اور اگر اثر سے نجس ہونا مراد ہے تو ہمارا مدعا ثابت کہ نجاست کے گرنے سے کسی چیز کے ناپاک ہونے کے لئے رنگ یا بو یا مزے کا سرایت کرنا ضروری نہیں محض نجاست کے گرنے سے وہ چیز ناپاک ہو جائے گی۔ پھر یہ حکم منجمد کا ہے اور پانی رقیق ہے تو منجمد پر رقیق کو قیاس کرنا قیاس مع الفارق ہے پھر آخریہ قیاس ہی تو ہے لہٰذا آپ نے عمل قیاس پر کیا۔
امام شافعی رحمہ اﷲ وغیرہ یہ تفریق کرتے ہیں کہ اگر وہ پانی دو مٹکے ہے تو پاک ہے اس سے کم ہے تو ناپاک ۔ ان کی دلیل یہ حدیث ہے :-
اذاکان الماء قلتین لا یحمل الخبث۔جب پانی دو مٹکے ہو تو وہ نجاست سے متاثر نہیں ہوتا یعنی ناپاک نہیں ہوتا۔ ()
حالانکہ یہ حدیث ضعیف ہے پھر مٹکے کا تعین بھی مشکل ہے۔ مٹکا چھوٹا بھی ہوتا ہے اور بڑا بھی۔ کس مقدار کا مٹکا ہو گا ؟
دونو ں فریق کے بالمقابل احناف کی دلیل یہ حدیث صحیح ہے ۔ جسے امام بخاری ، امام مسلم ، امام ابو داؤد ، امام نسائی ، امام ترمذی ، امام ابن ماجہ وغیرہ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ سے روایت کیا ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا : لایبولن احد کم فی الماء الراکد الذی لا یجری ثم یغتسل فیہ۔اس پانی میں جو ٹھہرا ہوا ہو بہتا نہ ہو ہر گز پیشاب نہ کرو ۔ پھر اسی میں غسل کرو ۔()
اب انصاف کرنے والے انصاف کریں کہ حدیث صحیح پر احناف عمل کر رہے ہیں جبکہ امام شافعی رحمہ اﷲاس کے با لمقابل حدیث ضعیف پر اور امام بخاری رحمہ اﷲ قیاس پر۔ پھر بھی احناف تارکِ حدیث اور عامل با لقیاس ہیں ؟؟؟ ()
اگر صحیح احادیث متعارض ہوں تو:
’’اگر دو مضمون کی احادیث متعارض ہوں اور دونوں صحیح ہوں تو احناف ترجیح اس روایت کو دیتے ہیں جس کے راوی زیادہ فقیہ ہوں ۔ اس کی نظیر رفع یدین کا مسئلہ ہے ۔ امام اوزاعی اور حضرت امامِ اعظم رضی اﷲ عنہماکی ملاقات ہوئی۔ امام اوزاعی نے امامِ اعظم سے کہا ، کیا بات ہے کہ آپ لوگ رکوع میں جاتے ہوئے اور رکوع سے اٹھتے ہوئے رفع یدین نہیں کرتے ؟ امامِ اعظم رضی اﷲ عنہ نے فرمایا کہ اس بارے میں رسول اﷲ ﷺ سے کوئی صحیح روایت نہیں ۔ امام اوزاعی نے کہا ،کیسے نہیں حالانکہ مجھ سے زہری نے حدیث بیان کی وہ سالم سے، سالم اپنے والد ابن عمر سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲ ﷺ جب نماز شروع کرتے ، جب رکوع میں جاتے اور جب رکوع سے اٹھتے تو رفع یدین کیاکرتے تھے۔
اس کے جواب میں حضرت امامِ اعظم نے فرمایا، ہم سے حماد نے حدیث بیان کی ، وہ ابراہیم نخعی سے وہ علقمہ سے اور وہ عبداﷲ بن مسعود سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ صرف افتتاحِ نماز کے وقت رفع یدین کرتے تھے۔ اس کے بعد پھر نہیں کرتے تھے ۔ اس پر امام اوزاعی نے کہا کہ میں عن الزھری عن سالم عن ابیہ۔ حدیث بیان کرتا ہوں اور آپ کہتے ہیں حدثنی حماد عن ابراھیم عن علقمۃ۔ حضرت امامِ اعظم نے فرمایا، حماد ، زہری سے افقہ ہیں اور ابراھیم ، سالم سے افقہ ہیں اور علقمہ فقہ میں ابن عمر سے کم نہیں اگرچہ صحابی ہونے کی وجہ سے علقمہ سے افضل ہیں ۔ اور حضرت عبداﷲ ابن مسعود کی فقہ میں برتری سب کو معلوم ہے۔(رضی اﷲ عنہم اجمعین)
امام اوزاعی رضی اﷲ عنہنے حدیث کو علو سند سے ترجیح دی اور امامِ اعظم رضی اﷲ عنہ نے راویوں کے افقہ ہونے کی بنیاد پر۔ یہ بات واضح ہے کہ اگر دو متضاد باتیں دو فریق سے مروی ہوں ۔ دونوں ثقہ ہوں مگر ایک فریق کے راوی زیادہ عالم زیادہ ذہین زیادہ سمجھ دار ہوں تو ہر دیانت دار عاقل اسی بات کو ترجیح دے گا جو فریق ثانی سے مروی ہو۔
Page 102 of 168

