خیال رہے کہ حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ نے پہلے یہ کہا کہ مجھے اپنی جان سے محبت ہے اور پھر یہ کہا کہ آپ مجھے میری جان سے بھی زیادہ محبو ب ہیں، اس کی کیا وجہ ہے؟
اس کی دو وجوہ ہیں۔
ایک تو یہ احتمال ہے کہ:
آپ نے شاید پہلے یہ سمجھا ہو کہ محبت سے مراد طبعی محبت ہے اور پھر حضور ﷺ کے ارشاد کے بعد سمجھ لیا ہو کہ اس سے مراد محبت عقلی اور ایمانی ہے۔
لیکن دوسرا احتمال یہ ہے کہ:
اللّٰہ تعالیٰ نے حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ کو نبی کریم ﷺ کی توجہ سے اس اعلیٰ مقام پر پہنچا دیا اور آپ کے دل میں حضور کی محبت ایسے پختہ ہو گئی گویا کہ حضور ہی حضرت عمر کی حیات اور عقل بن گئے۔
یعنی پہلے بشری تقاضے کے مطابق آپ کو واقعی اپنی ذات سے محبت زیادہ ہو لیکن حضور ﷺ کی خصوصی توجہ کی وجہ سے آپ کو یہ بلند و بالا مقام حاصل ہو گیا کہ آپ کو اپنی جان سے زیادہ محبت نبی کریم ﷺ سے ہوگئی اور مقصدِ حیات آپ ہی بن گئے۔
علامہ قرطبی رحمۃ اللّٰہ علیہ فرماتے ہیں کہ:
جس شخص کو نبی کریم ﷺ کی محبت کی وجہ سے کامل ایمان حاصل ہوگیا وہ کبھی اس کے فوائد سے محروم نہیں ہوسکتا، بے شک وہ خواہشات میں کیوں نہ گھرا ہوا ہو، اکثر اوقات اس پر غفلت کے پردے کیوں نہ چھائے ہوں پھر بھی وہ اپنے نبی کا ذکر آنے پر آپ کو دیکھنے کا مشتاق ہو جاتاہے۔
آپ کی ظاہری حیاتِ طیبہ میں آپ کی محبت کے پیش نظر صحابہ کرام نے آپ پر اپنے اہل و عیال، خویش و اقارب اور مال و دولت کو قربان کر دیا اور پُرخطر مقامات پر انہیں اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنے کا کوئی خوف دامن گیر نہیں ہوا۔ اب بھی ہم روز مرہ مشاہدہ کر رہے ہیں کہ کتنے ہی لوگ کثیر شہوات میں مبتلا رہتے ہیں، اکثر وقت لہو و لعب میں گذار تے ہیں، نفع مند اعمال سے غافل رہتے ہیں لیکن جب کبھی نبی کریم ﷺ کے مزارِ پر انوار کا ذکر کیا جاتاہے، گنبدِ خضرا کا ذکر ہوتا ہے تو وہ آبد یدہ ہو جاتے ہیں، انکی آنکھوں سے اشک رواں ہوجاتے ہیں اور وہ کثیر مال خرچ کر کے سفر کی صعوبتیں برداشت کر کے آپ کے روضہ مطہرہ کی زیارت کے لیے مد ینہ طیبہ پہنچ جاتے ہیں، یہ سب کچھ محبتِ رسول ﷺ کی برکات کے ثمرات ہیں۔
(ازمرقاۃج 1ص74،73)
اس سے واضح ہوا کہ رسول اللّٰہ ﷺ کی محبت کے بغیر ایمان کبھی کامل نہیں ہوسکتا خواہ کوئی ہزاروں سجدے ہی کیوں نہ کرتا رہے۔ اوریہ بھی معلوم ہوا کہ اکثر اوقات خواہشات اور غفلت میں گذرنے کے با وجود آپ کی محبت کی برکات ضرور حاصل ہوتی ہیں۔
جب وہ محبوب بے مثل بھی ہے بے مثال بھی، باجمال بھی ہے باکمال بھی، حسنِ صورت میں اس کا کوئی ثانی نہیں، حسنِ سیرت میں اس کی کوئی نظیر نہیں، وہ محبوب جس کا ہر عضو کسی نہ کسی معجزہ سے مزین ہے، وہ محبوب جس کا پسینہ مبارک کستوری و عنبر سے زیادہ خوشبودار ہے، وہ محبوب جن کے فضلات بھی برکات سے خالی نہیں، اس محبوب سے محبت کرنے کے لیے اس کے اوصاف و کمالات سے باخبر ہونا ضروری ہے۔
وہ اوصاف بیان کرنے میں عمریں بیت سکتی ہیں لیکن ان کابیان مکمل نہیں ہوسکتا۔ ان کو قرطاسِ ابیض پر رقم کرنے کے لیے کئی دفاتر بھی نا کافی ہونگے لیکن جہاں تک ممکن ہو سکے انسان ان سے آگاہ رہے، کیونکہ آپ کے اوصاف کا علم حاصل ہونے پر محبت میں اور اضافہ ہوگا۔
احادیث کی کتب میں آپ کے اوصاف و کمالات مختلف ابواب میں مندرج ہیں یعنی وہ موتی مختلف جگہ بکھرے ہوئے ہیں جنہیں عام انسان کے لیے ایک جگہ جمع کرنے اور انہیں ایک سلک میں پرو کر ایک قیمتی ہار کی شکل میں لانے کی ضرورت تھی۔

