Imam e Azam

Author: Allama Syed Shah Turab ul Haq Qadri

Total Pages: 168

Page 104 of 168
سفیان ثوری کو محدثین نے امام الحدیث تسلیم کیا ہے،ان کے مسائل امام ابوحنیفہ کے مسائل کے موافق ہیں ۔قاضی ابو یوسف کہا کرتے تھے کہ واﷲ سفیان اکثر متابعۃ منی لا بی حنیفۃ ۔ ’’خدا کی قسم! سفیان مجھ سے زیادہ ابوحنیفہ کی پیروی کرتے ہیں ‘‘۔ ترمذی میں سفیان ثوری کے مسائل مذکور ہیں جو زیادہ تر امام شافعی کے مخالف اور امام ابوحنیفہ کے موافق ہیں ۔رحمہم اﷲ تعالیٰ
اس خیال کے پیدا ہونے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ بعض محدّثین مثلاً امام بخاری ، ابن ابی شیبہ نے امام ابوحنیفہ کے متعدد مسائل کی تصریح کی ہے کہ حدیث کے خلاف ہیں ۔ابن ابی شیبہ نے امام ابوحنیفہ کے ردّ میں ایک مستقل باب لکھا ہے ۔لیکن یہ خیال کرنے والوں کی کوتاہ نظری ہے ۔اکثر ائمہ نے ایک دوسرے پر جرح اور اعتراض کیاہے۔اما م شا فعی، امام مالک کے مخلص شاگرد تھے اور کہا کرتے تھے ، ’’آسمان کے نیچے موطا امام مالک سے زیادہ صحیح کوئی کتاب نہیں ‘‘۔ با وجود اس کے انہوں نے امام مالک کے ردّ میں ایک مستقل رسالہ لکھا جس میں دعویٰ کیا ہے کہ امام مالک کے بہت سے مسائل احادیثِ صحیحہ کے خلا ف ہیں ۔امام رازی نے مناقب الشافعی میں اس رسالہ کا دیباچہ نقل کیا ہے اورخود ہماری نظر سے گزرا ہے۔رحمہم اﷲ تعالیٰ
لیث بن سعدرحمہ اﷲ جو مشہور محدث ہیں ،کہا کرتے تھے کہ امام مالک رحمہ اﷲنے ستّر مسئلوں میں حدیث کی مخالفت کی ہے چنانچہ میرا ارادہ ہے کہ میں ان کو اس امر کی نسبت خط لکھوں ۔ امام شافعی رحمہ اﷲ بھی اس اعتراض سے نہیں بچ سکے اور کیونکر بچ سکتے تھے ، جہر بسم اﷲ وقنوت فی الفجرو ترک توریث ذوی الارحام وغیرہ میں ان کا مذہب صریح حدیثوں کے مخالف معلوم ہوتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ اجتھادی امور ہیں اور ان کی بناء پر ہم کسی کو مخالفِ حدیث نہیں کہہ سکتے۔ جس حدیث کو ایک مجتھد صحیح سمجھتا ہے ضروری نہیں کہ وہ دوسرے مجتھد کے نزدیک بھی صحیح ہو۔پھر اس مرحلہ کے طے ہونے کے بعد استنباط و استدلال کی بحث باقی رہتی ہے جس میں مجتھدین بہت کم متفقُ الرّائے ہو سکتے ہیں کیونکہ استنباط و استدلال کے اصول جدا گانہ ہیں ‘‘۔ ()
جب کسی مسئلہ میں متعدد متعارض روایات آجائیں تو ایسی صورت میں امامِ اعظم رضی اﷲ عنہ کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ ان روایات میں تطبیق دی جائے تاکہ تمام روایات پر عمل ہوسکے۔ اور اگر تطبیق ممکن نہ ہو تو پھر آپ اس روایت کو ترجیح دیتے ہیں جو دین اور اصولِ روایت کے قریب ترین ہو۔ایسی صورت میں امام مالک رضی اﷲ عنہ اس روایت کو ترجیح دیتے ہیں جس پر اہلِ مدینہ کا عمل ہو اورامام شافعی رضی اﷲ عنہ قوتِ سند کے اعتبار سے کسی ایک روایت کو لیتے ہیں اور دیگر روایات کو چھوڑ دیتے ہیں جبکہ امام احمد بن حنبل رضی اﷲ عنہ متقدمین کی اکثریت کا لحاظ رکھتے ہوئے فیصلہ کرتے ہیں ۔
مخالفتِ حدیث کی حقیقت:
سابقہ عنوانات کے تحت ہم نے یہ حقیقت واضح کر دی ہے کہ امامِ اعظم رضی اﷲ عنہنے ہرگز حدیث کی مخالفت نہیں کی بلکہ آپ تو سرکار دوعالم ﷺ کی احادیث کے سچے عاشق تھے۔ بعض کم فہم لوگوں کی ہدایت کے لیے اس عنوان پر قلم اٹھانا ضروری خیال کیا کہ اگر کوئی شخص کسی حدیث کے ظاہری الفاظ کی تو مخالفت کرتا ہے لیکن درحقیقت اس حدیث سے جو معنی مستنبط ہوتے ہیں ،ان کی اطاعت کرتا ہے تو کیا اس شخص کو کوئی الزام دینا صحیح ہے؟ اگرحضور ﷺ نے کسی چیز سے منع فرمایا ہے تو کیا ہر موقع پر اس منع سے حرمت اور کراہت تحریمی مراد ہو گی یا اس سے کراہت تنزیہی اور ترکِ اولیٰ بھی مراد لیا جا سکتا ہے۔نیز اگر کوئی شخص حدیث کے ظاہری حکم کو کسی علت کی بنا ء پر یا کسی اور حدیث کی وجہ سے قبول نہ کرے تو کیا اسے کوئی الزام دینا جائز ہے؟
Share:
keyboard_arrow_up