امامِ اعظم رضی اﷲ عنہ اس حدیث پر بھی عمل نہیں کرتے جو حضور ﷺ کی خصوصیت ہو اور حضور ﷺ کے بعد کسی صحابی نے اس پر عمل نہ کیا ہو۔ مثال کے طور پر بخاری میں حضور ﷺ کے نجاشی بادشاہ کی غائبانہ نماز جنازہ پڑھنے کا ذکر ہے ۔شارحین فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام کے نزدیک اس وقت نجاشی کا جنازہ نبی کریم ﷺ کی نگاہ پاک سے اوجھل نہیں تھا۔()
یعنی اس طرح نماز جنازہ ادا کرنا صرف حضور ﷺ ہی کی خصوصیت تھا۔ آپ کے بعد دور صحابہ میں بےشمار مسلمان فوت ہوئے مگر کبھی کسی کی غائبانہ نماز جنازہ ادا نہ کی گئی۔ اس بنا ء پر امامِ اعظم ابوحنیفہ رضی اﷲ عنہ کے نزدیک غائبانہ نماز جنازہ ناجائز ہے۔اس بارے میں تفصیل جاننے کے لیے اعلیٰ حضرت محدث بریلوی رحمہ اﷲ کا تحقیقی اور مدلل رسالہ ، فتاویٰ رضویہ جلد نہم میں ملاحظہ فرمائیں ۔
عمل بالحدیث کے حوالے سے شارح بخاری رقمطراز ہیں ،’’احناف عمل بالحدیث میں اتنے آگے ہیں کہ دنیا کا کوئی طبقہ اس میں ان کی ہمسری نہیں کر سکتا۔ علامہ خوارزمی رحمہ اﷲنے معاندین کا جواب دیتے ہوئے جامع المسانید کے مقدمے میں لکھا ہے :
امامِ اعظم رضی اﷲ عنہ کو حدیث کے مقابلے میں قیاس پر عمل کرنے کا طعنہ وہی دے گا جو فقہ حنفی سے جاہل ہو گا۔ جسے فقہ حنفی سے کچھ بھی واقفیت ہو گی اور وہ منصف ہو گا تو اس کو یہ اعتراف کرنا ہی پڑے گا کہ امامِ اعظم رضی اﷲ عنہ سب سے زیادہ حدیث کے عالم اور حدیث کی اتباع کرنے والے تھے ۔ اس کے دلائل یہ ہیں :
۱۔ امامِ اعظم رضی اﷲ عنہ حدیثِ مرسل کو حجت مانتے ہیں اور اسے قیاس پر مقدم جانتے ہیں ۔ جب کہ امام شافعی رضی اﷲ عنہ کا عمل اس کے بر عکس ہے کیونکہ وہ حدیث کے بالمقابل قیاس کو ترجیح دیتے ہیں ۔
۲۔ قیاس کی چار قسمیں ہیں ۔ قیاس موثر ، قیاس مناسب، قیاس شبہہ، قیاس طرد۔ امامِ اعظم رضی اﷲ عنہ اور ان کے اصحاب کا اس پر اتفاق ہے کہ قیاس مناسب اور قیاس شبہہ بالکل بے اعتبار ہیں ۔ رہ گیا قیاس طرد ، تو یہ بھی مختلف فیہ ہے البتہ قیاس موثر کو حجت مانتے ہیں مگر امام شافعیرضی اﷲ عنہ قیاس کی ان چاروں قسموں کو حجت مانتے ہیں اور قیاس شبہہ کا تو ان کے یہاں عام استعمال ہے۔
۳۔ امامِ اعظم رضی اﷲ عنہ کے احادیث پر عمل کا یہ حال ہے کہ ضعیف احادیث پر بھی قیاس کے مقابلے میں عمل فرماتے ہیں ۔ جیسے نماز میں قہقہہ لگانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے ۔ یہ بالکل خلافِ قیاس بات ہے۔ مگر ایک حدیث ضعیف میں آیا ہے ۔ لہٰذا امامِ اعظم رضی اﷲ عنہ نماز میں قہقہہ کوناقصِ وضو مانتے ہیں ۔
یہ وہ نظائر ہیں جو امام خوارزمی رحمہ اﷲ نے پیش کیے۔ اس قسم کے نظائر اتنے زیادہ ہیں کہ ان سب کا استقصاء کیا جائے تو دفتر تیار ہو جائے۔()
شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمہ اﷲ نے بہت عمدہ بات کہی، وہ فرماتے ہیں ، ’’شیخ ابن ہمام رحمہ اﷲنے مذہب حنفی کو بیان کرتے ہوئے اس قدر احادیث پیش کی ہیں کہ قریب ہے کہ یہ کہا جائے کہ امام شافعی رحمہ اﷲاہلِ رائے میں سے اور امامِ اعظم ابوحنیفہرحمہ اﷲ اصحابِ ظواہر میں سے ہیں ‘‘۔ ()
امام شعرانی رحمہ اﷲ فرماتے ہیں ، ’’جس شخص نے بھی ان ائمہ کے کسی قول پر طعن کیا ہے محض جہالت کی وجہ سے کیا ہے۔ یا تو وہ آپ کی دلیل نہیں سمجھ سکا اور یا وہ قیاس کی وجوہات کی باریکی کو نہ جان پایا ۔ خاص طور پر امامِ اعظم رحمہ اﷲ پر طعن تو التفات کے لائق ہے ہی نہیں کیونکہ سلف و خلف ان کے کثرت علم ، ورع و تقویٰ ، عبادت ، وجوہِ قیاس و مدارک اور استنباطات کی دقت اور باریک بینی پر متفق رہے ہیں ‘‘۔()
Page 99 of 168

