3۔ ’’اور اللّٰہ و رسول کی اطاعت کرو اس امید پر کہ تم رحم کیے جاؤ‘‘۔
(پارہ نمبر :4، سورۃ آل عمران، آیت نمبر : 132)
4۔ ’’اور اللّٰہ کا حکم مانو اور رسول کا حکم مانو ‘‘۔
(پارہ نمبر : 28، سورۃ التغابن، آیت نمبر : 8)
5۔ ’’اور جو کچھ رسول تمہیں عطا فرمائیں وہ لو اور جس سے منع فرمائیں باز رہو‘‘۔ (پارہ نمبر: 28 ، سورۃ الحشر ، آیت نمبر :17)
6۔ ’’اے ایمان والو! اللّٰہ کا حکم مانو اور رسول کا حکم مانو‘‘۔
(پارہ نمبر : 26، سورۃ محمد ، آیت نمبر : 33)
7۔ ’’اور جو اللّٰہ اور اس کے رسول کا حکم مانے، اللّٰہ اسے باغو ں میں لے جائے گا‘‘۔ (پارہ نمبر: 26 ، سورۃ الفتح، آیت نمبر : 17)
8۔ ’’اور اگر تم رسول کی فرمانبر داری کروگے، راہ پاؤ گے ‘‘۔
(پارہ نمبر : 18 ، سورۃ النور ، آیت نمبر : 54)
9۔ ’’اور جو حکم نہ مانے اللّٰہ اور اس کے رسول کا وہ بیشک صریح گمراہی میں بہکا‘‘۔ (پارہ نمبر : 22 ، سورۃ الاحزاب، آیت نمبر : 32 )
10۔ ’’اور ہم نے کوئی رسول نہ بھیجا مگر اس لیے کہ اللّٰہ کے حکم سے اس کی اطاعت کی جائے ‘‘۔ (پارہ نمبر : 6 ، سورۃ النساء، آیت نمبر :64)
11۔ ’’تو اے محبوب !تمہارے رب کی قسم وہ مسلمان نہ ہوں گے جب تک اپنے آپس کے جھگڑے میں تمہیں حاکم نہ بنائیں پھر جو کچھ تم فرما دو، اپنے دلوں میں اس سے رکاوٹ نہ پائیں اور جی سے مان لیں ‘‘۔
(پارہ نمبر : 6 ، سورۃ النساء، آیت نمبر : 65)
12۔ ’’اے ایمان والو! اللّٰہ اور اس کے رسول کا حکم مانو‘‘۔
(پارہ نمبر : 10 ، سورۃ الانفال، آیت نمبر : 20)
13۔’’جس نے رسول کاحکم مانابے شک اس نے اللّٰہ کا حکم مانا ‘‘۔
(پارہ نمبر :6 ، سورۃ النساء، آیت نمبر :80)
14۔ ’’جس دن ان کے منہ الٹ الٹ کر آگ میں تلے جائیں گے۔ کہتے ہونگے، ہائے کسی طرح ہم نے اللّٰہ کا حکم مانا ہوتا اور رسول کا حکم مانا ہوتا ‘‘۔
(پارہ نمبر: 22 ، سورۃ الاحزاب، آیت نمبر : 66)
15۔ ’’یہ نبی مسلمانوں کا ان کی جان سے زیادہ مالک ہے ‘‘۔
(پارہ نمبر : 22، سورۃ الاحزاب، آیت نمبر :6)
ان آیات کریمہ سے معلوم ہوا کہ اللّٰہ تعالیٰ سے سچی محبت کر نے والوں کو نبی کریم ﷺ کی پیروی واتباع کرنی چاہیے اور حضور ﷺ کی اطاعت در حقیقت اللّٰہ تعالیٰ ہی کی اطاعت ہے۔ اس لیے اللّٰہ تعالیٰ نے قرآن پاک کی متعدد آیات میں اپنی اطاعت کے ساتھ اپنے رسول ﷺ کی اطاعت کا بھی حکم دیا ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ رسول معظم ﷺ کی اطاعت کے منکر آخرت میں جہنم کا ایندھن بنا دیے جائیں گے۔
محبتِ مصطفی ﷺ :
لحد میں عشقِ رُخِ شہ کا داغ لے کے چلے
اندھیری رات سنی تھی چراغ لے کے چلے
نبی کریم ﷺ کی محبت ایمان کی روح اور دین کی اصل ہے۔ محبت رسول اور عشق مصطفی ﷺ کے معنی اور اس کی حقیقت علمائے حق نے اپنے اپنے انداز میں بیان فرمائی ہے، اگرچہ الفاظ مختلف ہیں لیکن روح سب کی ایک ہی ہے۔
چنانچہ حضرت سفیان ثوری فرماتے ہیں کہ:
اطاعتِ رسول ﷺ ہی محبت ہے۔
یحییٰ بن معاذ کہتے ہیں کہ:
محبت ایک کیفیت ہے جسے الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ بعض اہلِ علم کا قول ہے کہ محبت محبوب کی رضا چاہنے کا نام ہے۔ بعض کے نزدیک محبوب کی پسند کو اپنی پسند اور اس کی نا پسند کو اپنی نا پسند بنا لینا محبت ہے۔ بعض نے محبوب کے ذکر کے دوام کو محبت قرار دیا ہے۔ بعض کے نزدیک دل سے محبوب کے سوا سب کچھ فنا کر دینے کا نام محبت ہے۔
(مدارج النبوة ، ج 1، ص371 )
سورہ توبہ میں ارشاد ہوا،
’’تم فرماؤ اگر تمہار ے باپ اور تمہارے بیٹے اور تمہارے بھائی اور تمہاری عورتیں اور تمہارا کنبہ اور تمہاری کمائی کے مال اور وہ سودا جس کے نقصان کا تمہیں ڈرہے اور تمہاری پسند کے مکان، یہ چیز یں اللّٰہ اور اس کے رسول اور اس کی راہ میں لڑنے سے زیادہ پیاری ہوں تو راستہ دیکھو یہاں تک کہ اللّٰہ اپنا حکم (یعنی عذاب) لائے اور اللّٰہ فاسقو ں کو راہ (ہدایت) نہیں دیتا‘‘۔
(پارہ نمبر : 10 ، سورۃ التوبہ ، آیت نمبر : 24)

