پھر آپ نے قومی اسمبلی ہی میں ’’مصطفی جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام‘‘ اور ’’یانبی سلام علیک‘‘ پڑھنا شروع کر دیا۔ اس پر اکثر اراکین بھی ساتھ شریک ہوگئے۔
اس صورتحال کو دیکھ کر حکومتی وزیر مقبول احمد خان نے معذرت کی اور مذکورہ قرارداد واپس لینے کا اعلان کیا۔ یوں آپ نے بدمذہبوں کے نا پاک عزائم خاک میں ملا دیے۔
بعض اہلِ علم نے رسوائے زمانہ کتاب ’’تحذیر الناس‘‘ کے متعلق لچکدار رویہ اختیار کیا اور بعض نے حضرت امیر معاویہ رضی اللّٰہ عنہ اور ایمانِ ابی طالب کے بارے میں جمہور اہل سنت کے مذہب سے انحراف کرتے ہوئے بدمذہبوں کی طرف جھکاؤ ظاہر کیا تو آپ نے ﴿ لَا یَخَافُوْنَ لَوْمَۃَ لَآئِم﴾ کا مصداق بن کر دلائل و براہین کے ساتھ انہیں غلط نظریات سے رجوع کی طرف مائل کیا۔ اور جس کسی نے رجوع نہ کیا، آپ نے فکر رضا کے سچے پاسبان ہونے کا حق ادا کیا اور اس سے کنارہ کش ہو گئے۔
عاجزی اور اخلاص:
آپ کی ذات غرور و تکبر سے پاک اور عاجزی کا پیکر تھی۔ جو کوئی آپ کی مجلس میں بیٹھ جاتا، گرویدہ ہوجاتا۔ جب کوئی بیعت ہونے کے لیے آتا تو آپ فرماتے، میں فقیر آدمی ہوں، کوئی اچھا سا پیر تلاش کرو۔ آپ نے اپنے لیے کبھی غیر معمولی القاب کو پسند نہ کیا۔
کئی پیرانِ کرام ائیرپورٹ پر اپنے مریدوں کا آنا پسند کرتے ہیں مگر شاہ صاحب کو یہ بات بالکل پسند نہ تھی۔ کئی علماء و مشائخ متعدد گارڈز کے ہمراہ سفر کرتے ہیں، شاہ صاحب نے کبھی کوئی گارڈ یا گن مین ساتھ نہ رکھا اور اللّٰہ تعالیٰ پر توکل کا عملی درس دیا۔
آپ پیدل چلنے میں یا کسی کے ساتھ موٹر سائیکل پر سفر کرنے میں بھی عار محسوس نہ کرتے۔ اسی طرح کئی علماء عوام سے مصافحہ کیے بغیر جلسوں سے چلے جاتے ہیں، اس کے برعکس شاہ صاحب ہر نماز اور ہر جلسہ کے بعد عوام سے مصافحہ فرماتے۔ آپ کی شخصیت کا وہ پہلو جس نے آپ کو بے شمار معاصرین سے ممتاز کیے رکھا، وہ آپ کا اخلاص ہے۔
آپ جو کام کرتے، اللّٰہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی رضا کے لیے کرتے۔
مثلاً: ملک بھر میں مساجد کی تعمیر، مدارس کی معاونت اور مصیبت زدگان کی امداد۔ ہر سال لوگوں کو بلامعاوضہ ہزاروں تعویذات عطا فرماتے۔ نیز سال میں کم وبیش ایک ہزار تقاریر کیا کرتے مگر کبھی تقریر کا معاوضہ نہیں لیتے۔ شاہ صاحب علیہ الرحمہ کی سب سے بڑی کرامت اتباعِ سنت اور شریعت پر استقامت ہے۔ ولیِ کامل کا وصال: 4 محرم الحرام1438ھ بمطابق 5 اکتوبر 2016ء بروز جمعرات عالمِ اسلام کے عظیم مبلغ،اہل سنت کے بے مثل قائد،مردِ مومن، مردِحق، پیرطریقت حضرت علامہ سید شاہ تراب الحق قادری علیہ الرحمہ اس عالمِ فانی سے پردہ فرما گئے۔
اگلے دن صبح نماز فجر کے بعد سے نماز جمعہ تک بے شمار لوگ قطار درقطار حضرت شاہ صاحب قبلہ کا آخری دیدار کرتے رہے۔ نمازِ جمعہ کے بعد چشمِ فلک نے وہ تاریخ ساز منظر دیکھا کہ شمعِ رسالت کے دس لاکھ سے زائد پروانے اپنے محبوب قائد، اپنے محسن اور پیر و مرشد کی نماز جنازہ ادا کرنے کے لیے ایم اے جناح روڈ اور اس کے اطراف کی گلیوں میں جمع ہو چکے ہیں۔
نماز جنازہ آپ کے جانشیں پیرطریقت علامہ سید شاہ عبدالحق قادری زیدمجدہٗ نے پڑھائی۔
خدا رحمت کند ایں عاشقانِ پاک طینت را
یہ بات زبان زدِ خاص و عام ہے کہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ غازی ممتاز حسین قادری شہید کا ہوا، اور اس کے بعد سب سے بڑا جنازہ حضرت علامہ پیر سید شاہ تراب الحق قادری علیہما الرحمہ کا تھا۔کسی غیر حکومتی شخص کی نمازجنازہ میں کثیر مسلمانوں کی شرکت اس کے عنداللّٰہ مقبول ہونے کی دلیل ہوتی ہے۔

