Imam e Azam

Author: Allama Syed Shah Turab ul Haq Qadri

Total Pages: 167

Page 107 of 167

اگر محض ظاہر بینوں کے اعتراضات کو دیکھا جائے تو یہ محسوس ہو گا کہ فلاں نے حدیث کی مخالفت کی، فلاں نے حدیث کا انکارکیا وغیرہ وغیرہ۔

لیکن انصاف پسند قارئین کے لیے مذکورہ بالا احادیثِ صحیحہ کی مثالوں سے یہ سمجھنا کچھ مشکل نہیں کہ حدیث کے ظاہری الفاظ کے علاوہ اس میں کچھ اسرار و رموز بھی ہوتے ہیں ، کہیں کوئی علت پوشیدہ ہوتی ہے تو کہیں قیود و شرائط پنہاں ہوتی ہیں ، کہیں امر و جوب کے لیے ہوتا ہے تو کہیں استحباب و اباحت کے لیے، کہیں نہیں تحریم کے لیے ہوتی ہے تو کہیں تنزیہہ و احتیاط کے لیے۔ چنانچہ حق یہی ہے کہ احادیث کا صحیح مفہوم سمجھنے اور اور ان سے مسائل کا استنباط کرنے کے لیے فقہی بصیرت اور عقل و فراست و دانائی کی ضرورت ہوتی ہے۔

اہلِ رائے یا اہلِ حدیث:

جب احادیث میں تعارض ہوتا تو فقیہ صحابہ کرام علیہم الرضوان اپنے اجتہاد کی بناء پر ایک حدیث کو دوسری پر ترجیح دیتے تھے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ عنہ نے حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللّٰہ عنہ سے روایت کیا کہ صحابہ کا اختلاف لوگوں کے لیے رحمت ہے۔

یعنی اگر صحابہ کرام کسی فروعی مسئلے میں اختلاف نہ کر تے تو لوگوں کے لیے رخصت نہ ہوتی۔نبی کریم کا ارشادِ گرامی بھی ہے کہ میری امت کا اختلاف باعثِ رحمت ہے۔ اس کے باوجود بعض جہلاء خود کو اہلِ حدیث اور امامِ اعظم رضی اللّٰہ عنہ کو اہلِ را ئے قرار دیتے ہیں اور عوام کو یہ تاثر دیتے ہیں کہ امامِ اعظم رضی اللّٰہ عنہ احادیث کے بجائے اپنی را ئے پر عمل پیرا تھے۔ حالانکہ یہ سراسر بہتان ہے۔ اس بارے میں تفصیلی گفتگو پہلے بھی ہو چکی لیکن مجددِ دین وملت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی رحمۃ ﷲ علیہ  نے اپنے رسالے ’’الفضل الموہبی فی معنی اذا صح الحدیث فہو مذہبی‘‘ میں اور شارح بخاری مفتی شریف الحق امجدی رحمہ اللّٰہ نے اپنی شرح بخاری کے مقدمے میں جو مدلل اور تحقیقی گفتگو کی ہے اس سے چند اقتباسات پیشِ خدمت ہیں ۔

امامِ اہلسنت اعلیٰ حضرت محدث بریلوی رحمہ ﷲ فرماتے ہیں ،

حضرات عالیہ صحابہ کرام رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہم اجمعین سے لے کر پچھلے ائمہ مجتہدین تک کوئی مجتہد ایسا نہیں کہ جس نے بعض احادیثِ صحیحہ کو ماؤل یا مرجوح یا کسی نہ کسی وجہ سے متروک العمل نہ ٹھہرایا ہو۔

(۱)۔ امیر المومنین عمر فاروق اعظم رضی اللّٰہ عنہ نے حدیثِ عمار رضی اللّٰہ عنہ دربارۂ تیمم جنب پر عمل نہ کیا اور فرمایا، اے عمار ! اللّٰہ سے ڈرو۔

(۲)۔ حضرت امیر معاویہ رضی اللّٰہ تعالی عنہ سے حدیث عبداللّٰہ بن عباس رضی اللّٰہ تعالٰی عنہا :

انہ لانستلم ھذین الرکنین ۔ہم ان دو رکنوں کو بوسہ نہیں دیتے۔ پھر اور فرمایا  : لیس شیئ من البیت مھجورا۔

(۳)۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللّٰہ عنہ نے روایت کیا کہ حضورِ اکرم ﷺ       نے فرمایا : الوضوء مما مست النار۔

جسے آگ نے چھوا ہو، اس سے وضو ہے۔ یعنی آگ پر پکی ہوئی کوئی چیز کھائی تو وضو ٹوٹ جائے گا۔اسی بنا ء پر بعض آئمہ اس کے قائل ہیں کہ گوشت کھانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللّٰہ عنہ  نے یہ حدیث بیان کی تو وہاں حضرت ابن عباس رضی ﷲ عنہما بھی موجود تھے۔ انھوں  نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللّٰہ عنہ کے سامنے یہ معارضہ پیش کیا:

انتو ضأ من الد ھن انتوضأ من الحمیم۔

کیا تیل کے استعمال سے یا گرم پانی کے استعمال سے وضو ٹوٹ جائے گا۔

اس کے جواب میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللّٰہ عنہ نے فرمایا۔ اے بھتیجے ! جب حدیثِ رسول بیان کروں تو مثالیں نہ دیا کرو۔ مگر حضرت ابن عباس رضی ﷲ عنہما اپنی رائے پر قائم رہے ۔ اور یہی جمہور کا مذہب ہے کہ آگ پر پکی ہوئی چیزوں کے کھانے سے وضو نہیں جاتا ۔ کیا جمہور امت کو یہ الزام دیا جا سکتا ہے کہ انھوں نے قیاس کی بنا ء پر حدیث کو ترک کر دیا؟

Share:
keyboard_arrow_up