Jamal e Mustafa

Total Pages: 120

Page 4 of 120
بیعت وخلافت:
1962ء میں حضرت علامہ قاری مصلح الدین صدیقی علیہ الرحمہ کے ارشاد پر آپ بذریعہ خط شہزادۂ اعلیٰ حضرت، مفتی ٔ اعظم پاک وہند مولانا مصطفیٰ رضا خاں بریلوی علیہ الرحمہ سے بیعت ہوئے۔ 1967ء میں درسِ نظامی کی تکمیل کے بعد اگلے سال 1968ء میں آپ بریلی شریف حاضر ہوکر اپنے پیر ومرشد مفتی ٔ اعظم پاک وہند مولانا مصطفی رضا خاں علیہ الرحمہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے۔
تیرہ روز آپ نے حضورمفتی ٔ اعظم علیہ الرحمہ کے دولت خانے پر قیام کیااوراُن سے تعویذات وعملیات کی باقاعدہ تربیت واجازت بھی حاصل کی۔
اسی دوران آپ نے اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کی مسجدرضا میں کئی نمازوں کی امامت فرمائی اور مفتی ٔ اعظم علیہ الرحمہ نے آپ کی اقتداء میں نمازیں ادا کیں۔ آپ نے اُن کی موجودگی میں کئی جلسوں میں تقاریر بھی کیں اور اُن سے روحانی توجہ اور دعائیں حاصل کیں۔
آپ کو مفتی ٔ اعظم پاک وہند،ولی ٔ کامل علامہ قاری مصلح الدین صدیقی، قطبِ مدینہ علامہ مولانا ضیاء الدین مدنی، اُن کے صاحبزادے فضیلۃُ الشیخ زینتُ العلماء حضرت علامہ فضل الرحمن قادری مدنی علیہم الرحمہ اور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خاں الازہری دامت برکاتہم القدسیہ سے سلسلہ عالیہ قادریہ، برکاتیہ، اشرفیہ، شاذلیہ، منوریہ، معمریہ اور دیگر تمام سلاسل میں خلافت واجازت حاصل ہے۔
1977ء میں سفرِ حج کے دوران شاہ صاحب نے چالیس دن مدینہ طیبہ میں گزارے اور کئی بار قطبِ مدینہ کے آستانے پر محافل میں شریک ہوئے۔ قطبِ مدینہ کی شفقت کا یہ عالم تھا کہ وہ ہر محفل کے اختتام پر شاہ صاحب سے دعا کرواتے۔ 1980ء میں مفتی ٔ اعظم ہند علیہ الرحمہ نے تاج الشریعہ کی موجودگی میں حضرت شاہ صاحب کوخلافت عطا فرمائی اور اپنا جبہ شریف، عمامہ شریف اور ٹوپی عنایت فرمائی۔ نیز بطورِ خاص سندِ خلافت حضور تاج الشریعہ سے پُر کروائی اور خود دستخط فرما کر اپنے ہاتھ سے اس پر تاریخ بھی تحریر فرمائی۔
حضرت علامہ قاری محمد مصلح الدین صدیقی علیہ الرحمہ نے مؤرخہ 27 جمادی الثانی 1402ھ بمطابق 22 اپریل 1982ء بروز جمعرات بعد عشاء میمن مسجد مصلح الدین گارڈن میں حضرت شاہ صاحب علیہ الرحمہ کو سندِ خلافت اور اجازتِ بیعت عطا فرمائی۔ پھر فیضِ رضا یوں جاری ہوا کہ ہزاروں نوجوان آپ کے دستِ اقدس پر تائب ہوئے اور آپ کے نظرِ کیمیا گر کے فیضان نے بے شمار بھٹکتے ہوؤں کو صراطِ مستقیم پر گامزن کر دیا۔
خطابت و تقاریر:
حضرت شاہ صاحب نے زمانۂ طالب علمی ہی سے تقاریر کا سلسلہ شروع کر دیا تھا اور آپ بہت جلدایک مایہ ناز خطیب کے طور پر مشہور ہو گئے۔رفتہ رفتہ یہ سلسلہ اس قدر بڑھا کہ سارا سال کم وبیش روزانہ چارپانچ تقاریر کرنا آپ کا معمول بن گیا۔ اور ماہِ میلاد میں تو بعض اوقات آپ ایک دن میں پندرہ پندرہ تقاریر بھی فرماتے۔
آپ جب خطاب فرماتے تو فصاحت وبلاغت سے بھرپور اور علمی وعقلی استدلال سے مرصع مگر عوام کے دلوں میں گھر کرلینے والی سادہ اور عام فہم گفتگو کرتے ،آواز ایسی دلکش اور منفردکہ ہرشخص کی توجہ کا مرکز و قبلہ بن جاتی، اندازِ بیاں سحر انگیزگویا الفاظ موتیوں کی طرح ایک لڑی میں پروئے ہوئے ہیں،اور نورٌ علیٰ نور یہ کہ روحانی اور وجدانی کیف پرور مضامین، گویاعلم کا سمندر موجزن ہے ، یا شریعت وطریقت کا منارۂ نور ہے اوریوں محسوس ہوتا ہے کہ آپ ہر سننے والے کے دل کو عشقِ مصطفی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے نور سے روشن کیے جارہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ علماء آپ کو’’شہنشاہِ خطابت‘‘ کے لقب سے یاد کرتے ہیں۔
Share:
keyboard_arrow_up