حرفِ آخر:321
تحریک ختم نبوت میں شاہ صاحب علیہ الرحمہ کا کردار324
ماخذ ومراجع332
تعارف مصنف علیہ الرحمہ
از قلم: انجینئر محمد آصف قادری
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم والصلوٰۃ والسلام علیٰ رسولہ الکریم
یہ قانونِ فطرت ہے کہ اس دنیا میں آنے والے ہر شخص نے ایک نہ ایک دن ضرور اس دارِ فانی سے کوچ کرجانا ہے۔بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جودینی اور معاشرتی ذمہ داریوں سے بے پرواہ ہو کرمحض اپنی خاطر زندگی گزارتے ہیں اور جب وہ دنیا سے جاتے ہیں تو چند ہی دنوں میں لوگ انہیں فراموش کر دیتے ہیں۔
بعض لوگ وہ ہوتے ہیں جو اپنے علم وہنر اورکسی شعبۂ حیات میں نمایاں مقام کی وجہ سے چند سال یاد رکھے جاتے ہیں مگر وہ مسلمانوں کی دعاؤں کی زینت اور ایصالِ ثواب کی محافل کا عنوان نہیں بنتے۔
خوش نصیب ہیں وہ جو اپنے رب کی معرفت حاصل کر کے خود بھی صراطِ مستقیم پر گامزن رہتے ہیں اور دوسروں کے لیے بھی مشعلِ راہ بن جاتے ہیں۔وہ اپنی زندگی آقاومولیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکے وفادار امتی بن کر اُن کی عظمت، اُن کی محبت اور اُن کی تعلیمات لوگوں تک پہنچانے کے لیے وقف کر دیتے ہیں اور اس کے صلے میں رب کریم اُن کی محبت لوگوں کے دلوں میں ڈال کر اُن کے وصال کے بعد بھی انہیں زندہ و جاوید بنا دیتا ہے۔
ایسی ہی نابغۂ روزگار ہستیوں میں ایک روشن نام مفکر اسلام،پیر طریقت حضرت علامہ سید شاہ تراب الحق قادری جیلانی علیہ الرحمہ کا ہے۔
نام ونسب:
پیر طریقت علامہ سید شاہ تراب الحق قادری رحمۃ اللہ علیہ 27 رمضان 1365ھ بمطابق 15 ستمبر 1944ء کو حیدرآباد دکن ضلع ناندھیڑ میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد گرامی سید شاہ حسین قادری علیہ الرحمہ ایک ممتاز عالم دین تھے۔انہوں نے آپ کا نام حیدرآباد دکن ہی کے ایک مشہور بزرگ سید شاہ تراب الحق علیہ الرحمہ کے نام پر رکھا۔
آپ کے جدِ امجد سید شاہ میراں قادری ساتویں صدی ہجری میں بغداد شریف سے ہجرت کر کے حیدرآباد دکن تشریف لائے۔آپ والد ماجد کی طرف سے سید اور والدہ ماجدہ کی طرف سے فاروقی ہیں۔ حیدرآباد دکن کے مشہور عالم دین علامہ مولانا انوار اللہ خاں فاروقی علیہ الرحمہ جو کتاب العقل، مقاصد الاسلام ، انوارِ احمدی وغیرہ کثیر کتب کے مصنف ہیں، ان کا تعلق حضرت شاہ صاحب کے ننھیال سے ہے۔
تعلیم اورشادی:
حضرت شاہ صاحب سقوطِ حیدرآباد دکن کے بعد1951ء میں پاکستان تشریف لائے۔ کراچی میں پہلے لیاقت بستی میں قیام فرمایا اور فیض عام ہائی اسکول،پی آئی بی کالونی میں تعلیم حاصل کی۔ 1959ء میں آپ کورنگی منتقل ہوگئے۔ اسکول کی تعلیم کے دوران آپ نے ریسلنگ، ویٹ لفٹنگ اور باڈی بلڈنگ کے مقابلوں میں بھی حصہ لیا اور کراچی کے چیمپین ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔
1961ء میں آپ نے کراچی پورٹ ٹرسٹ میں ملازمت اختیار کی اوراس کے ساتھ اخوند مسجد کھارادر میں اپنے خالو قاری محمد مصلح الدین صدیقی علیہ الرحمہ سے درس نظامی پڑھنا شروع کر دیا۔ پھر دارالعلوم امجدیہ میں باقاعدہ داخلہ بھی لیا مگر زیادہ تر اسباق انہی سے پڑھے۔شیخ الحدیث علامہ عبد المصطفیٰ ازہری علیہ الرحمہ نے آپ کو سندِ حدیث عطا فرمائی جبکہ مفتی محمد وقار الدین علیہ الرحمہ نے آپ کو اعزازی سند عطا کی۔
1966ء میں آپ کا نکاح پیر طریقت علامہ قاری محمد مصلح الدین صدیقی علیہ الرحمہ کی صاحبزادی سے ہوا۔ ان سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو تین بیٹے سید شاہ سراج الحق، سید شاہ عبدالحق اور سید شاہ فرید الحق اور چھ بیٹیاں عطا فرمائیں۔
Page 3 of 120

