اب آخر میں علامہ شامی رحمہ اﷲ کا ارشاد بھی ملاحظہ فرمائیے۔ وہ فرماتے ہیں ، امامِ اعظم رضی اﷲ عنہ کا ارشاد ہے، ’’ جو حدیث صحیح ہو وہی میرا مذہب ہے‘‘۔ اس سے معلوم ہوا ہے کہ آپ کامذہب صحیح احادیث کے مطابق ہے۔حدیث کا ضعیف ہونا راوی کے ضعف کی وجہ سے ہوتا ہے کیونکہ آپ نے بلا واسطہ صحابہ کرام سے احادیث سنیں یا تابعین سے ۔ اس لیے آپ تک پہنچنے والی تمام احادیث صحیح ہیں ۔
ضعیف حدیث، قیاس پر مقدم ہے:
شارح بخاری مفتی شریف الحق امجدی رحمہ اﷲ نے اس مسئلہ کو ایک مثال کے ذریعے بہترین انداز میں سمجھایا ہے۔ وہ رقمطراز ہیں ،’’ غیر مقلدین منی کو پاک کہتے ہیں ۔ احناف کے نزدیک یہ ناپاک ہے۔ غیر مقلدین کا استدلال قیاس ہے کہ اصل اشیاء میں طہارت ہے۔ منی کے ناپاک ہونے کی کوئی دلیل نہیں اس لئے وہ پاک ہے۔ رہ گئی ام المؤمنین رضی اﷲ عنہا کی وہ حدیث جو بخاری و مسلم نے روایت کی ہے، وہ فرماتی ہیں کہ میں رسول ﷺ کے کپڑے سے منی دھوتی تھی۔ دھونے کا نشان ہوتا اور حضور اقدس ﷺ اسی کپڑے کو پہنے نماز کو جاتے تھے ۔اس کے بالمعارض مسلم کی دوسری حدیث ہے کہ وہ فرماتی ہیں کہ میں رسول اﷲ ﷺ کے کپڑے سے منی مل دیتی اور حضور ﷺ اسی کپڑے میں نماز پڑھتے تھے۔
غیر مقلدین کہتے ہیں کہ اولاً یہ ثابت نہیں کہ حضور اقدس ﷺ نے انہیں دھونے کا حکم دیا ہو یہ ام المؤمنین رضی اﷲ عنہا کا اپنا فعل ہے۔ ثانیاً دیا بھی ہو تو یہ تھوک اور کھنکھکارکی طرح گھناؤنی چیز ہے۔ اس لئے دھونے کا حکم دیا۔ثالثاً اگر یہ ناپاک ہوتی تو مل دینے سے کیسے پاک ہوتی۔ کپڑے پر لگنے والی نجاست محض مل دینے سے پاک نہیں ہوتی۔
ہر منصف دیکھے کہ حدیث صحیح کو غیرمقلدین قیاس سے رد کر رہے ہیں جبکہ احناف حدیث پر عمل کرتے ہیں ۔ جیسا کہ وارد ہے اسی کے مطابق عمل کرتے ہیں ۔ اور کہتے ہیں کہ دوسری نجاستوں کے مقابلے میں منی کی یہ خصوصیت ہے کہ جب سوکھ جائے تو ملنے سے پاک ہو جاتی ہے جیساکہ اس حدیث میں ہے۔ نجاست سے پاکی کیسے ہو گی قیاس نہیں بالکلیہ سماعی ہے۔ علاوہ ازیں منی کے نجس ہونے کے بارے میں حدیث میں صراحت ہے۔ امام ابن ہمام رحمہ اﷲ نے دارقطنی کے حوالے سے یہ حدیث ذکر کی کہ حضور اقدس ﷺ نے حضرت عمار رضی اﷲ عنہسے فرمایا:
انمایغسل الثوب من خمس من الغائط والبول والقئ والدم والمنی۔
کپڑا پانچ چیزوں سے دھویا جاتا ہے ۔ پاخانہ ، پیشاب ، قے ، خو ن اور منی سے۔
اس حدیث کی سند پر کلام کیا گیا ہے کہ اس میں ایک راوی ثابت بن حماد ہے اور یہ ضعیف ہے ۔ حالانکہ یہی حدیث ثابت بن حماد کے بغیر طبرانی میں مذکور ہے تو جو ضعف ثابت بن حماد کی وجہ سے تھا وہ دور ہو گیا۔اسی طرح خود ایک دوسرے راوی علی بن زید پر یہ جرح ہے کہ یہ قابلِ احتجاج نہیں ۔مگر معترض کو یہ معلوم نہیں کہ یہ مسلم کے رجال سے ہیں ۔علاوہ ازیں عجل نے کہا، لاباس بہ ۔امام ترمذی نے اسے صدوق کہا ۔اسی طرح ایک اور راوی ابراہیم بن زکریا کو بھی کچھ لوگوں نے ضعیف کہا مگر بزار نے اسے ثقّہ کہا۔چلئے یہ حدیث دونوں سند کے اعتبار سے ضعیف ہے مگر دو طریقے سے مروی ہونے کی وجہ سے حسن لغیرہ ضرور ہوئی۔اور احکام میں یہ بھی حجت ہے۔اور آگے چلئے ہم مان لیتے ہیں کہ یہ اب بھی ضعیف ہی رہی مگر احناف کا اس پر عمل ہے اور یہی ہمارا مقصد ہے کہ احناف ضعیف حدیث کے ہوتے ہوئے بھی قیاس کے قریب نہیں جاتے اور اہلحدیث بننے کے مدّعی صحیح حدیث کے مقابلے میں قیاس پر عمل کرتے ہیں ۔ ()
علامہ ابن قیّم لکھتے ہیں ،’’امام ابوحنیفہ رحمہ اﷲ کے اصحاب کا اتفاق ہے کہ ان کے نزدیک ضعیف حدیث قیاس سے بہتر ہے انھوں نے ضعیف حدیث کی وجہ سے سفر میں کھجور کی نبیذ سے وضو کرنے کو قیاس اور رائے پر مقدم کیا ہے اور انھوں نے ضعیف حدیث ہی کی وجہ سے دس درہم سے کم کی چوری میں ہاتھ کاٹنے سے منع کیا ہے۔اور ایک حدیث کی وجہ سے کہ اس میں ضعف ہے آپ نے اکثر حیض دس دن قرار دیا ہے ۔ اور جمعہ کی نماز قائم کرنے کے لیے شہر کی شرط اسی طرح کی حدیث سے رکھی ہے اور کنوئیں کے مسائل میں آثار غیر مرفوعہ کی وجہ سے قیاس محض کو چھوڑ دیا ہے۔پس امام ابوحنیفہ رحمہ اﷲ آثارِ صحابہ کو قیاس اور رائے پر مقدم رکھتے ہیں ‘‘۔()
Page 100 of 168

