Jamal e Mustafa

Total Pages: 120

Page 7 of 120
فرمانِ الٰہی ہے،﴿اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَیَجْعَلُ لَهُمُ الرَّحْمٰنُ وُدًّا﴾ ’’بے شک وہ جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے، عنقریب اُن کے لیے رحمن (مسلمانوں کے دلوں میں) محبت ڈال دے گا‘‘۔(مریم:96)
امام احمد بن حنبل علیہ الرحمہ کا یہ قول مشہور ہے کہ ’’ ہمارے جنازے ہمارے حق پر ہونے کی گواہی دیں گے‘‘۔نیز حدیث شریف میں مسلمانوں کو زمین پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے گواہ قرار دیا گیا ہے۔ بلاشبہ ان کے جنازوں میں لاکھوں مسلمانوں کی شرکت ان پاکیزہ بزرگوں کے حق پر ہونے کی دلیل بھی ہے اور ان کے اولیاء اللہ ہونے کی سند بھی۔
پیش لفظ
اَلْحَمْدُ لَکَ یَا رَبَّ الْعَالَمِیْنَ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلاَمُ عَلَیکَ یارَحْمَۃً الِّلْعَالَمِیْن
تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ عزوجل کے لیے ہیں جس نے سیدنا محمدِ مصطفی احمدِمجتبیٰ رسولِ مرتضٰی عَلَیْہِ التَّحِیَّۃُ وَالثَّنَاء کو دین حق کے ساتھ، بھٹکتے ہوئے انسانو ں کی راہنمائی کے لیے مبعوث فرمایا، ہمارے آقاومولیٰصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم پر بے حد درود اور بے شما ر سلام ہوں۔
انسان،اُنس سے ہے یا نسیان سے۔ اول ُالذکر کے مطابق انسان وہ ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے حبیبِ لبیب صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم سے اُنس یعنی محبت رکھتا ہو۔
اور اگر دوسرا معنی لیاجائے تو انسان وہ ہے جو اللہ تعالیٰ اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم سے اتنی محبت کرے کہ ان کے سوا سب کچھ بھول جائے۔
پس حقیقی انسان اور سچا مسلمان ہونے کے لیے ضروری ہے کہ سینے میں عشق حقیقی کی شمع فروزاں کی جائے۔اِس پرفتن دور میں مسلمانوں کی حا لتِ زارحکیم الامت ڈاکٹر اقبال نے یو ں بیا ن کی:
بجھی عشق کی آگ اندھیر ہے
مسلماں نہیں راکھ کا ڈھیر ہے
شہنشاہ ِسخن مولاناحسن رضا خاں علیہ الرحمہ فر ما تے ہیں،
دل مرا دنیا پہ شیدا ہو گیا
اے مرے اللہ! یہ کیا ہو گیا
رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا فرما نِ عالیشان ہے،
’’اپنی اولاد کو تین چیزیں سکھاؤ۔اول:اپنے آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم سے محبت، دوم: ان کے اہلِ بیت سے محبت اور سوم:قرآن کا پڑھنا‘‘۔(الجامع الصغیر ، ص 25، حدیث نمبر: 311)
قرآن وحدیث گواہ ہیں کہ حضو ر صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکی محبت وغلامی کے بغیر اللہ تعالیٰ کی محبت و بندگی ممکن نہیں۔ صحابہ کرام علیہم الر ضوان کی زندگیاں اسی حقیقت کی آئینہ دار ہیں۔
اَلاَ یَا مُحِبَّ الْمُصْطَفٰی زِدْ صَبَابَتَہٗ
وَضَمِّخْ لِسَانَ الذِّکْرِ مِنْکَ لِطِیْبِہٖ
وَلاَ تُغَانِ بِالْمُبْطِلِیْنَ فَاِنَّمَا
عَلَامَۃُ حُبِّ اللّٰہِ حُبُّ حَبِیْبِہٖ
’’اے عاشقِ مصطفی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم!خبردار ہو جا،تو اُن کے عشق میں خوب ترقی کر اور اپنی زبان کو آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکے ذکر کی خوشبوسے خوب معطرکر۔ اور اہلِ باطل کی ہر گزپر و اہ نہ کر کیونکہ اللہ تعالیٰ سے محبت کی علا مت اُس کے حبیب صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی محبت ہے‘‘۔(لابن ابی المجد)
سر وہی جو اُن کے قدموں سے لگا
دل وہی جو اُن پہ شیدا ہوگیا
اُن کے جلووں میں ہیں یہ دلچسپیاں
جو وہاں پہنچا وہیں کا ہو گیا
جب کسی سے محبت ہو جا تی ہے تو عاشق صاد ق اپنے محبوب کی باتیں،اس کی یادیں، اس کا تصور،اس کے گلی کو چے میں جانااور اس کا ذکر کرنااور سننااپنا مقصدِ حیات سمجھ لیتاہے اور جب کوئی عشق حقیقی سے سر شار ہو کر محبوب حقیقی ،نور من نوراللہ، حبیب کبریا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی محبت میں یہی امور اپنا لے تو یہ سب کام عبادت بن جاتے ہیں۔
Share:
keyboard_arrow_up