مواہب میں، علامہ حسین دیار بکری نے تاریخ الخمیس میں اور شیخ عبدالحق محدث دہلوی نے مدارج النبوۃ میں روایت کرکے اس پر اعتماد کیا ہے۔(افسوس کہ موجودہ زمانے کے وہابیہ نے مصنف عبدالرزاق سے اس حدیث کو نکال دیاہے )

 

علامہ محقق نابلسی حدیقہ ندیہ شر ح طریقہ محمدیہ میں فرماتے ہیں،

’’بے شک ہر چیز نبی  کے نور سے بنی ہے جیسا کہ صحیح حدیث سے ثابت ہے‘‘۔ (فتاویٰ رضویہ،ج27،ص،660،657، الحدیقۃ الندیۃ،ص2،ج375)

 

مجد دِامت، امام اہلسنّت، اعلیٰ حضرت محدث بریلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں،

انبیاء اجزا ہیں تو بالکل ہے جملہ نور کا

اس علاقے سے ہے ان پر نام سچا نور کا

تو ہے سایہ نور کا ہر عضو ٹکڑا نور کا

سایہ کا سایہ نہ ہوتا ہے نہ سایہ نور کا

 

سورہ الاحزاب میں ارشادہوا،

’’اے غیب بتانے والے نبی! بےشک ہم نےتمہیں بھیجاحاضر و ناظر اور خوشخبری دیتا اور ڈر سناتا اور اللّٰہ کی طر ف اُس کے حکم سے بلاتا اور چمکا دینے والا آفتاب بنا کر‘‘۔ (پارۃ:6، سورۃالمائدہ،46،45)

 

تفسیر خزائن العر فان میں ہے کہ:

’’حضور  نے اپنے نورِ نبوت سے قلوب و ارواح کو منور کیا ، حقیقت میں آپ کا وجود مبارک ایک ایسا آفتاب عالم تاب ہے جس نے ہزارہا آفتاب بنا دیے اسی لیے اس کی صفت میں منیر چمکا دینے والا ارشاد فرمایا گیا‘‘۔

(خزائن العرفان،پارہ نمبر:6،سورہ المائدہ،آیت نمبر:45،46)

Share:
keyboard_arrow_up