Imam e Azam

Author: Allama Syed Shah Turab ul Haq Qadri

Total Pages: 168

Page 101 of 168
علامہ ابن حجر مکی رحمہ اﷲ ایسے ہی دلائل دے کر فرماتے ہیں ،’’جب یہ بات اچھی طرح ثابت ہو چکی (کہ امامِ اعظم رحمہ اﷲ کے نزدیک ضعیف حدیث پر عمل قیاس سے بہتر ہے) تو امامِ اعظم رضی اﷲ عنہکی ان چیزوں سے پاکدامنی ثابت ہو گئی جو آپ کی طرف آپ کے دشمنوں اور آپ کے اصول سے ناواقفوں نے منسوب کی تھیں بلکہ ان لوگو ں کو تو مواقع اجتہاد تک کی خبر نہیں کہ ان کے اصول کیا ہیں اور انھوں نے یہ کہہ دیا کہ آپ نے اخبارِاحادبلا حجت ترک کر دیں حالانکہ آپ نے کوئی خبر بھی ایسی دلیل کے بغیر نہ چھوڑی جو آپ کے نزدیک زیادہ قوی اور واضح نہ ہو۔
ابن حزم ظاہری نے کہا ، احناف کا اجماع ہے کہ امامِ اعظم رضی اﷲ عنہ کا مذہب یہ ہے کہ حدیث ضعیف ،رائے پر عمل کرنے سے بہتر ہے۔تو آپ سوچ لیجیے کہ امامِ اعظم رضی اﷲ عنہ کوا حادیث کا کس درجہ اہتمام تھا اور احادیث کی عظمتِ شان کا کتنا پاس تھا۔ اس لئے آپ نے احادیثِ مرسلہ پر عمل کو قیاس پر مقدم رکھا ہے۔ چنانچہ آپ نے قہقہہ سے وضو کو واجب کر دیاصرف خبر مرسل کی بناء پر حالانکہ قیاس کے لحاظ سے یہ حدیث نہیں ہے اور پھر اس کو نماز جنازہ اور سجدہ تلاوت میں ناقضِ وضو نہ کہا،نص پر اقتصار کرتے ہوئے کیونکہ یہ رکوع اور سجود والی نمازکے بارے میں ہے‘‘۔ ()
ایک صاحب نے امامِ اعظم رضی اﷲ عنہکے متعلق کسی کا یہ قول نقل کیا کہ ’’نہ ان کے پاس رائے ہے اور نہ حدیث ‘‘۔ اس قول کو نقل کر کے امام شعرانی رحمہ اﷲ فرماتے ہیں ، ’’اس شخص نے امامِ اعظم رضی اﷲ عنہکے بارے میں جو کچھ کہا ہے عقل اس کی تصدیق نہیں کرتی ۔ بحمدہٖ تعالیٰ جب میں نے کتاب ’’ادلۃ المذاہب‘‘ تالیف کی تو اس وقت میں نے امامِ اعظم رضی اﷲ عنہ اور ان کے اصحاب کے دلائل دیکھے۔ میں نے ان کا اور ان کے اصحاب کا کوئی قول ایسا نہیں دیکھا جو کسی آیت یا حدیث یا اثر یا اس کے مفہوم یا ضعیف حدیث جس کے طرق متعدد ہوں یا کسی ایسے مستند قیاس کی بنیاد پر نہ ہوں جو کسی صحیح اصل پر مبنی ہے‘‘۔ ()
احناف صحیح احادیث پر عامل ہیں :
’’جب صحیح اور ضعیف حدیث متعا رض ہوں تو احناف حدیث صحیح پر عمل کرتے ہیں ۔ بخلاف غیر مقلدین وغیرہ کے کہ وہ ضعیف ہی پر عمل کرتے ہیں ۔اس کی مثال یہ ہے کہ ماء قلیل غیر جاری میں نجاست پڑ جائے تو وہ پاک ہے یا نا پاک؟
احناف کہتے ہیں کہ وہ مطلقاً ناپاک ہے خواہ نجاست کا کوئی اثر رنگ ،بو، مزا پانی میں آئے یا نہ آئے ۔
امام زہری رحمہ اﷲ کہتے ہیں کہ جب تک پانی میں نجاست کا اثر رنگ یا بو یا مزا ظاہر نہ ہو پانی پاک ہے ۔امام بخاری رحمہ اﷲ کا یہی مذہب معلوم ہوتا ہے۔
ان کی دلیل یہ حدیث ہے کہ رسول اﷲﷺسے سوال ہوا کہ چوہا اگر گھی میں گر جائے تو کیا کیا جائے ؟آپﷺنے فرمایا کہ چوہے اور چوہے کے ارد گرد کو پھینک دو باقی گھی کھاؤ۔ ()
اس حدیث سے ان لوگوں کا مدعا کیسے ثابت ہوتا ہے ۔ یہ خود محلِ نظر ہے کہ حدیث سے ظاہر ہے کہ یہ جمے ہوئے گھی کے بارے میں ہے ۔ نیز چوہے کے اردگرد کو پھینکنے کا حکم صاف بتا رہا ہے کہ چوہے کے گرنے سے گھی کا کچھ حصہ ناپاک ہوا یہ لوگ یہ کہیں گے کہ یہی ہمارا مستدل ہے چونکہ چوہے کا اردگرد چوہے سے متاثر ہو گا اس لئے اردگرد ناپاک ہو گیا ۔ لیکن اثر کا مطلب اگر رنگ یا بو یا مزے کا گھی میں آجانا مراد ہے تو یہ مسلم نہیں ۔ یہ ضروری نہیں کہ چوہے کے مرتے ہی اس کا رنگ یا مزہ یا بو گھی میں آجائے۔ہاں اگر دیر تک رہے گا تو آ سکتا ہے مگر پھراردگرد کی تخصیص نہ ہو گی۔ جہاں تک اثر پہنچے سب کو ناپاک ہو جانا چاہیئے۔
Share:
keyboard_arrow_up