Jamal e Mustafa

Total Pages: 120

Page 12 of 120
اگر چہ مبسوط کتب میں اس کی پہلے بھی کوششیں ہو چکی ہیں تاہم عام شخص کے لیے وقت کی قلت کا لحاظ کرتے ہوئے مختصرانداز میں خلاصہ کے طور پر ہادی ٔ حق حضرت علامہ پیر سید شاہ تراب الحق قادری مدظلہ العالی نے ان موتیو ں کو جمع کر کے جمالِ مصطفی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے عنوان سے پیش فرمایاہے۔ آپ کے تلمیذِرشید اور مریدِ باصفا حضرت علامہ قاری محمد آصف قادری مد ظلہ العالی نے اس کتاب کی تر تیب و تزئین میں خاص اہتمام فرمایا۔ اللہ تعالیٰ مصنف مو صوف اور مر تب کو بھی جزائے خیر عطا فرمائے اور سب مسلمانوں کو اپنے حبیب پاک صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکی محبت پر قائم ودائم رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین۔



باب اول

عشقِ مصطفٰی

صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم





بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
نحمدہ ونصلی ونسلم علٰی حبیبہ الکریم
ایمان واطاعتِ رسول صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم:
ارشاد باری تعالیٰ ہے، ’’(اے حبیب صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم!) بیشک ہم نے تمہیں بھیجا حاضر وناظر، اور خوشی اور ڈرسناتا، تاکہ اے لوگو! تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور رسول کی تعظیم و توقیر کر و اور صبح وشام اللہ کی پا کی بولو‘‘۔()
اسی سورت کی آیت میں فرمایا گیا، ’’اورایمان نہ لائے اللہ اور اس کے رسول پر، تو بے شک ہم نے کافروں کے لیے بھڑکتی آگ تیار کر رکھی ہے‘‘۔() (کنزالایمان )
دوسری جگہ ارشاد ہوا،’’تو ایمان لاؤ اللہ اور اس کے رسول پر اوراُس نور پر جو ہم نے اُتارا‘‘۔()
مزید ار شاد ہوا ، ’’تو ایمان لاؤ اللہ اور اس کے رسول بے پڑھے غیب بتانے والے پر کہ اللہ اور اس کی باتوں پر ایمان لاتے ہیں اور ان کی غلامی کرو کہ تم راہ پاؤ‘‘۔()
اسی سورت کی آیت کے آخر میں فرمایاگیا،’’ تو وہ جو اس پر ایمان لائیں اور اس کی تعظیم کریں اور اسے مد د دیں اور اس نور کی پیر وی کریں جو اس کے ساتھ اترا،وہی بامراد ہوئے‘‘۔() (کنز الایمان ازاعلیٰ حضرت امام رضا محدث بریلوی قدس سرہٗ)
ان آیات کریمہ سے معلوم ہوا کہ حضورصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی نبوت ورسالت پر ایمان لانا اور آپ کی تعظیم و تو قیر کر نا فرض ہے۔ کتاب الشفامیں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم پر ایمان لانے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی و حدانیت ، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی نبوت و رسالت اور احکام الٰہیہ جو حضور نبیِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے بیان فرمائے ان سب کازبان سے اقرار اور دل سے تصدیق کرے۔ جب زبانی اقرار اور قلبی تصدیق دونوں جمع ہوں گی تب ہی ایمان مکمل ہوگا۔
محض زبانی اقرارِ رسالت کو قرآن حکیم نے منافقت قرار دیاہے۔ سورہ منافقون کی پہلی آیت میں ارشاد ہوا،’’جب منافق تمہارے حضور حاضر ہو تے ہیں (تو) کہتے ہیں کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ حضور بیشک یقیناً اللہ کے رسول ہیں، اور اللہ جانتا ہے کہ تم اس کے رسول ہو، اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ منافق ضرور جھوٹے ہیں‘‘۔() (کنز الایمان)
نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم پر ایمان لانے کے ساتھ ہی آپ کی اطاعت واتباع بھی واجب ہو گئی۔ قرآن کریم کی چند آیات ملا حظہ فرمائیں۔
1۔’’اے محبوب تم فرمادو کہ لوگو!اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میر ے فرمانبر دار ہو جاؤ۔ اللہ تمہیں دوست رکھے گااورتمہارے گناہ بخش دے گااوراللہ بخشنے والا مہر بان ہے‘‘۔()
2۔ ’’تم فرمادو کہ حکم مانو اللہ اور اس کے رسول کا‘‘۔()
Share:
keyboard_arrow_up