Jamal e Mustafa

Total Pages: 118

Page 9 of 118

مخزنِ حسن اور منبعِ جمال، نورِ مجسم  کے حسن و جمال کو اعلیٰ حضرت قدس سرہ ٗایک نعت میں یوں بیان کرتے ہیں،

سر تا  بقدم  ہے  تنِ  سلطانِ  زمن  پھول

لب پھول دہن پھول ذقن پھول بدن پھول

 

آپ نے آقائے دو جہاں کے جسمِ اقدس اور اعضائے مبارکہ کو پھول سے تشبیہ تو دی ہے مگران کے حسن و جمال کا بے مثل ہونا بھی بیان فرمایا ہے،

 

وہ کمالِ حسنِ حضور ہے کہ گمانِ نقص جہاں نہیں

یہی پھول خار سے دور ہے یہی شمع ہے کہ دھواں نہیں

نہیں جس کے رنگ کا دوسرا، نہ تو ہو کوئی نہ کبھی ہوا

کہو اُس کو گل کہے کیا کوئی کہ گلوں کا ڈھیر کہاں نہیں

اُس گلِ باغِ رسالت، نور مجسم کی زیارت خواب میں بھی کئی امتیوں کو عطا ہوئی اور بیداری میں بھی۔ بعض مقرب اولیاء کرام کی طرح ولی ٔ کامل اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ پر بھی آقا کریم  نے خاص کرم فرمایا کہ انہیں بیداری میں مواجہہ اقدس میں اپنا دیدار عطا فرمایا۔

تحدیثِ نعمت کے طور پر عرض ہے کہ بچپن میں جبکہ قرآن کریم کے چند ہی پارے حفظ ہوئے تھے، ایک شب جب یہ نا کارہ و خطا کار سویا تو قسمت بیدار ہوئی اور خواب میں آقا و مولیٰ کی زیارت نصیب ہو گئی۔

بخدا کہ رشکم آید بدو چشم روشن خود

کہ  نظر دریغ  باشد  بچنیں  لطیف روئے

 

’’خداکی قسم !مجھے اپنی ان آنکھوں پر رشک آرہا ہے کہ ایسے بے مثال حسنِ کامل کی طرف نظر کرنا ہی غیرت کا مقام ہے‘‘۔

خدایا ایں کرم بارِ دگر کن

حبیب کبریا  کا ظاہری و باطنی حسن و جمال بیان کر نے کے لیے علم دین کے علاوہ اللّٰہ تعالیٰ اور اس کے حبیب ﷺ  کا خاص کرم بھی شاملِ حال ہونا ضروری ہے۔

قاضی عیاض مالکی کی کتاب الشفا، حافظ ابو نعیم کی دلائل النبوۃ، امام بیہقی کی دلائل النبوۃ، امام سیوطی کی خصائص الکبریٰ اور شیخ عبدالحق محدث دہلوی علیہم الر حمہ کی مدارج النبوت کو جو قبولیت حاصل ہوئی وہ اپنی مثال آپ ہے۔

مو جودہ دور کی مصروف ترین زندگی میں ایک ایسی کتاب کی اشد ضرورت تھی جو مختصر بھی ہو اور جامع بھی،نیز یہ کہ اس میں جمالِ صورت بھی ہو اور جمالِ سیرت بھی۔

الحمدللّٰہ! اُستاذی ومرشدی پیر طریقت، رہبرشریعت، مفکر اسلام، علامہ سید شاہ تراب الحق قادری علیہ الرحمہ کی تصنیف لطیف’’جمالِ مصطفیٰ ‘‘  نے وقت کی اس اہم ترین ضرورت کو پورا فرمایا اور عام قاری کے لیے مذکورہ ضخیم و عظیم کتب کا خلاصہ تحریر فرمایا۔

ہزار شکر اس رب کریم کا جس نے مجھ عاجز وناکارہ کو اس کتاب کی ترتیب اور طباعت کا اہتمام کرنے کی سعادت عطا فرمائی۔ قبلہ شاہ صاحب علیہ الرحمہ کی خواہش کے مطابق نئی کتابت کے ساتھ یہ ایمان افروز کتاب پیشِ خدمت ہے۔ اگرچہ آپ پردہ فرما چکے مگر آپ کی کتب آپ کے لیے ہمیشہ صدقۂ جاریہ رہیں گی۔

حضرت شاہ صاحب علیہ الرحمہ، مجھ فقیر اور حلقۂ قادریہ کے اراکین کی جانب سے ’’جمالِ مصطفیٰ ‘‘ کا تحفہ آقا و مولیٰ ہی کی نذر ہے، گر قبول افتدزہے عز و شرف۔

اُن کی دھن، اُن کی لگن، اُن کی تمنا، اُن کی یاد

مختصر   سا   ہے  مگر  کافی  ہے   سامانِ   حیات

عبدالمصطفیٰ، محمد آصف قادری غفرلہ ٗ 

Share:
keyboard_arrow_up