اس سلسلے میں ایک لطیفہ بھی سنتے چلئے۔ غیر مقلدیت کے معلمِ اوّل میاں اسماعیل دہلوی جب رفع یدین کرنے لگے تو کسی نے انہیں ٹوکا تو فرمایا کہ یہ سنت مردہ ہو چکی تھی میں اس کو زندہ کر رہا ہوں ۔ اور حدیث میں مردہ سنت زندہ کرنے پر سو شہیدوں کے ثواب کی بشارت ہے۔ ٹوکنے والے تو خاموش رہے مگر جب یہ بات شاہ عبدالقادر نے سنی تو کہا ۔ میں تو سمجھتا تھا کہ پڑھنے لکھنے کے بعد اسماعیل کو کچھ آتا ہو گامگر اسے کچھ نہیں آیا۔ حدیث میں یہ بشارت اس وقت ہے جب سنت کے مقابلے میں بدعت ہو، سنت نہ ہو یہاں تو دونوں سنت ہیں ۔ ()
باب دہم(10) مخالفتِ حدیث کا الزام
بعض غیر مقلد یہ پروپیگنڈہ کرتے ہیں کہ امامِ اعظم رضی اﷲ عنہکے مسائل صحیح احادیث کے مخالف ہیں ۔ اس الزام کے جواب میں آزاد خیال ہونے کے باوجود شبلی نعمانی اپنی تحقیق یوں لکھتے ہیں ،
’’بعض لوگوں کا خیال ہے کہ امام صاحب کے بہت سے مسائل احادیثِ صحیحہ کے مخالف ہیں ۔ ان لوگوں میں سے بعض نے الزام دیاہے کہ امام صاحب نے دانستہ حدیث کی مخالفت کی ، بعض انصاف پسند وجہ یہ بتاتے ہیں کہ امام صاحب کے زمانے تک احادیث کا استقصاء نہیں کیا گیا تھا اس لیے بہت سی حدیثیں ان کو نہیں پہنچیں لیکن یہ خیال لغو اور اور بے سروپا ہے ۔امام صاحب کے زمانہ تک تو حدیثیں جمع نہیں ہوئیں تھیں لیکن جب جمع ہو چکیں ، اس وقت بڑے بڑے محدثین ان کے مسائل کو کیوں صحیح تسلیم کرتے رہے۔
وکیع بن الجراح رحمہ اﷲ جن کی روایتیں صحیح بخاری میں بکثرت مو جو د ہیں اور جن کی نسبت امام احمد بن حنبل رحمہ اﷲ کہا کرتے تھے کہ’’ میں نے ان سے بڑھ کر کسی کو حافظ العلم نہیں دیکھا‘‘ ،وہ امام ابوحنیفہ رحمہ اﷲ کے مسائل کی تقلید کرتے تھے ۔خطیب بغدادی نے ان کے متعلق لکھا ہے ، کان یفتی بقول ابی حنیفۃ۔ (وہ امام ابوحنیفہ کے قول کے مطابق فتوی دیا کرتے تھے) یحییٰ بن سعید بن القطان رحمہ اﷲ جو فنِ جرح و تعدیل کے موجد ہیں اکثر مسائل میں امام ابوحنیفہ رحمہ اﷲ کے پیرو تھے۔ خود ان کا قول ہے ، قد اخذنا باکثر اقوا لہ۔ (ہم نے امامِ اعظم کے اکثر اقوال کو اختیار کیا ہے) امام طحاوی رحمہ اﷲ حافظ الحدیث تھے جو مجتھد فی المذہب کا درجہ رکھتے تھے پہلے شافعی تھے پھر امام ابوحنیفہ رحمہ اﷲ کے مسائل اختیار کیے اور کہا کرتے تھے، میں ابوحنیفہ کا مقلد نہیں ہوں بلکہ مجھ کو ان سے توارد ہے ۔امام طحاوی، امام بخاری اور مسلم کے ہمعصر تھے اور یہ وہ زمانہ ہے جب حدیث کا دفتر کامل طور سے مرتب ہو گیا تھا ۔ متا خرین میں علامہ ماروینی،حافظ زیلعی ،ابن الہمام ، قاسم بن قطلو بغا وغیرہم کی نسبت قلّت ِنظر کا کون گمان کر سکتا ہے؟ یہ لوگ عموماً حنفی مسائل کے حامی ہیں ۔رحمہم اﷲ تعالیٰ
اس کے علاوہ جو لوگ حافظ الحدیث تسلیم کیے گئے ہیں ان کے مسائل امام ابوحنیفہ سے کیوں موافق ہیں ؟ طبقہ اولیٰ میں سب سے بڑے محدّث امام احمد بن حنبل ہیں جن کی شاگردی پر امام بخاری و مسلم کو ناز تھااور جن کی نسبت محدّثین کا عام قول ہے کہ جس حدیث کو احمدبن حنبل نہیں جانتے وہ حدیث ہی نہیں ۔ امام احمد بن حنبل بہت سے مسائل میں امام شافعی کے مخالف اور امام ابوحنیفہ کے موافق ہیں ۔
خوارزمی نے لکھا ہے کہ ’ ’ فروع و جزئیات چھوڑ کر امہاتِ فقہ کے متعلق ۱۲۵ مسئلوں میں ان کو اما م ابوحنیفہ کے ساتھ اتّفاق ہے اور امام شافعی سے اختلاف ‘‘۔ ہم نے خود بہت سے مسائل میں تطبیق کی ہے جس سے خوارزمی کے دعویٰ کی تائید ہوتی ہے ۔
Page 103 of 168

