Jamal e Mustafa

Total Pages: 118

Page 10 of 118

مقدمہ

بسم اللّٰہ الرحمن الر حیم

والصلوٰۃ والسلام علیٰ رسولہ الکریم

حضرت انس رضی اللّٰہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نے فر مایا،

لَایُؤْمِنُ اَحَدُکُمْ حَتّٰی اَکُوْنَ اَحَبَّ اِلَیْہِ مِنْ وَّالِدِہٖ وَوَلَدِہٖ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْن۔

’’تم میں سے کوئی شخص بھی مومن نہیں ہو سکتا یہاں تک کہ میں اسے اس کے والد اور اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں‘‘۔

(بخاری، مسلم، مشکوٰۃکتاب الایمان)

اس حدیث شریف میں والد کا ذکر ہے والدہ کا نہیں۔ یا تو اس لیے کہ والد اشرف ہے والدہ سے، یا دوسری وجہ یہ ہے کہ والد کا معنی ہے صاحب اولاد، اس معنی کے لحاظ سے یہ لفظ ماں اور باپ دونوں کو شامل ہو گا یعنی اب مطلب یہ ہوگا کہ وہ مجھے والدین سے زیادہ محبوب سمجھے۔

محبت کی تین قسمیں ہیں،

طبعی، عقلی اور ایمانی۔

حدیث شریف میں جس محبت کا ذکر ہے وہ طبعی نہیں کیو نکہ اس میں انسان کو اختیار نہیں اس لیے طبعی محبت حضور سے رکھنے کا حکم نہیں دیا گیا کیونکہ یہ طاقت سے ماورا ہے اور طاقت سے زائد چیز کا حکم نہیں دیا جاتا۔

محبت عقلی یہ ہے کہ:

انسان اپنی عقل سے کسی چیز کو اختیار کرے خواہ وہ خواہشات کے خلاف ہی کیوں نہ ہو جیسے مر یض کا کڑوی دو اپینا، اگر چہ وہ اس سے طبعاً نفرت کرتا ہے لیکن عقل کی وجہ سے اسے اپنے لیے مفید سمجھتے ہو ئے اختیار کر لیتا ہے۔ اس محبت کے لحاظ سے حضور کو سب سے زیادہ محبوب سمجھنا ضروری ہے یہاں تک کہ آپ نے اگر کسی کو حکم دیا ہو تا کہ تو اپنے کافر والدین یا کا فر اولاد کو قتل کر دے تو اس پر آپ کے حکم پر عمل کر نا فرض ہو تا کیو نکہ عقل کا یہی تقاضا ہے کہ آپ سے محبت والدین اور اولاد کی نسبت زیادہ ہو۔

محبت ایمانی یہ ہے کہ:

محبوب کی بزرگی، عزت، احسا ن اور رحمت کی وجہ سے محبت ہو۔ اس محبت ایمانی کا تقاضا یہ ہے کہ محبوب کی اغراض کو غیروں کی اغراض پر ترجیح دے یہاں تک کہ اپنے قریبی رشتہ داروں اور اپنی جان سے بھی محبوب کو زیادہ عزیز سمجھے۔

وَلَمَّا کَانَ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ جَامِعًا لِّمُوْجِبَاتِ الْمَحَبَّۃِ مِنْ حُسْنِ الصُّوْرَۃِ وَالسِّیْرَۃِ وَکَمَالِ الْفَضْلِ وَالْاِحْسَانِ مَالَمْ یَبْلُغْہُ غَیْرُہٗ اِسْتَحَقَّ اَنْ یَکُوْنَ اَحَبَّ اِلَی الْمُؤْمِنِ مِنْ نَفْسِہٖ فَضْلًا مِنْ غَیْرِہٖ

جب نبی کریم میں محبت کی تمام وجوہ موجود ہیں، حسنِ صورت آپ کو حاصل ہے، حسنِ سیرت کے آپ مالک ہیں، فضل واحسان میں آپ کو وہ کمال درجہ حاصل ہے جو کسی کو حاصل نہیں، تو اب ایمان کا تقاضایہ ہے کہ مومن اپنی جان سے بھی زیادہ آپ کو محبو ب سمجھے۔ جب اپنی جان سے بھی آپ کو زیادہ محبوب سمجھنا ضروری ہوگیا تو دوسروں سے زیادہ آپ سے محبت کرنا تو اور بھی زیادہ ضروری ہوگیا۔ اس اعلیٰ درجہ کی محبت کو حضرت عمر فاروق رضی اللّٰہ عنہ نے حاصل کیا، جب آپ نے یہ حدیث پاک سنی تو حضور کی خدمت میں عرض کیا،

یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! لَاَنْتَ اَحَبُّ اِلَیَّ مِنْ کُلِّ شَیْئٍ اِلَّامِنْ نَفْسِیْ

یا رسول اللّٰہ! آپ مجھے ہر ایک سے زیادہ محبوب ہیں سوائے میری اپنی جان کے۔

حضور نے فرمایا،

لَا وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ حَتّٰی اَکُوْنَ اَحَبَّ اِلَیْکَ مِنْ نَفْسِکَ

نہیں! قسم ہے اُس ذات کی جس کے قبضۂ قدرت میں میر ی جان ہے یہاں تک کہ میں تمہیں تمہاری جان سے بھی زیادہ محبوب ہو جاؤں۔

حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ نے عرض کیا،

فَاِنَّکَ اَلْاٰنَ وَاللّٰہ اَحَبُّ اِلَیَّ مِنْ نَفْسِیْ

قسم ہے اللّٰہ تعالیٰ کی اب آپ مجھے میری جان سے بھی محبوب ہیں۔

حضور ﷺ  نے فرمایا،

اَلْاٰنَ یَاعُمَرُ تَمَّ اِیْمَانک،

اے عمر ! اب تمہارا ایمان مکمل ہوا۔

(بخاری،ج4، ص 283، حدیث نمبر: 6632)

Share:
keyboard_arrow_up