حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نور مجسم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمنے فرمایا، ’’تم میں سے کو ئی بھی مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ میں اُسے اُس کے والد ، اُس کی اولاد اور سب لوگوں سے زیاد ہ پیارانہ ہو جاؤ ں ‘‘۔()
ایک مرتبہ حضرت عمررضی اللہ عنہ نے بارگاہِ نبوی میں عرض کی، یارسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم! بیشک آپ مجھے میری جان کے سوا ہر شے سے زیادہ محبو ب ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا، ’’تم میں سے کوئی بھی ہرگزاس وقت تک کامل مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اس کے نزدیک اس کی جان سے بھی زیادہ پیارا نہ ہو جاؤں ‘‘۔
یہ فرمان سن کر حضر ت عمر رضی اللہ عنہ کے دل میں محبت کی یہ منزل بھی اتر آئی۔ عرض کی، ’’ قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ پر کتاب نازل فرمائی، بے شک آپ مجھے اب میری جان سے بھی زیادہ محبو ب ہیں‘‘۔
حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا، ’’اے عمر! اب تمہارا ایمان کامل ہو گیا‘‘۔()
جان ہے عشقِ مصطفی، روز فزوں کرے خدا
جس کو ہو درد کا مزا، نازِ دوا اٹھائے کیوں
محبتِ رسول صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم ایمان کی حلاوت عطاکر تی ہے، قوتِ محر کہ کے طور پر اطاعتِ رسول صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی طرف مائل کر تی ہے، یہ قربِ باری تعالیٰ اور روحانیت میں ترقی کا باعث بھی ہے اور آخرت میں آقا و مولیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی رفاقت ومعیت حاصل ہونے کا اہم وسیلہ بھی۔
حضرت انسرضی اللہ عنہسے روایت ہے کہ ایک شخص نے بارگاہِ اقدس میں عرض کی ، یارسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم!قیامت کب آئے گی ؟ فرمایا، قیامت کے لیے تونے کیا تیاری کی ہے ؟ اس نے عرض کی، نہ بہت سی نمازیں جمع کی ہیں اور نہ روزے اورنہ ہی صدقات لیکن اتنا ضرور ہے کہ میں اللہ تعا لیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم سے محبت کرتا ہوں۔ آپ نے فرمایا، ’’پھر تو قیامت میں اُنہی کے ساتھ ہوگاجن سے محبت رکھتا ہے ‘‘۔()
اے عشق ترے صدقے، جلنے سے چھٹے سستے
جو آگ بجھا دے گی، وہ آگ لگائی ہے
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک شخص نے خدمت ِاقدس میں عرض کی ، یارسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم !بے شک آپ مجھے میری جان اور اولاد سے بھی زیادہ محبوب ہیں ، جب میں گھر میں ہوتا ہوں اور آپ کی یاد آتی ہے تو جب تک میں خدمت اقدس میں حاضر ہو کر آپ کا دیدار نہیں کر لیتا مجھے صبر نہیں آتا۔ جب میں موت کو یاد کرتا ہوں تو میں یقین کرتا ہوں کہ آپ تو جنت میں انبیائے کرام کے ساتھ اعلیٰ درجے میں ہونگے اور میں جنت میں نہ جانے کہاں ہوں گا۔ مجھے ڈرہے کہ میں آپ کو دیکھ نہ سکوں گا۔
وہ یہ عرض کر رہاتھاکہ جبریل علیہ السلام یہ آیت() لیکر نازل ہو ئے ، (ترجمہ) ’’اور جو اللہ اوراس کے رسول کاحکم مانے تواسے انکا ساتھ ملے گا جن پراللہ نے فضل کیایعنی انبیاء، صدیقین ، شہداء اور نیک لوگ ، اور یہ کیا ہی اچھے ساتھی ہیں‘‘۔()
خاک ہو کر عشق میں آرام سے سونا ملا
جان کی اکسیر ہے الفت رسول اللہ کی
سید نا ابو بکر صدیقرضی اللہ عنہ عرض کر تے تھے ، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم! خداکی قسم! میرے والد کے ایمان لانے کے مقابلے میں ابوطالب کا ایمان لانا میری آنکھوں کو زیادہ ٹھنڈک اور روشنی پہنچاتا کیو نکہ ابوطالب کے ایمان لانے سے آپ کی آنکھوں کو ٹھنڈک ہوتی۔()
سیدنا علی کرم اللہ وجہہ کاارشاد ہے کہ آقاو مولیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم مجھے اپنی جان ، مال ، والدین اور اولاد سے زیادہ محبوب ہیں۔() (کتاب الشفا)
Page 14 of 120

