Jamal e Mustafa

Total Pages: 120

Page 11 of 120
(بخاری،ج4، ص 283، حدیث نمبر: 6632)
خیال رہے کہ حضرت عمررضی اللہ عنہ نے پہلے یہ کہا کہ مجھے اپنی جان سے محبت ہے اور پھر یہ کہا کہ آپ مجھے میری جان سے بھی زیادہ محبو ب ہیں، اس کی کیا وجہ ہے ؟ اس کی دو وجوہ ہیں۔
ایک تو یہ احتمال ہے کہ آپ نے شاید پہلے یہ سمجھا ہو کہ محبت سے مراد طبعی محبت ہے اور پھر حضورصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے ارشاد کے بعد سمجھ لیاہو کہ اس سے مراد محبت عقلی اور ایمانی ہے۔ لیکن دوسرا احتمال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عمررضی اللہ عنہکو نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی توجہ سے اس اعلیٰ مقام پر پہنچا دیا اور آپ کے دل میں حضو رکی محبت ایسے پختہ ہو گئی گویا کہ حضور ہی حضرت عمر کی حیات اور عقل بن گئے۔ یعنی پہلے بشری تقاضے کے مطابق آپ کو واقعی اپنی ذات سے محبت زیادہ ہو لیکن حضورصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی خصوصی توجہ کی وجہ سے آپ کو یہ بلندو با لامقام حاصل ہو گیا کہ آپ کو اپنی جان سے زیادہ محبت نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم سے ہوگئی اور مقصدِ حیات آپ ہی بن گئے۔
علامہ قرطبی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جس شخص کو نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی محبت کی وجہ سے کامل ایمان حاصل ہوگیاوہ کبھی اس کے فوائد سے محروم نہیں ہوسکتا، بے شک وہ خواہشات میں کیوں نہ گھرا ہوا ہو، اکثر اوقات اس پر غفلت کے پردے کیوں نہ چھائے ہوں پھر بھی وہ اپنے نبی کا ذکر آنے پر آپ کو دیکھنے کا مشتاق ہو جاتاہے۔
آپ کی ظاہری حیاتِ طیبہ میں آپ کی محبت کے پیش نظر صحابہ کرام نے آپ پراپنے اہل وعیال، خویش واقارب اور مال ودولت کو قربان کر دیا اور پُرخطر مقامات پر انہیں اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنے کا کوئی خوف دامن گیر نہیں ہوا۔
اب بھی ہم روز مرہ مشاہدہ کررہے ہیں کہ کتنے ہی لوگ کثیر شہوات میں مبتلا رہتے ہیں، اکثر وقت لہوولعب میں گذار تے ہیں، نفع مند اعمال سے غافل رہتے ہیں لیکن جب کبھی نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے مزارِ پر انوار کاذکر کیا جاتاہے، گنبدِ خضرا کا ذکر ہوتا ہے تو وہ آبد یدہ ہو جاتے ہیں ، انکی آنکھوں سے اشک رواں ہوجاتے ہیں اوروہ کثیر مال خرچ کرکے سفر کی صعوبتیں برداشت کرکے آپ کے روضہ مطہرہ کی زیارت کے لیے مد ینہ طیبہ پہنچ جاتے ہیں ، یہ سب کچھ محبتِ رسول صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی برکات کے ثمرات ہیں۔ (ازمرقاۃج 1ص74،73)
اس سے واضح ہواکہ رسول اللہصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی محبت کے بغیر ایمان کبھی کامل نہیں ہوسکتا خواہ کوئی ہزاروں سجدے ہی کیوں نہ کرتا رہے۔ اوریہ بھی معلوم ہوا کہ اکثر اوقات خواہشات اورغفلت میں گذرنے کے باوجود آپ کی محبت کی برکات ضرور حاصل ہوتی ہیں۔
جب وہ محبوب بے مثل بھی ہے بے مثال بھی ، باجمال بھی ہے باکمال بھی، حسنِ صورت میں اس کا کوئی ثانی نہیں، حسنِ سیرت میں اس کی کوئی نظیر نہیں، وہ محبوب جس کاہر عضو کسی نہ کسی معجزہ سے مزین ہے ، وہ محبوب جس کاپسینہ مبارک کستوری وعنبر سے زیادہ خوشبودار ہے، وہ محبوب جن کے فضلات بھی برکات سے خالی نہیں، اس محبوب سے محبت کرنے کے لیے اس کے اوصاف و کمالات سے باخبر ہونا ضروری ہے۔
وہ اوصاف بیان کرنے میں عمریں بیت سکتی ہیں لیکن ان کابیان مکمل نہیں ہوسکتا۔ ان کو قرطاسِ ابیض پر رقم کرنے کے لیے کئی دفاتر بھی نا کافی ہو نگے لیکن جہاں تک ممکن ہو سکے انسان ان سے آگاہ رہے ، کیونکہ آپ کے اوصاف کا علم حاصل ہونے پر محبت میں اور اضافہ ہوگا۔ احادیث کی کتب میں آپ کے اوصاف وکمالات مختلف ابواب میں مندرج ہیں یعنی وہ موتی مختلف جگہ بکھرے ہوئے ہیں جنہیں عام انسان کے لیے ایک جگہ جمع کرنے اور انہیں ایک سلک میں پروکر ایک قیمتی ہار کی شکل میں لانے کی ضرورت تھی۔
Share:
keyboard_arrow_up