Jamal e Mustafa

Total Pages: 120

Page 13 of 120
3۔ ’’اور اللہ ورسول کی اطاعت کرو اس امید پر کہ تم رحم کیے جاؤ‘‘۔()
4۔ ’’اور اللہ کا حکم مانو اور رسول کا حکم مانو ‘‘۔()
5۔ ’’اور جو کچھ رسول تمہیں عطافرمائیں وہ لو اور جس سے منع فرمائیں بازرہو‘‘۔()
6۔ ’’اے ایمان والو! اللہ کا حکم مانو اور رسول کا حکم مانو‘‘۔()
7۔ ’’اور جو اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانے، اللہ اسے باغو ں میں لے جائے گا‘‘۔()
8۔ ’’اور اگر تم رسول کی فرمانبر داری کروگے، راہ پاؤ گے ‘‘۔()
9۔’’اور جو حکم نہ مانے اللہ اور اس کے رسول کا وہ بیشک صر یح گمراہی میں بہکا‘‘۔()
10۔’’اور ہم نے کوئی رسول نہ بھیجا مگر اس لیے کہ اللہ کے حکم سے اس کی اطاعت کی جائے ‘‘۔()
11۔’’تو اے محبوب !تمہارے رب کی قسم وہ مسلمان نہ ہوں گے جب تک اپنے آپس کے جھگڑے میں تمہیں حاکم نہ بنائیں پھر جو کچھ تم فرمادو، اپنے دلوں میں اس سے رکاوٹ نہ پائیں اور جی سے مان لیں ‘‘۔()
12۔ ’’اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول کاحکم مانو‘‘۔()
13۔’’جس نے رسول کاحکم مانابے شک اس نے اللہ کا حکم مانا ‘‘۔()
14۔ ’’جس دن ان کے منہ الٹ الٹ کرآ گ میں تلے جائیں گے۔کہتے ہونگے، ہائے کسی طرح ہم نے اللہ کا حکم ماناہوتا اور رسول کا حکم مانا ہوتا ‘‘۔()
15۔ ’’یہ نبی مسلمانوں کاان کی جان سے زیاد ہ مالک ہے ‘‘۔()
ان آیات کریمہ سے معلوم ہواکہ اللہ تعا لیٰ سے سچی محبت کر نے والوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی پیروی واتباع کرنی چاہیے اور حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی اطاعت در حقیقت اللہ تعا لیٰ ہی کی اطاعت ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کی متعد د آیات میں اپنی اطاعت کے ساتھ اپنے رسول صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی اطاعت کابھی حکم دیاہے۔ یہ بھی معلوم ہواکہ رسول معظم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکی اطاعت کے منکر آخرت میں جہنم کاایند ھن بنادیے جائیں گے۔
محبتِ مصطفی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم :
لحد میں عشقِ رُخِ شہ کا داغ لے کے چلے
اندھیری رات سنی تھی چراغ لے کے چلے
نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی محبت ایمان کی روح اور دین کی اصل ہے۔ محبت رسول اورعشق مصطفی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے معنی اور اس کی حقیقت علمائے حق نے اپنے اپنے انداز میں بیان فرمائی ہے، اگرچہ الفاظ مختلف ہیں لیکن روح سب کی ایک ہی ہے۔
چنانچہ حضرت سفیان ثوری فرماتے ہیں کہ اطاعتِ رسول صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم ہی محبت ہے۔
یحییٰ بن معاذ کہتے ہیں کہ محبت ایک کیفیت ہے جسے الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔
بعض اہلِ علم کاقول ہے کہ محبت محبوب کی رضا چاہنے کا نام ہے۔ بعض کے نزدیک محبوب کی پسندکو اپنی پسند اور اس کی ناپسند کو اپنی ناپسند بنالینا محبت ہے۔بعض نے محبوب کے ذکر کے دوام کو محبت قرار دیاہے۔ بعض کے نزدیک دل سے محبوب کے سوا سب کچھ فناکر دینے کانام محبت ہے۔()
سورہ توبہ میں ارشاد ہوا، ’’تم فرماؤ اگر تمہار ے باپ اور تمہارے بیٹے اور تمہارے بھائی اور تمہاری عورتیں اور تمہاراکنبہ اور تمہاری کمائی کے مال اور وہ سودا جس کے نقصان کا تمہیں ڈرہے اور تمہاری پسند کے مکان، یہ چیز یں اللہ اور اس کے رسول اور اس کی راہ میں لڑنے سے زیادہ پیاری ہوں تو راستہ دیکھو یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم (یعنی عذاب) لائے اور اللہ فاسقو ں کو راہ (ہدایت )نہیں دیتا‘‘۔()
اس آیت کریمہ سے ثابت ہوا کہ ہر مسلمان پر تمام چیزوں سے زیادہ اللہ عزوجل اور رسول معظم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی محبت لازم ہے۔ اسی حوالے سے چند احادیث مبارکہ ملاحظہ فرمائیں۔
Share:
keyboard_arrow_up