(۱) صحیح بخاری کی یہ حدیث ملاحظہ فرمائیں ، حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اﷲ ﷺ نے غزوہ احزاب کے موقع پر صحابہ کرام کو یہ حکم دیاکہ’’ تم بنو قریظہ کے پاس پہنچو اور تم عصر کی نماز بنو قریظہ کے پاس جا کر ہی پڑھنا ‘‘۔ چنانچہ راستے میں عصر کا وقت آگیا تو بعض صحابہ نے کہا کہ ہم تو بنو قریظہ میں جا کرہی نماز پڑھیں گے اور بعض نے کہا کہ ہم تو نماز یہیں پڑھیں گے کیونکہ ہمیں یہ تو نہیں کہا گیا کہ ہم نماز نہ پڑھیں ۔ انہوں نے نماز پڑھ لی ۔ جب اس کا ذکر آقا و مولیٰ ﷺ کے سامنے ہوا تو آپ نے کسی کو ملامت نہ فرمائی۔ ()
اب غور کیجیے کہ ایک جماعت نے تو مرادی معنی ملحوظ رکھتے ہوئے نماز عصر اس کے وقت پر پڑھ لی اور دوسری جماعت نے ظاہری الفاظ پر عمل کیا اور نماز عصر عشاء کے بعد بنو قریظہ پہنچ کر ادا کی۔اولُ الذکر گروہ زیادہ فقیہ تھا وہ دوہرے اجر کا مستحق ہوا اور دوسرا گروہ بھی مجتہد تھا مگر وہ ایک اجر کا مستحق ہوا۔
اس کی شرح میں حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اﷲ لکھتے ہیں ،’’ اس حدیث سے جو فقہ حاصل ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ جن لوگوں نے کسی حدیث یا آیت کے ظاہر پر عمل کیا تو ان پر کوئی عیب و الزام نہیں اور ان لوگوں پر بھی کوئی الزام نہیں جنھوں نے نص سے کوئی معنی استنباط کیا جو اس کو مخصوص کرتا ہو‘‘۔()
اس سے یہ نتیجہ اخذ ہوا کہ ظاہری الفاظ کے بجائے مستنبط شدہ معانی پر عمل کرنے والا بھی عامل بالحدیث ہی ہوتا ہے۔
(۲) صحیح مسلم میں حضرت علی رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے کہ ایک لونڈی نے زنا کیا تو حضور ﷺ نے مجھے یہ حکم دیا کہ جاکر اسے کوڑے مارو ۔جب میں گیا تو میں نے دیکھا کہ اس کے ہاں بچہ پیدا ہوا ہے مجھے یہ خوف ہوا کہ اگر میں نے اس کوسزادی تو کہیں یہ مر ہی نہ جائے۔ چنانچہ میں بغیر سزا دیے واپس بارگاہِ نبوی میں حا ضر ہوا اور سارا معاملہ عرض کردیا ۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا، اَحْسَنْتَ ’’ تو نے اچھا کیا‘‘۔()
اس حدیث میں غور کیجیے کہ سرکار دوعالم ﷺ کا ظاہری حکم مشروط اور مقید نہ تھا لیکن حضرت علی رضی اﷲ عنہنے اپنی فقہی بصیرت اور اجتہادو رائے سے یہ سمجھا کہ آپ ﷺ کا حکم در حقیقت مشروط و مقید ہے۔ زچگی کی حالت میں سزا دینا اس لونڈی کی ہلاکت کا باعث ہوسکتا ہے اس لئے انہوں نے حضور ﷺ کے ظاہری حکم کی تعمیل نہ کی۔سرکار دو عالم ﷺ نے اَحْسَنْتَ فرما کرآپ کے اس اجتہاد کی تائیدوتحسین فرمائی۔
(۳) صلح حدیبیہ کے موقع پر حضرت علی رضی اﷲ عنہ نے عہدنامہ پر یہ تحریر کیا ،’’ یہ وہ عہد نامہ ہے جو محمد رسول اﷲﷺ نے فریق ثانی سے طے کیا ہے‘‘۔ اس پر کافروں نے اعتراض کیا اور ’’رسول اﷲ‘‘ کے الفاظ مٹا کر محمد بن عبداﷲ کے الفاظ لکھنے کا مطالبہ کیا، ’’تو رسول کریم ﷺ نے حضرت علی رضی اﷲ عنہ کو حکم دیا کہ یہ الفاظ مٹا دیں مگر حضرت علی رضی اﷲ عنہ نے کہا ، ’’خدا کی قسم میں ان کو نہیں مٹاؤں گا‘‘۔ ()
غور فرمائیے ، حضرت علی رضی اﷲ عنہ حضور ﷺ کے صریح حکم کے جواب میں حلفیہ فرماتے ہیں کہ میں یہ ہرگز نہ کروں گا۔ ظاہری الفاظ سے تو نہ جانے ان پر کیا الزام عائد ہو مگر اہلِ عقل و فہم اور دیدہ ٔ بصیرت رکھنے والے بخوبی سمجھ سکتے ہیں کہ جو دل عشقِ مصطفیٰ ﷺ سے معمور ہو اور جو زمین پر دشمنانِ رسول ﷺ کے وجود کو مٹانے کا عزم کیے ہوئے ہو، وہ اپنے آقا و مولیٰ ﷺ کا مقدس نام کاغذ سے مٹانا کیونکر گوارا کر سکتا ہے؟
امام نووی رحمہ اﷲ اس کی شرح میں لکھتے ہیں ،’’ حضرت علی رضی اﷲ عنہ کا یہ انکار کرنا ادب مستحب کے باب سے ہے کیونکہ وہ آقا کریم ﷺ کے ارشاد سے یہی سمجھے تھے کہ اس تحریر کا مٹانا خود اُن پر لازم نہیں ۔ اسی لیے نبی کریم ﷺ نے حضرت علی رضی اﷲ عنہ پر کوئی گرفت نہیں کی‘‘۔ ()
Page 105 of 168

