(بخاری، مسلم، مشکوٰۃکتاب الایمان)
’’تم میں سے کوئی شخص بھی مومن نہیں ہو سکتایہاں تک کہ میں اسے اس کے والد اوراس کی اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں‘‘۔
اس حدیث شریف میں والد کا ذکر ہے والد ہ کا نہیں۔ یاتو اس لیے کہ والد اشرف ہے والدہ سے، یا دوسری وجہ یہ ہے کہ والد کا معنی ہے صاحب اولاد، اس معنی کے لحاظ سے یہ لفظ ماں اور باپ دونوں کو شامل ہو گا یعنی اب مطلب یہ ہوگا کہ وہ مجھے والدین سے زیادہ محبوب سمجھے۔
محبت کی تین قسمیں ہیں، طبعی، عقلی اور ایمانی۔ حدیث شریف میں جس محبت کا ذکر ہے وہ طبعی نہیں کیو نکہ اس میں انسان کو اختیار نہیں اس لیے طبعی محبت حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم سے رکھنے کا حکم نہیں دیا گیا کیونکہ یہ طاقت سے ماورا ہے اور طاقت سے زائد چیز کا حکم نہیں دیا جا تا۔
محبت عقلی یہ ہے کہ انسان اپنی عقل سے کسی چیز کو اختیار کرے خواہ وہ خواہشات کے خلاف ہی کیوں نہ ہو جیسے مر یض کا کڑوی دو اپینا، اگر چہ وہ اس سے طبعاًنفرت کرتا ہے لیکن عقل کی وجہ سے اسے اپنے لیے مفید سمجھتے ہو ئے اختیار کر لیتا ہے۔ اس محبت کے لحاظ سے حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو سب سے زیادہ محبوب سمجھنا ضروری ہے یہاں تک کہ آپ نے اگر کسی کو حکم دیا ہو تا کہ تو اپنے کافر والدین یا کا فر اولاد کو قتل کر دے تو اس پر آپ کے حکم پر عمل کر نا فرض ہو تا کیو نکہ عقل کا یہی تقاضا ہے کہ آپ سے محبت والدین اوراولاد کی نسبت زیادہ ہو۔
محبت ایمانی یہ ہے کہ محبوب کی بز رگی، عزت، احسا ن اور ر حمت کی وجہ سے محبت ہو۔ اس محبت ایمانی کا تقاضا یہ ہے کہ محبوب کی اغراض کو غیروں کی اغراض پر ترجیح دے یہاں تک کہ اپنے قریبی رشتہ داروں اور اپنی جان سے بھی محبو ب کو زیادہ عزیز سمجھے۔
وَلَمَّا کَانَ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ جَامِعًا لِّمُوْجِبَاتِ الْمَحَبَّۃِ مِنْ حُسْنِ الصُّوْرَۃِ وَالسِّیْرَۃِ وَکَمَالِ الْفَضْلِ وَالْاِحْسَانِ مَالَمْ یَبْلُغْہُ غَیْرُہٗ اِسْتَحَقَّ اَنْ یَکُوْنَ اَحَبَّ اِلَی الْمُؤْمِنِ مِنْ نَفْسِہٖ فَضْلًا مِنْ غَیْرِہٖ
جب نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلممیں محبت کی تمام وجوہ موجود ہیں، حسنِ صورت آپ کو حاصل ہے، حسنِ سیرت کے آپ مالک ہیں، فضل واحسان میں آپ کو وہ کمال درجہ حاصل ہے جو کسی کو حاصل نہیں ،تو اب ایمان کا تقاضایہ ہے کہ مومن اپنی جان سے بھی زیادہ آپ کو محبو ب سمجھے۔ جب اپنی جان سے بھی آپ کو زیادہ محبوب سمجھنا ضروری ہوگیا تو دوسروں سے زیادہ آپ سے محبت کرنا تو اور بھی زیادہ ضروری ہوگیا۔
اس اعلیٰ درجہ کی محبت کو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہنے حاصل کیا، جب آپ نے یہ حدیث پاک سنی تو حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی خدمت میں عرض کیا ،
یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! لَاَنْتَ اَحَبُّ اِلَیَّ مِنْ کُلِّ شَیْئٍ اِلَّامِنْ نَفْسِیْ
یارسول اللہ! آپ مجھے ہر ایک سے زیادہ محبوب ہیں سوائے میری اپنی جان کے۔ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمنے فرمایا،
لَا وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ حَتّٰی اَکُوْنَ اَحَبَّ اِلَیْکَ مِنْ نَفْسِکَ
نہیں ! قسم ہے اُس ذات کی جس کے قبضۂ قدرت میں میر ی جان ہے یہاں تک کہ میں تمہیں تمہاری جان سے بھی زیادہ محبوب ہو جاؤں۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا، فَاِنَّکَ اَلْاٰنَ وَاللہ اَحَبُّ اِلَیَّ مِنْ نَفْسِیْقسم ہے اللہ تعالیٰ کی اب آپ مجھے میری جان سے بھی محبوب ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا،اَلْاٰنَ یَاعُمَرُ تَمَّ اِیْمَانک، اے عمر ! اب تمہارا ایمان مکمل ہوا۔
Page 10 of 120

