Jamal e Mustafa

Total Pages: 120

Page 16 of 120
اگر آپ اس کے فریب میں آگئے اور آپ نے پودے کو ایک دن پانی دیا، دوسرے دن تیل، تیسرے دن گھی اور چوتھے دن کوئی اور قیمتی غذاوغیرہ۔ اب آپ بتائیے کہ کیا اس طرح پودے کی آبیاری ہوگی؟ کیا اس کی نشوونماہوگی ؟ ہر گز نہیں۔ ہر عقلمند یہی کہے گاکہ پودے کی آبیاری اور نشوونماپانی سے ہوتی ہے۔ پس اسی طرح اہلسنت کی روحانی نشوونما صرف عشق مصطفی اور ذکر رسول صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم سے ہوتی ہے۔
مغز قرآں روح ایماں جان دیں
ہست حب رحمۃ اللعالمیں
ارشادِ باری تعالیٰ ہوا،’’سن لو! اللہ کی یاد ہی میں دلوں کاچین ہے‘‘۔()
حدیث قدسی میں ارشادِ ربانی ہے،’’(اے حبیب صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم!)میں نے ایمان کا مکمل ہونااس بات پر موقوف کردیاہے کہ میرے ذکر کے ساتھ تمہاراذکر بھی ہواور میں نے تمہارے ذکر کو اپنا ذکر قراردے دیاہے پس جس نے تمہاراذکر کیا اس نے میرا ذکر کیا‘‘۔()
ثابت ہوا کہ ذکر مصطفیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمسے دل کو سکون اور روح کو تازگی نصیب ہوتی ہے۔ یہی بات امام المحد ثین نے مدارج النبوۃ میں ارشاد فرمائی()۔ اور اسی حقیقت کو امام یوسف نبہانی علیہما الرحمہ نے اپنی کتاب انوار ِمحمدیہ میں یوں بیان فرمایا،
’’جانناچاہیے کہ سرکار ِدو عالم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی محبت کی تمنا ہر چاہنے والے کے دل میں پائی جاتی ہے، یہ وہ اعلیٰ مقام ہے جس کی طرف عابدوں کی نگاہیں لگی رہتی ہیں اور جس کے لیے عشاق اپنے آپ کو فناکر دیتے ہیں اورجس کی روح پرور ہواکے جھونکے عابدوں کو تروتازہ کر دیتے ہیں۔ محبتِ رسول صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم دلوں کی قوت ، روحوں کی غذااور آنکھوں کی ٹھنڈک ہے اور یہ ایسانور ہے کہ جو اسے حاصل نہ کر سکاوہ اندھیروں کی گہرائیوں میں ڈوب گیا،پس رسول معظم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی محبت ایمان، اعمال،باطنی احوال اور روحانی مقامات کی روح ہے ‘‘۔()
در دلِ مسلم مقام مصطفی است
آبروئے ما زِ نام مصطفی است
امام قاضی عیاض مالکی علیہ الرحمہ کتاب الشفامیں اور امام المحدثین شیخ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ مدارج النبوۃ میں فرماتے ہیں کہ کسی سے محبت وعشق ہوجانے کی تین بڑی وجوہات ہوتی ہیں۔
اول :اس کاحسن وجمال کہ طبیعت فطر ی طور پر حسین و جمیل اور خوبصورت چیزوں کی طرف مائل ہوتی ہے۔
دوم :اس کاحسن اخلاق کہ طبیعت فطری طور پر اچھی سیرت واخلاق والے ، صاحبِ کمالات اور متقی وصالحین کی طرف مائل ہوتی ہے۔
سوم: اس کا انعام واحسان کہ طبیعت فطری طور پر انعامات دینے والے اور احسان کرنے والے کی طرف مائل ہوتی ہے۔()
یہ بات بالکل واضح ہے کہ رحمت عالم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی ذات گرامی ان تمام صفات اور کمالات کی جامع ہے جو محبت کے اسباب اور عشق کے موجب ہیں۔
اب ہم قرآنی آیات ، احادیث نبو ی اور جلیل القدرائمہ کرام کی کتب معتبرہ کی روشنی میں مذکورہ تینوں اسباب کااجمالی طور پر جائز ہ لیتے ہیں۔
٭٭٭٭




باب دوم

حسن وجمالِ مصطفیٰ

صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم








نورِمصطفی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم:
ارشادِ باری تعالیٰ ہوا، ﴿ قَدْ جَآءَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ نُوْرٌ وَّ كِتٰبٌ مُّبِیْنٌۙ(۱۵)﴾
’’بیشک تمہارے پاس اللہ کی طرف سے نور آیااورروشن کتاب ‘‘۔()
اس آیت مبارکہ میں حضورِ انور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے وجودِ اقدس کو نور فرمایا گیا۔ سید المفسرین حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہمااور دیگر مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اس نور سے مراد رحمتِ دوعالم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی ذات گرامی ہے۔ تفسیر جلالین ، تفسیر کبیر ، تفسیر خازن، تفسیر مدارک ، تفسیر بیضاوی ، تفسیر روح البیان، تفسیر مظہری وغیرہ معتبر تفاسیر میں یہ معنی موجود ہیں۔()
Share:
keyboard_arrow_up