اس آیت کریمہ سے ثابت ہوا کہ ہر مسلمان پر تمام چیزوں سے زیادہ اللّٰہ عزوجل اور رسول معظم ﷺ کی محبت لازم ہے۔ اسی حوالے سے چند احادیث مبارکہ ملاحظہ فرمائیں۔
حضرت انس رضی اللّٰہ عنہ سے روایت ہے کہ نور مجسم ﷺ نے فرمایا،
’’تم میں سے کو ئی بھی مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ میں اُسے اُس کے والد، اُس کی اولاد اور سب لوگوں سے زیاد ہ پیارا نہ ہو جاؤ ں‘‘۔
(بخاری، ج1، ص14، حدیث نمبر:14، و مسلم، ج1، ص67، حدیث نمبر: 44)
ایک مرتبہ حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ نے بارگاہِ نبوی میں عرض کی،
یا رسول اللّٰہ ﷺ! بیشک آپ مجھے میری جان کے سوا ہر شے سے زیادہ محبوب ہیں۔
آپ ﷺنے فرمایا،
’’تم میں سے کوئی بھی ہر گز اس وقت تک کامل مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ میں اس کے نزدیک اس کی جان سے بھی زیادہ پیارا نہ ہو جاؤں ‘‘۔
یہ فرمان سن کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دل میں محبت کی یہ منزل بھی اتر آئی۔ عرض کی، ’’ قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ پر کتاب نازل فرمائی، بے شک آپ مجھے اب میری جان سے بھی زیادہ محبو ب ہیں‘‘۔
حضور ﷺنے فرمایا، ’’اے عمر! اب تمہارا ایمان کامل ہوگیا‘‘۔
(بخاری، ج 20، ص314، حدیث نمبر: 6142، و مسلم، ج 3، ص 1433، حدیث نمبر: 1807)
جان ہے عشقِ مصطفی، روز فزوں کرے خدا
جس کو ہو درد کا مزا، نازِ دوا اٹھائے کیوں
محبتِ رسول ﷺ ایمان کی حلاوت عطا کرتی ہے، قوتِ محرکہ کے طور پر اطاعتِ رسول ﷺ کی طرف مائل کرتی ہے، یہ قربِ باری تعالیٰ اور روحانیت میں ترقی کا باعث بھی ہے اور آخرت میں آقا و مولیٰ ﷺ کی رفاقت ومعیت حاصل ہونے کا اہم وسیلہ بھی۔
حضرت انس رضی اللّٰہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے بارگاہِ اقدس میں عرض کی ، یا رسول اللّٰہ ﷺ! قیامت کب آئے گی ؟
فرمایا، قیامت کے لیے تونے کیا تیاری کی ہے ؟ اس نے عرض کی، نہ بہت سی نمازیں جمع کی ہیں اور نہ روزے اور نہ ہی صدقات لیکن اتنا ضرور ہے کہ میں اللّٰہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ سے محبت کرتا ہوں۔ آپ نے فرمایا، ’’پھر تو قیامت میں اُنہی کے ساتھ ہوگا جن سے محبت رکھتا ہے ‘‘۔
(بخاری ، ج 12، ص 21، حدیث نمبر : 3412، و مسلم ،ج 4، ص 2032، حدیث نمبر: 2639)
اے عشق ترے صدقے، جلنے سے چھٹے سستے
جو آگ بجھا دے گی ، وہ آگ لگائی ہے
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ عنہا فرماتی ہیں کہ:
ایک شخص نے خدمتِ اقدس میں عرض کی، یا رسول اللّٰہ ﷺ ! بے شک آپ مجھے میری جان اور اولاد سے بھی زیادہ محبوب ہیں، جب میں گھر میں ہوتا ہوں اور آپ کی یاد آتی ہے تو جب تک میں خدمت اقدس میں حاضر ہو کر آپ کا دیدار نہیں کرلیتا مجھے صبر نہیں آتا۔ جب میں موت کو یاد کرتا ہوں تو میں یقین کرتا ہوں کہ آپ تو جنت میں انبیائے کرام کے ساتھ اعلیٰ درجے میں ہونگے اور میں جنت میں نہ جانے کہاں ہوں گا۔ مجھے ڈرہے کہ میں آپ کو دیکھ نہ سکوں گا۔
وہ یہ عرض کر رہا تھا کہ جبریل علیہ السلام یہ آیت (پارہ نمبر : 6، سورۃ النساء، آیت نمبر :69) لیکر نازل ہو ئے ،
ترجمہ:
’’اور جو اللّٰہ اور اس کے رسول کا حکم مانے تو اسے انکا ساتھ ملے گا جن پر اللّٰہ نے فضل کیا یعنی انبیاء، صدیقین، شہداء اور نیک لوگ، اور یہ کیا ہی اچھے ساتھی ہیں‘‘۔ (طبرانی کبیر ، ج 12، ص86، حدیث نمبر : 12589)
خاک ہو کر عشق میں آرام سے سونا ملا
جان کی اکسیر ہے الفت رسول اللّٰہ کی
سید نا ابو بکر صدیق رضی اللّٰہ عنہ عرض کر تے تھے،
یا رسول اللّٰہ ﷺ! خدا کی قسم! میرے والد کے ایمان لانے کے مقابلے میں ابو طالب کا ایمان لانا میری آنکھوں کو زیادہ ٹھنڈک اور روشنی پہنچاتا کیو نکہ ابو طالب کے ایمان لانے سے آپ کی آنکھوں کو ٹھنڈک ہوتی۔
(المعجم الکبیر، ج 9، ص40، حدیث نمبر: 8340)
سیدنا علی کرم اللّٰہ وجہہ کا ارشاد ہے کہ:
آقا و مولیٰ ﷺ مجھے اپنی جان، مال، والدین اور اولاد سے زیادہ محبوب ہیں۔
(کتاب الشفا،ج2،ص22)

