محمدی مسجد کورنگی کراچی میں حضرت شاہ صاحب نے 1965ء تا 1970ء چھ سال امامت و خطابت فرمائی پھر1970ء تا 1982ء بارہ سال اخوند مسجد کھارادر میں امامت و خطابت کی ذمہ داری ادا کی۔1983ء تا 2012ء مسلسل تیس سال آپ نے میمن مسجد مصلح الدین گارڈن میں امامت وخطابت کے فرائض انجام دئیے۔ دین کی تبلیغ سے محبت کا یہ عالم تھا کہ علالت کے باوجود آپ اپنے گھر سے ملحقہ مسجد حبیب میں نمازظہر کے بعد ایک عرصہ درس دیتے رہے۔
تحریکی خدمات:
حضرت شاہ صاحب قبلہ رحمۃ اللہ علیہ کی ذہانت، دیانت، صداقت، شجاعت، قیادت، وجاہت، تفکر، تدبر، معاملہ فہمی، تفقہ فی الدین،فراست اور تقویٰ ، غرض یہ کہ آپ کی کس کس خوبی کا ذکر کیا جائے، حق تو یہ ہے کہ آپ ایک جامع کمالات شخص تھے۔
آپ نے اکابر علماء کے ساتھ تحریک ختم نبوت میں بھرپور حصہ لیا حتیٰ کہ 7ستمبر 1974ء کو حکومت نے قادیانیوں کو اقلیت قرار دیدیا۔ 1977ء کی تحریک نظامِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم میں بھی آپ نے نمایاں خدمات انجام دیں۔آپ عوام کے مسائل کے حل کے لیے ہمیشہ کوشاں رہے۔ آپ نے اہلِ سنت کی راہنمائی کے لیے 21کتب اور متعدد رسائل و مضامین بھی تحریر فرمائے۔
شاہ صاحب علیہ الرحمہ نے 1992ء میں جماعت اہلِ سنت (پاکستان) کراچی کے لیے دفتر خریدا اور جماعت کی تنظیمِ نو فرمائی۔آپ تاحیات جماعت اہل سنت کراچی کے امیر رہے۔آپ نے تبلیغ دین کے لیے جنوبی افریقہ،کینیا، تنزانیہ، زمبابوے، زنزیبار، زمبیا، سری لنکا، بھارت، عرب امارات، اردن،مصر، بنگلہ دیش، برطانیہ، ہالینڈ، جرمنی، فرانس،اسپین، بیلجیم اور امریکہ کے متعددسفر کیے اور کئی جگہ اہلِ سنت کے دینی ادارے قائم فرمائے نیز اہلسنت کی تنظیم سازی کے علاوہ کارکنوں کی فکری تربیت کا بھی اہتمام کیا۔
پاسبانِ ناموسِ رسالت:
دنیا بھر کے علماء ومشائخ اس بات پر متفق ہیں کہ حضرت شاہ صاحب علیہ الرحمہ ، مجددِ دین وملت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں محدث بریلوی علیہ الرحمہ کے مسلک یعنی مذہبِ اہلِ سنت کے سچے پاسبان تھے۔
اہلِ علم جانتے ہیں کہ موجودہ دور میں اعلیٰ حضرت محدث بریلوی علیہ الرحمہ کا نام باطل کے مقابلے میں حق کی پہچان ہے۔شاہ صاحب نے ساری زندگی اپنی تمام تقاریر اور تصانیف کے ذریعے عظمتِ مصطفی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم اور عشقِ رسول صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا درس دیا۔
حضور تاج الشریعہ نے آپ کے متعلق فرمایا، ’’شاہ صاحب مسلکِ حق کے سچے ترجمان اور پاکستان میں مسلکِ اعلیٰ حضرت کی پہچان ہیں‘‘۔
بحیثیت رکن اسمبلی آپ کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ آپ نے 295/C کا قانون منظور کرایا جس کے تحت توہینِ رسالت کے مرتکب کیلئے موت کی سزا مقرر ہوئی۔
حق گوئی و بے باکی:
حضرت شاہ صاحب ’’آئینِ جواں مرداں، حق گوئی وبے باکی‘‘ کی منہ بولتی تصویر تھے۔ آپ نے قرآن وسنت کی روشنی میں جو حق سمجھا، اسے کسی خوف وخطر کے بغیر اور سودوزیاں سے بے نیاز ہوکر بیان کیا۔
جب آپ قومی اسمبلی کے رکن تھے، اُس وقت نجدی فکر کی علمبردار مؤتمر عالم اسلامی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اذان سے پہلے صلوٰۃ وسلام پڑھنے پر پابندی عائد کی جائے۔ اس پر حکومت نے پارلیمنٹ میں بحث شروع کرائی توقبلہ شاہ صاحب نے قومی اسمبلی میں ببانگِ دہل یہ اعلان فرمایا،
’’ صلوٰۃ وسلام ہرگز بند نہیں ہوسکتا۔ تم تو مسجد میں اذان سے پہلے درودو سلام پر پابندی کا سوچ رہے ہوجبکہ ہم تو یہاں بھی صلوٰۃ وسلام پڑھیں گے‘‘۔
Page 5 of 120

