فرمانِ الٰہی ہے،
﴿اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَیَجْعَلُ لَهُمُ الرَّحْمٰنُ وُدًّا﴾
’’بے شک وہ جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے، عنقریب اُن کے لیے رحمٰن (مسلمانوں کے دلوں میں) محبت ڈال دے گا‘‘۔
(مریم:96)
امام احمد بن حنبل علیہ الرحمہ کا یہ قول مشہور ہے کہ
’’ہمارے جنازے ہمارے حق پر ہونے کی گواہی دیں گے‘‘۔
نیز حدیث شریف میں مسلمانوں کو زمین پر اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے گواہ قرار دیا گیا ہے۔ بلاشبہ ان کے جنازوں میں لاکھوں مسلمانوں کی شرکت ان پاکیزہ بزرگوں کے حق پر ہونے کی دلیل بھی ہے اور ان کے اولیاء اللّٰہ ہونے کی سند بھی۔
پیش لفظ
اَلْحَمْدُ لَکَ یَا رَبَّ الْعَالَمِیْنَ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلاَمُ عَلَیکَ یارَحْمَۃً الِّلْعَالَمِیْن
تمام تعریفیں اللّٰہ تعالیٰ عزوجل کے لیے ہیں جس نے سیدنا محمدِ مصطفی احمدِ مجتبیٰ رسولِ مرتضٰی عَلَیْہِ التَّحِیَّۃُ وَالثَّنَاء کو دین حق کے ساتھ، بھٹکتے ہوئے انسانوں کی راہنمائی کے لیے مبعوث فرمایا، ہمارے آقاومولیٰ ﷺ پر بے حد درود اور بے شما ر سلام ہوں۔
انسان، اُنس سے ہے یا نسیان سے۔ اول ُالذکر کے مطابق انسان وہ ہے جو اللّٰہ تعالیٰ اور اس کے حبیبِ لبیب ﷺ سے اُنس یعنی محبت رکھتا ہو۔
اور اگر دوسرا معنی لیا جائے تو انسان وہ ہے جو اللّٰہ تعالیٰ اور حضور اکرم ﷺ سے اتنی محبت کرے کہ ان کے سوا سب کچھ بھول جائے۔ پس حقیقی انسان اور سچا مسلمان ہونے کے لیے ضروری ہے کہ سینے میں عشق حقیقی کی شمع فروزاں کی جائے۔
اِس پرفتن دور میں مسلمانوں کی حا لتِ زارحکیم الامت ڈاکٹر اقبال نے یوں بیان کی:
بجھی عشق کی آگ اندھیر ہے
مسلماں نہیں راکھ کا ڈھیر ہے
شہنشاہِ سخن مولانا حسن رضا خاں علیہ الرحمہ فرماتے ہیں،
دل مرا دنیا پہ شیدا ہو گیا
اے مرے اللّٰہ! یہ کیا ہو گیا
رحمتِ عالم ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے،
’’اپنی اولاد کو تین چیزیں سکھاؤ۔
اول: اپنے آقا کریم ﷺ سے محبت،
دوم: ان کے اہلِ بیت سے محبت اور
سوم: قرآن کا پڑھنا‘‘۔
(الجامع الصغیر ، ص 25، حدیث نمبر: 311)
قرآن و حدیث گواہ ہیں کہ حضور ﷺ کی محبت و غلامی کے بغیر اللّٰہ تعالیٰ کی محبت و بندگی ممکن نہیں۔
صحابہ کرام علیہم الر ضوان کی زندگیاں اسی حقیقت کی آئینہ دار ہیں۔
اَلاَ یَا مُحِبَّ الْمُصْطَفٰی زِدْ صَبَابَتَہٗ وَضَمِّخْ لِسَانَ الذِّکْرِ مِنْکَ لِطِیْبِہٖ وَلاَ تُغَانِ بِالْمُبْطِلِیْنَ فَاِنَّمَا عَلَامَۃُ حُبِّ اللّٰہِ حُبُّ حَبِیْبِہٖ
’’اے عاشقِ مصطفی ﷺ !خبردار ہوجا، تو اُن کے عشق میں خوب ترقی کر اور اپنی زبان کو آقا ﷺکے ذکر کی خوشبو سے خوب معطر کر۔ اور اہلِ باطل کی ہر گز پرواہ نہ کر کیونکہ اللّٰہ تعالیٰ سے محبت کی علامت اُس کے حبیب ﷺ کی محبت ہے‘‘۔ (لابن ابی المجد)
سر وہی جو اُن کے قدموں سے لگا
دل وہی جو اُن پہ شیدا ہوگیا
اُن کے جلووں میں ہیں یہ دلچسپیاں
جو وہاں پہنچا وہیں کا ہوگیا
جب کسی سے محبت ہو جا تی ہے تو عاشق صادق اپنے محبوب کی باتیں،اس کی یادیں، اس کا تصور،اس کے گلی کو چے میں جانا اور اس کا ذکر کرنا اور سننا اپنا مقصدِ حیات سمجھ لیتا ہے اور جب کوئی عشق حقیقی سے سرشار ہو کر محبوب حقیقی، نور من نوراللّٰہ، حبیب کبریا ﷺ کی محبت میں یہی امور اپنالے تو یہ سب کام عبادت بن جاتے ہیں۔

