Jamal e Mustafa

Total Pages: 118

Page 15 of 118

صحابہ کرام علیہم الر ضوان اپنے آقا ومولیٰ کی تعظیم و محبت میں اپنا سب کچھ حتیٰ کہ جان قربان کر نے سے بھی دریغ نہ کرتے۔ دو ایمان افروز واقعات اختصار کے ساتھ پیش خدمت ہیں۔

 

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللّٰہ عنہ جب ہجرت کی رات حضور کے ساتھ غار ثور پہنچے تو پہلے آپ غار میں داخل ہوئے، صفائی کی اور جو سوراخ نظر آئے انہیں اپنے بدن کے کپڑے پھاڑ کر بند کیا اور دو سوراخ بند کرنے کے لیے کوئی چیز نہ ملی تو ان پر اپنی ایڑیاں لگا دیں۔ پھر آقا غار میں تشریف لے گئے اور آپ کے زانو پر سر رکھ کر آرام فرمانے لگے۔

اسی دوران سوراخ کے اندر سے سانپ نے آپ کے پاؤ ں پر کاٹ لیا ، آپ حضور کے آرام کا خیال کرتے ہوئے ساکن بیٹھے رہے لیکن سانپ کے زہر کی انتہائی تکلیف کے باعث آنکھوں سے آنسو نکل پڑے جو حضور کے چہرۂ اقدس پر گرے۔ حضور بیدار ہوئے اور آپ کا حال دریافت فرمایا تو آپ نے سارا واقعہ عرض کیا۔

آقا کریم  نے آپ کے زخم پر اپنا لعاب دہن لگایا تو فوراً آرام آگیا مگر آپ کے انتقال کے وقت یہی زہر لوٹ آیا اور اسی کے اثر سے آپ کی شہادت ہوئی۔

(مشکوۃ ،ج3،ص313، حدیث نمبر: 6025)

 

غزوہ خیبر سے واپسی پر مقام صہبامیں رسول معظم نے نماز عصر کے بعد حضرت علی کرم اللّٰہ وجہہ کے زانو پر سر مبارک رکھ کر آرام فرمایا، آپ پر وحی نازل ہو رہی تھی۔

سیدنا علی رضی اللّٰہ عنہ نے عصر کی نماز نہ پڑھی تھی مگر آپ نے آقا کو بیدار نہ کیا یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا۔ جب آقا نے چشمانِ کرم کھولیں تو مولیٰ علی رضی اللّٰہ عنہ نے اپنی نماز کا حال عرض کیا،حبیب کبریا نے بارگاہ الٰہی میں دعا کی،

الٰہی!علی تیری اور تیرے رسول کی فرمانبرداری میں تھے اس لیے ان کے لیے سورج کو لوٹا دے۔ آپ کی دعا سے ڈوبا ہوا سورج پھر نکل آیا۔

اس حدیث پاک کو امام قاضی عیاض مالکی علیہ الرحمہ نے کتاب الشفا میں اور امام طحاوی علیہ الرحمہ نے مشکل الآ ثار میں روایت کیا ہے۔

(کتاب الشفاء،ج1،ص284)

اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے خوب فرمایا:

مولیٰ    علی     نے   واری   تری   نیند   پر    نماز 

اور وہ بھی عصر سب سے جو اعلیٰ خطر کی ہے

صدیق  بلکہ  غار   میں   جاں  اس   پہ   دے   چکے

اور   حفظ   جاں   تو   جان   فروض   غرر   کی  ہے

ہاں   تو نے   اِنہیں  جان  اُنہیں   پھیر   دی  نماز

پر  وہ  تو  کر  چکے  تھے  جو  کرنی بشر کی ہے

ثابت   ہوا   کہ   جملہ   فرائض    فروع     ہیں

اصل   الاصول   بندگی  اُس  تاج وَر    کی  ہے

 

شیخ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:

’’محبت اہلِ ایمان کے دلوں کی زندگی اور ان کی روحوں کی غذا ہے۔ مقاماتِ رضا اور احوالِ محبت میں یہ مقام سب سے بلند اور افضل ترین ہے ‘‘۔

(مدارج النبوۃ،ج1،ص372)

 

امام المحدثین کے اس ایمان افروز قول میں ان لوگوں کے اعتراض کا جواب بھی موجود ہے جنہیں یہ شکایت ہے کہ اہلسنّت کے علماء تو جب دیکھو عشقِ رسول یا محبت مصطفیٰ کی باتیں کرتے ہیں، یہ کبھی نعتیں پڑھ رہے ہوتے ہیں اور کبھی درود و سلام۔

Share:
keyboard_arrow_up