Jamal e Mustafa

Total Pages: 118

Page 16 of 118

اس مسئلہ کو سمجھانے کے لیے مثال عرض کرتا ہوں۔

فرض کیجیے کہ آپ کے مکان میں ایک پودا لگا ہوا ہے اور آپ اسے روزانہ پانی دیتے ہیں۔ کوئی شخص یہ کہے کہ جناب یہ کہاں کا انصاف ہے کہ آپ خود تو عمدہ عمدہ کھانے کھائیں اور بہترین مشروب پئیں اور اس پودے کو روزانہ صبح و شام صرف پانی ہی دیں۔

اگر آپ اس کے فریب میں آگئے اور آپ نے پودے کو ایک دن پانی دیا، دوسرے دن تیل، تیسرے دن گھی اور چوتھے دن کوئی اور قیمتی غذا وغیرہ۔ اب آپ بتائیے کہ کیا اس طرح پودے کی آبیاری ہوگی؟ کیا اس کی نشوونماہوگی ؟ ہر گز نہیں۔ ہر عقلمند یہی کہے گا کہ پودے کی آبیاری اور نشوونما پانی سے ہوتی ہے۔پس اسی طرح اہلسنت کی روحانی نشوونما صرف عشق مصطفیٰ اور ذکر رسول سے ہوتی ہے۔

مغز  قرآں  روح  ایماں  جان دیں

ہست  حب   رحمۃ   اللعالمیں

 

ارشادِ باری تعالیٰ ہوا،

’’سن لو! اللّٰہ کی یاد ہی میں دلوں کاچین ہے‘‘۔ (پارہ نمبر: 13،سورہ الرعد،آیت نمبر:28)  

 

حدیث قدسی میں ارشادِ ربانی ہے،

’’اے حبیب !میں نے ایمان کا مکمل ہونا اس بات پر موقوف کردیاہے کہ میرے ذکر کے ساتھ تمہارا ذکر بھی ہو اور میں نے تمہارے ذکر کو اپنا ذکر قرار دے دیا ہے پس جس  نے تمہارا ذکر کیا اس  نے میرا ذکر کیا‘‘۔

(کتاب الشفاء، ج1ص20)

ثابت ہوا کہ ذکر مصطفیٰ سے دل کو سکون اور روح کو تازگی نصیب ہوتی ہے۔ یہی بات امام المحد ثین نے مدارج النبوۃ میں ارشاد فرمائی۔

(مدارج النبوۃ،ج1، ص375،376)

 

اور اسی حقیقت کو امام یوسف نبہانی علیہما الرحمہ نے اپنی کتاب انوارِ محمدیہ میں یوں بیان فرمایا،

’’جاننا چاہیے کہ سرکارِ دو عالم کی محبت کی تمنا ہر چاہنے والے کے دل میں پائی جاتی ہے، یہ وہ اعلیٰ مقام ہے جس کی طرف عابدوں کی نگاہیں لگی رہتی ہیں اور جس کے لیے عشاق اپنے آپ کو فنا کر دیتے ہیں اور جس کی روح پرور ہوا کے جھونکے عابدوں کو ترو تازہ کر دیتے ہیں۔ محبتِ رسول دلوں کی قوت، روحوں کی غذا اور آنکھوں کی ٹھنڈک ہے اور یہ ایسا نور ہے کہ جو اسے حاصل نہ کر سکا وہ اندھیروں کی گہرائیوں میں ڈوب گیا، پس رسول معظم کی محبت ایمان، اعمال،باطنی احوال اور روحانی مقامات کی روح ہے ‘‘۔

(انوارِ محمدیہ، ص266،دارالکتب العلمیہ)

 

در دلِ مسلم مقام مصطفیٰ است

آبروئے  ما زِ  نام  مصطفی   است

 

امام قاضی عیاض مالکی علیہ الرحمہ کتاب الشفا میں اور امام المحدثین شیخ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ مدارج النبوۃ میں فرماتے ہیں کہ: کسی سے محبت و عشق ہوجانے کی تین بڑی وجوہات ہوتی ہیں۔

اول: اس کا حسن و جمال کہ طبیعت فطری طور پر حسین و جمیل اور خوبصورت چیزوں کی طرف مائل ہوتی ہے۔

دوم: اس کاحسن اخلاق کہ طبیعت فطری طور پر اچھی سیرت واخلاق والے ، صاحبِ کمالات اور متقی و صالحین کی طرف مائل ہوتی ہے۔

سوم: اس کا انعام و احسان کہ طبیعت فطری طور پر انعامات دینے والے اور احسان کرنے والے کی طرف مائل ہوتی ہے۔ (مدراج النبوۃ،ج1،ص376،377)

یہ بات بالکل واضح ہے کہ رحمت عالم کی ذات گرامی ان تمام صفات اور کمالات کی جامع ہے جو محبت کے اسباب اور عشق کے موجب ہیں۔

اب ہم قرآنی آیات، احادیث نبو ی اور جلیل القدر ائمہ کرام کی کتب معتبرہ کی روشنی میں مذکورہ تینوں اسباب کا اجمالی طور پر جائز ہ لیتے ہیں۔

Share:
keyboard_arrow_up