پھر محب اپنے محبوب کی تعریف میں یوں لب کشا ہوتا ہے،
دل ہے وہ دل جو تیری یاد سے معمور رہا
سر ہے وہ سر ترے قدموں پہ قربان گیا
جان و دل ہوش و خرد سب تو مدینے پہنچے
تم نہیں چلتے رضاؔ سارا تو سامان گیا
شمعِ رسالت کے پروانوں نے اپنے آقا و مولیٰ ﷺ کے ساتھ اپنے اپنے ذوق اور علم کے مطابق محبت کا اظہار کیا ہے۔ حضور ﷺ کے چار سو اسمائے گرامی امام قسطلانی نے ’’مواہب الدنیہ‘‘ میں بیان فرمائے۔
جبکہ قاضی ابوبکر ابن العر بی نے احکام القرآن میں بعض صوفیائے کرام کے حوالے سے لکھا کہ اللّٰہ تعالیٰ کے ہزار نام ہیں اور نبی کریم ﷺ کے بھی ہزار نام ہیں اور ہر نام ایک وصف کو ظاہر کرتا ہے۔
شیخ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے حبیب ﷺ کو اپنے اسمائے حسنیٰ سے مشرف فرمایا جن میں:
الحمید، رؤف، رحیم، نور، الحق، المبین، الشھید، الکریم، العظیم، الجبار، الخبیر، الفتاح، الشکور، العلیم، الاول، الاخر، القوی، الصادق، الولی، المولیٰ، العفو، الھادی، المو من، المھیمن، العزیز، المقدس، مبشر، بشیر اور نذیر شامل ہیں۔
آقا و مولیٰ ﷺ فخر موجودات، مقصودکائنات، صاحب معجزات، جامع صفات، باعث تخلیق کائنات، ارفع الدرجات، اکمل البرکات، مالک کونین، سیدالثقلین، نبی الحرمین، سیدالمرسلین، خاتم النبین، امام المتقین، شفیع المذنبین، راحۃ العاشقین، مرادالمشتاقین، شمس العارفین، سراج السالکین، مصباح المقربین، اکرم الاکرمین، اجمل الاجملین، اکمل الاکملین، محبوب رب دوجہاں، وجہ قرارکون ومکاں، راحت قلب وجسم وجاں، شافع عاصیاں، حامیٔ بیکساں، شمس الضحیٰ، بدرالدجیٰ، صدرالعلیٰ، نورالھدی، خیرالوری، صاحبِ شفاعتِ کبریٰ، صاحب معراج و اسر یٰ، غنچۂ رازِ وحدت، چشمۂ علم وحکمت ، نو شۂ بزمِ جنت قاسم کنزِ نعمت، نو بہارِ شفاعت، گل باغِ رسالت، شمع ِبز م ہدایت، مصطفی جانِ رحمت، جمیل الشیم، شفیع الا مم، شہر یارِارم، تاجدارِحرم، منبع جو دو کرم، سیدالعرب والعجم، دافع البلاء والالم، صاحب لوح وقلم، مدنی تاجدار، حبیب پروردگار، سید ابرار، احمد مختار، مالک کل، دانائے سبل، ختم الر سل، مولائے کل، فخردوعالم، نورمقدم، قبلۂ عالم، کعبۂ اعظم، سر کارِ دوعالم، نبی مکرم، رسولِ معظم ﷺ باری تعالیٰ کی ذات و صفات کے کامل مظہر اور ظاہری وباطنی حسن و جمال کے بے مثل وبے مثال پیکر ہیں۔ آپ جیسا نہ کوئی ہوا ہے اور نہ کوئی ہوگا۔ مولانا حسن رضا خاں فرماتے ہیں،
آسماں گر ترے تلووں کا نظارا کرتا
روز اک چاند تصدّق میں اُتارا کرتا
دھوم ذروں میں اَنا الشمس کی پڑ جاتی ہے
جس طرف سے ہے گذر چاند ہمارا کرتا
عاشق رسول ﷺ، حسان الہند اعلیٰ حضرت امام احمد رضا محد ث بریلوی رحمۃ اللّٰہ علیہ نے اپنے نعتیہ دیوان’’حدائق بخشش‘‘ میں آقا و مولیٰ ﷺ کے حسن و جمال اور ظاہری و باطنی کمالات کو اشعار کی صورت میں بیان فرمایا ہے۔
اس حوالے سے امام اہلِ سنّت کا مقبول و معروف سلام، ’’مصطفی جانِ رحمت پہ لاکھو ں سلام ‘‘ خاص طور پر قابل ذکر ہے جو پیکرِ حسن و جمال کی رعنائیوں کا نہایت ایمان افروز اور دلکش بیا ن ہے۔

