Jamal e Mustafa

Total Pages: 120

Page 15 of 120
صحابہ کرام علیہم الر ضوان اپنے آقا ومولیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی تعظیم و محبت میں اپنا سب کچھ حتیٰ کہ جان قربان کر نے سے بھی دریغ نہ کرتے۔ دو ایمان افروز واقعات اختصار کے ساتھ پیش خدمت ہیں۔
سیدناابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ جب ہجرت کی رات حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکے ساتھ غار ثور پہنچے تو پہلے آپ غارمیں داخل ہوئے، صفائی کی اور جو سوراخ نظر آئے انہیں اپنے بدن کے کپڑے پھاڑکر بند کیا اور دوسوراخ بند کرنے کے لیے کوئی چیز نہ ملی توان پر اپنی ایڑیا ں لگادیں۔ پھر آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم غار میں تشریف لے گئے اور آپ کے زانو پر سر رکھ کر آرام فرمانے لگے۔
اسی دوران سوراخ کے اندر سے سانپ نے آپ کے پاؤ ں پر کاٹ لیا ، آپ حضور کے آرام کا خیال کرتے ہوئے ساکن بیٹھے رہے لیکن سانپ کے زہر کی انتہائی تکلیف کے باعث آنکھوں سے آنسو نکل پڑے جوحضورصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے چہرۂ اقدس پر گرے۔ حضوربیدار ہوئے اورآپ کا حال دریافت فرمایاتو آپ نے سارا واقعہ عرض کیا۔
آقاکریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے آپ کے زخم پر اپنا لعاب دہن لگایا تو فوراً آرام آگیا مگر آپ کے انتقال کے وقت یہی زہر لوٹ آیا اور اسی کے اثر سے آپ کی شہادت ہوئی۔()
غزوہ خیبر سے واپسی پر مقام صہبامیں رسول معظم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمنے نماز عصر کے بعد حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے زانوپر سر مبارک رکھ کر آرام فرمایا، آپ پر وحی نازل ہو رہی تھی۔ سیدنا علیرضی اللہ عنہ نے عصر کی نمازنہ پڑھی تھی مگر آپ نے آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو بیدار نہ کیا یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا۔ جب آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمنے چشمانِ کرم کھولیں تو مولیٰ علی رضی اللہ عنہنے اپنی نماز کاحال عرض کیا، حبیب کبریا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمنے بارگاہ الٰہی میں دعا کی،
الٰہی!علی تیری اور تیرے رسول کی فرمانبرداری میں تھے اس لیے ان کے لیے سورج کو لوٹادے۔ آپ کی دعا سے ڈوباہوا سورج پھر نکل آیا۔
اس حدیث پاک کو امام قاضی عیاض مالکی علیہ الرحمہنے کتاب الشفا میں اور امام طحاوی علیہ الرحمہنے مشکل الآ ثار میں روایت کیا ہے۔ ()
اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہنے خوب فرمایا:
مولیٰ علی نے واری تری نیند پر نماز
اوروہ بھی عصر سب سے جو اعلیٰ خطر کی ہے
صدیق بلکہ غار میں جاں اس پہ دے چکے
اور حفظ جاں تو جان فروض غرر کی ہے
ہاں تو نے اِنہیں جان اُنہیں پھیر دی نماز
پر وہ تو کر چکے تھے جو کرنی بشر کی ہے
ثابت ہوا کہ جملہ فرائض فروع ہیں
اصل الاصول بندگی اُس تاج وَر کی ہے
شیخ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
’’محبت اہلِ ایمان کے دلوں کی زندگی اور ان کی روحوں کی غذاہے۔ مقا ماتِ رضا اور احوالِ محبت میں یہ مقام سب سے بلند اور افضل ترین ہے ‘‘۔()
امام المحدثین کے اس ایمان افروز قول میں ان لوگوں کے اعتراض کاجواب بھی موجود ہے جنہیں یہ شکایت ہے کہ اہلسنّت کے علماء تو جب دیکھو عشقِ رسول یامحبت مصطفی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی باتیں کرتے ہیں، یہ کبھی نعتیں پڑھ رہے ہوتے ہیں اور کبھی درود و سلام۔ اس مسئلہ کو سمجھانے کے لیے مثال عرض کرتا ہوں۔
فرض کیجیے کہ آپ کے مکا ن میں ایک پودالگاہواہے اور آپ اسے روزانہ پانی دیتے ہیں۔ کوئی شخص یہ کہے کہ جناب یہ کہاں کاانصاف ہے کہ آپ خود تو عمدہ عمدہ کھانے کھائیں اور بہترین مشروب پئیں اور اس پودے کو روزانہ صبح و شام صرف پانی ہی دیں۔
Share:
keyboard_arrow_up