یہ حضرت علی رضی ﷲ عنہ کی فقہیانہ بصیرت تھی جس کے باعث انہوں نے یہ حقیقت سمجھ لی کہ سرکار کا یہ حکم مستحب ہے۔ ورنہ حضرت علی رضی ﷲ عنہ کے لیے حضور ﷺ کے اس حکم کا ترک ہرگز جائز نہ ہوتا۔
(۴)۔ حضرت اُمّ عطیہ رضی ﷲ عنہا سے مروی ہے کہ: ہم عورتوں کو جنازے میں شریک ہونے سے منع کیا گیا ہے لیکن ہم پر اس کی تاکید نہیں کی گئی۔
اس کی شرح میں امام نووی رحمہ ﷲ فرماتے ہیں، ’’ان کے اس قول کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں رسول ﷲ ﷺ نے جنازوں میں شریک ہو نے سے منع فرمایا ہے لیکن یہ ممانعت تنزیہی کے درجہ کی ہے یہ ممانعت تاکیدی اور تحریمی کے درجہ کی نہیں ہے‘‘۔
اس سے معلوم ہوا کہ حضرت اُمّ عطیہ رضی ﷲ عنہا نے اپنی فقہی بصیرت اور اجتہاد سے اس ممانعت کا درجہ متعین کیا کہ یہ ممانعت تحریم کے درجہ کی نہیں بلکہ تنزیہی ہے حالانکہ حدیث میں صرف ممانعت کا حکم ہے اور تحریم و تنزیہہ کی تقسیم مذکور نہیں ہے۔ لیکن حضور ﷺ کے فرمائے ہوئے او امر ونواہی کی حقیقت اور ان کا درجہ سمجھنانہایت اہم ہے اور اسی حقیقت کوپالینے کا نام تفقہ فی الدین ہے۔ ’’خلفائے راشدین سے بڑھ کر کون احکام شریعت کا نکتہ شناس ہو سکتا ہے انہوں نے کیا کیا ؟
حضرت عمر رضی ﷲ عنہ کے آغازِ خلافت تک امہاتِ اولاد یعنی وہ لونڈیاں جن سے اولاد ہو چکی ہو عموماً خریدی بیچی جاتی تھیں ۔ حضرت عمر رضی ﷲ عنہ نے اس رواج کو بالکل روک دیا ۔ آنحضرت ﷺ نے تبوک کے سفر میں غیر مذہبوں پر جو جزیہ مقرر کیا وہ فی کس ایک دینار تھا۔ حضرت عمر رضیﷲ عنہ نے ایران میں ۴۸، ۱۲، ۶ کے حساب سے شرحیں مقرر کیں ۔ آنحضرت ﷺ جب مال غنیمت تقسیم کرتے تھے تو اپنے عزیز و اقارب کا حصّہ لگاتے تھے ۔ خلفائے راشدین میں سے کسی نے حتیٰ کہ حضرت علی رضی ﷲ عنہ نے بھی ہاشمیوں کو کبھی حصہّ نہیں دیا ۔ آنحضرت ﷺ کے زمانے میں بلکہ حضرت ابو بکر رضیﷲ عنہ کے عہد تک تین طلاقیں ایک سمجھی جاتی تھیں ، حضرت عمر رضیﷲ عنہ نے منادی کرا دی کہ تین طلاقیں تین سمجھی جائیں گی۔(اس مسئلہ کی تفصیل کے لیے فقیر کی کتاب ’’خواتین اور دینی مسائل‘‘ ملاحظہ فرمائیں )
آنحضرت ﷺ کے عہد میں شراب پینے کی سزا میں کوئی حد مقرر نہیں کی گئی تھی ۔حضرت ابوبکر رضی ﷲ عنہ نے اس کی حد ۴۰ درّے مقرر کی اور حضرت عمر رضی ﷲ عنہ نے بسبب اس کے کہ ان کے دور میں شراب نوشی کا زیادہ رواج ہو چلا تھا، ۴۰ سے ۸۰ درّے کر دئے۔
یہ وہ واقعات ہیں جو حدیث کی کتابوں میں مذکور ہیں اور جن کے ثبوت سے کوئی شخص انکار نہیں کر سکتا ۔ لیکن کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ خلفائے را شدین کسی حکم کو آنحضرت ﷺ کا تشریعی حکم سمجھ کر اس کی مخالفت کرتے تھے؟ (ہرگز نہیں ) حقیقت یہ ہے کہ صحابہ رات دن آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر رہتے تھے اور فیضِ صحبت کی وجہ سے شریعت کے ادا شناس ہو گئے تھے۔
امام ابوحنیفہ رضی ﷲ عنہ نے اس موقع پرصحابہ ہی کو دلیلِ راہ بنایا۔ اور اس قسم کے مسائل میں ان کی رائے عموماً خلفائے راشدین کے طرز عمل کے موافق ہے لیکن جن لوگوں کی نگاہ اس نکتہ تک نہیں پہنچی وہ امام ابوحنیفہ رضی ﷲ عنہ بلکہ صحابہ کو بھی موردِ الزام ٹھہراتے ہیں ۔
طلاق کے مسئلہ میں قاضی شوکانی نے حضرت عمر رضی ﷲ عنہ کا قول نقل کر کے لکھا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے مقابلے میں بے چارے عمر کی کیا حقیقت ہے؟ لیکن قاضی شوکانی یہ نہ سمجھے کہ حضرت عمر رضی ﷲ عنہ قاضی صاحب سے زیادہ اس بات کو سمجھتے تھے کہ رسول ﷺ کے مقابلے میں ان کی کوئی حقیقت نہیں ‘‘۔

