اگرچہ مبسوط کتب میں اس کی پہلے بھی کوششیں ہو چکی ہیں تاہم عام شخص کے لیے وقت کی قلت کا لحاظ کرتے ہوئے مختصر انداز میں خلاصہ کے طور پر ہادی ٔ حق حضرت علامہ پیر سید شاہ تراب الحق قادری مدظلہ العالی نے ان موتیوں کو جمع کر کے جمالِ مصطفی ﷺ کے عنوان سے پیش فرمایا ہے۔
آپ کے تلمیذِرشید اور مریدِ با صفا حضرت علامہ قاری محمد آصف قادری مد ظلہ العالی نے اس کتاب کی تر تیب و تزئین میں خاص اہتمام فرمایا۔
اللّٰہ تعالیٰ مصنف موصوف اور مر تب کو بھی جزائے خیر عطا فرمائے اور سب مسلمانوں کو اپنے حبیب پاک ﷺ کی محبت پر قائم و دائم رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین۔
باب اول
عشقِ مصطفٰی ﷺ
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
نحمدہ ونصلی ونسلم علٰی حبیبہ الکریم
ایمان واطاعتِ رسول ﷺ :
ارشاد باری تعالیٰ ہے،
’’اے حبیب ﷺ ! بیشک ہم نے تمہیں بھیجا حاضر و ناظر، اور خوشی اور ڈر سناتا، تاکہ اے لوگو! تم اللّٰہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور رسول کی تعظیم و توقیر کرو اور صبح و شام اللّٰہ کی پاکی بولو‘‘۔
(پارہ نمبر : 26 ، سورۃ الفتح، آیت نمبر :9،8)
اسی سورت کی آیت میں فرمایا گیا،
’’اور ایمان نہ لائے اللّٰہ اور اس کے رسول پر، تو بے شک ہم نے کافروں کے لیے بھڑکتی آگ تیار کر رکھی ہے‘‘۔ ( پارہ نمبر : 26، سورۃ الفتح، آیت نمبر: 13)۔ (کنزالایمان )
دوسری جگہ ارشاد ہوا،
’’تو ایمان لاؤ اللّٰہ اور اس کے رسول پر اور اُس نور پر جو ہم نے اُتارا‘‘۔
( پارہ نمبر : 28، سورۃ التغابن، آیت نمبر : 8)
مزید ارشاد ہوا ،
’’ تو ایمان لاؤ اللّٰہ اور اس کے رسول بے پڑھے غیب بتانے والے پر کہ اللہ اور اس کی باتوں پر ایمان لاتے ہیں اور ان کی غلامی کرو کہ تم راہ پاؤ‘‘۔
(پارہ نمبر : 9، سورۃ الاعراف، آیت نمبر : 158)
اسی سورت کی آیت کے آخر میں فرمایاگیا،
’’ تو وہ جو اس پر ایمان لائیں اور اس کی تعظیم کریں اور اسے مدد دیں اور اس نور کی پیروی کریں جو اس کے ساتھ اترا، وہی بامراد ہوئے‘‘۔
(پارہ نمبر : 9، سورۃ الاعراف، آیت نمبر : 158)۔ (کنز الایمان ازاعلیٰ حضرت امام رضا محدث بریلوی قدس سرہٗ)
ان آیات کریمہ سے معلوم ہوا کہ:
حضور ﷺ کی نبوت و رسالت پر ایمان لانا اور آپ کی تعظیم و توقیر کرنا فرض ہے۔
کتاب الشفا میں ہے کہ:
نبی کریم ﷺ پر ایمان لانے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت، محمد رسول اللّٰہ ﷺ کی نبوت و رسالت اور احکام الٰہیہ جو حضور نبیِ کریم ﷺ نے بیان فرمائے ان سب کا زبان سے اقرار اور دل سے تصدیق کرے۔ جب زبانی اقرار اور قلبی تصدیق دونوں جمع ہوں گی تب ہی ایمان مکمل ہوگا۔محض زبانی اقرارِ رسالت کو قرآن حکیم نے منافقت قرار دیا ہے۔
سورہ منافقون کی پہلی آیت میں ارشاد ہوا،
’’جب منافق تمہارے حضور حاضر ہو تے ہیں (تو) کہتے ہیں کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ حضور بیشک یقیناً اللّٰہ کے رسول ہیں، اور اللّٰہ جانتا ہے کہ تم اس کے رسول ہو، اور اللّٰہ گواہی دیتا ہے کہ منافق ضرور جھوٹے ہیں‘‘۔
(کنز الایمان) (پارہ نمبر : 28، سورۃ المنافقون، آیت نمبر :1)
نبی کریم ﷺ پر ایمان لانے کے ساتھ ہی آپ کی اطاعت و اتباع بھی واجب ہو گئی۔
قرآن کریم کی چند آیات ملا حظہ فرمائیں۔
1۔’’اے محبوب تم فرما دو کہ لوگو! اگر تم اللّٰہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمانبردار ہو جاؤ۔ اللّٰہ تمہیں دوست رکھے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور اللّٰہ بخشنے والا مہر بان ہے‘‘۔ (پارہ نمبر : 3 ، سورۃ آل عمران، آیت نمبر : 31)
2۔ ’’تم فرما دو کہ حکم مانو اللّٰہ اور اس کے رسول کا‘‘۔
(پارہ نمبر : 3 ، سورۃ آل عمران، آیت نمبر : 32)

