Jamal e Mustafa

Total Pages: 120

Page 9 of 120
سر تا بقدم ہے تنِ سلطانِ زمن پھول
لب پھول دہن پھول ذقن پھول بدن پھول
آپ نے آقائے دو جہا ںصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکے جسمِ اقدس اوراعضائے مبارکہ کو پھول سے تشبیہ تو دی ہے مگران کے حسن وجمال کا بے مثل ہونا بھی بیان فرمایاہے،
وہ کمالِ حسنِ حضور ہے کہ گمانِ نقص جہاں نہیں
یہی پھول خار سے دور ہے یہی شمع ہے کہ دھواں نہیں
نہیں جس کے رنگ کا دوسرا، نہ تو ہو کوئی نہ کبھی ہوا
کہو اُس کو گل کہے کیا کوئی کہ گلوں کا ڈھیر کہا ں نہیں
اُس گلِ باغِ رسالت، نور مجسم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی زیارت خواب میں بھی کئی امتیوں کو عطا ہوئی اور بیداری میں بھی۔ بعض مقرب اولیاء کرام کی طرح ولی ٔ کامل اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ پر بھی آقا کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے خاص کرم فرمایا کہ انہیں بیداری میں مواجہہ اقدس میں اپنادیدار عطا فرمایا۔
تحدیثِ نعمت کے طور پر عرض ہے کہ بچپن میں جبکہ قرآن کریم کے چند ہی پارے حفظ ہوئے تھے، ایک شب جب یہ نا کارہ و خطا کار سویا تو قسمت بیدار ہوئی اور خواب میں آقا و مولیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی زیارت نصیب ہو گئی۔
بخدا کہ رشکم آید بدو چشم روشن خود
کہ نظر دریغ باشد بچنیں لطیف روئے
’’خداکی قسم !مجھے اپنی ان آنکھوں پر رشک آرہاہے کہ ایسے بے مثال حسنِ کامل کی طرف نظر کرنا ہی غیرت کا مقام ہے‘‘۔
؎خدایا ایں کرم بارِ دگر کن
حبیب کبریاصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکا ظاہری و باطنی حسن وجمال بیان کر نے کے لیے علم دین کے علاوہ اللہ تعالیٰ اور اس کے حبیب صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکا خاص کرم بھی شاملِ حال ہونا ضروری ہے۔ قاضی عیاض مالکی کی کتاب الشفا، حافظ ابو نعیم کی دلائل النبوۃ، امام بیہقی کی دلائل النبوۃ، امام سیوطی کی خصائص الکبریٰ اور شیخ عبدالحق محدث دہلوی علیہم الر حمہ کی مد ارج النبوت کو جو قبولیت حاصل ہوئی وہ اپنی مثال آپ ہے۔
مو جودہ دور کی مصروف ترین زندگی میں ایک ایسی کتاب کی اشد ضرورت تھی جو مختصر بھی ہو اور جامع بھی،نیز یہ کہ اس میں جما لِ صورت بھی ہو اور جمالِ سیرت بھی۔
الحمدللہ!اُستاذی ومرشدی پیر طریقت، رہبرشریعت، مفکر اسلام، علامہ سید شاہ تراب الحق قادری علیہ الرحمہ کی تصنیف لطیف’’جمالِ مصطفیصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم‘‘ نے وقت کی اس اہم ترین ضرورت کو پورا فرمایا اور عام قاری کے لیے مذکورہ ضخیم وعظیم کتب کا خلاصہ تحریرفرمایا۔
ہزار شکر اس رب کریم کا جس نے مجھ عاجزوناکارہ کو اس کتاب کی ترتیب اور طباعت کا اہتمام کرنے کی سعادت عطا فرمائی۔ قبلہ شاہ صاحب علیہ الرحمہ کی خواہش کے مطابق نئی کتابت کے ساتھ یہ ایمان افروز کتاب پیشِ خدمت ہے۔ اگرچہ آپ پردہ فرما چکے مگر آپ کی کتب آپ کے لیے ہمیشہ صدقۂ جاریہ رہیں گی۔
حضرت شاہ صاحب علیہ الرحمہ، مجھ فقیر اورحلقۂ قادریہ کے اراکین کی جانب سے ’’جمالِ مصطفیصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم ‘‘کا تحفہ آقا و مولیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمہی کی نذر ہے، گر قبول افتدزہے عز و شرف۔
اُن کی دھن، اُن کی لگن، اُن کی تمنا، اُن کی یاد
مختصر سا ہے مگر کافی ہے سامانِ حیات

عبدالمصطفیٰ، محمد آصف قادری غفرلہ ٗ

مقدمہ
بسم اللہ الرحمن الر حیم والصلوٰۃ والسلام علیٰ رسولہ الکریم
حضرت انسرضی اللہ عنہسے مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فر مایا، لَایُؤْمِنُ اَحَدُکُمْ حَتّٰی اَکُوْنَ اَحَبَّ اِلَیْہِ مِنْ وَّالِدِہٖ وَوَلَدِہٖ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْن۔
Share:
keyboard_arrow_up