Imam e Azam

Author: Allama Syed Shah Turab ul Haq Qadri

Total Pages: 167

Page 108 of 167

(۴)۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللّٰہ عنہ نے حضرت ابن عباس رضی ﷲ عنہما سے یہ حدیث بیا ن کی کہ جو جنازہ اُٹھائے وضو کرے ۔ اس پر حضرت ابن عباس رضی ﷲ عنہما نے کہا :

ھل یلز منا الو ضوء من حمل عید ان یا بسۃ۔

کیا سوکھی لکڑیاں اُٹھانے سے ہم پر وضو لازم ہے ۔

بعض حضرات نے ابو ہریرہ رضی اللّٰہ عنہ کی اس حدیث کی یہ تاویل کی ہے کہ ان کی مراد یہ تھی کہ جنازہ اُٹھانے والا وضو کر کے جنا زہ اُٹھائے تاکہ نماز جنازہ پڑھنے میں تاخیر نہ ہو۔ لیکن اگر ابو ہریرہ رضی اللّٰہ عنہ کی مراد یہ تھی تو انہیں جواب دینا چاہئے تھاکہ میری مراد یہ ہے ، اپنی بیان کردہ حدیث کو وہ زیادہ سمجھتے تھے ۔ حضرت ابن عباس رضی ﷲ عنہما کے مؤاخذہ پر خاموشی اس کی دلیل ہے کہ ان کی مراد یہی تھی کہ جنازہ اُٹھانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ معاندینِ احناف ،حضرت ابن عباس رضی ﷲ عنہما کو کیاکہیں گے؟۔

(۵)۔ حضرت عبدﷲ بن مسعود رضی ﷲ عنہ سے یہ مسئلہ پوچھا گیا کہ ایک شخص نے نکاح کیا اور مہر کچھ مقرر نہیں کیا ، پھر مر گیا۔ اس کی یہ زوجہ مہر پائے گی یا نہیں ؟ پائے گی تو کتنا؟ حضرت عبدﷲبن مسعود رضی اللّٰہ عنہ نے ایک مہینہ تک غور و خوض کیا پھر یہ فتویٰ دیا، میں نے اس بارے میں رسول ﷲ سے کچھ نہیں سنا ،میں اپنی رائے بتاتا ہوں ۔ اگر درست ہے تو ﷲ کی طرف سے ہے اور اگر درست نہیں تو میری طرف سے اور شیطان کی طرف سے ہے۔ اس عورت کو مہر مثل دیا جائے نہ کم نہ زیادہ ۔ اسی مجمع میں معقل بن سنان رضی اللّٰہ عنہ موجود تھے کھڑے ہو کر کہا کہ میں اس کی گواہی دیتا ہوں کہ بِردع بنت ِ و اشق کے بارے میں حضور اقدس نے یہی حکم دیا تھا یہ سن کر حضرت ابن مسعود رضی اللّٰہ عنہ اتنے خوش ہوئے کہ کبھی اتنے مسرور نہ دیکھے گئے تھے ۔

لیکن حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ نے معقل رضی اللّٰہ عنہ کی یہ حدیث تسلیم نہیں کی اور یہ کہہ کر اسے مسترد کر دیا۔

ما نصغی بقول اعرابی بو ال علی عقبیہ و حسبھا المیراث ولا مہر لہا۔

اپنی ایڑیوں پر پیشاب کرنے والے گنوار کی بات پر ہم کان نہیں دھرتے، اس عورت کو صرف میراث ملے گی۔مہر اس کے لئے نہیں ہے۔

حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ کا یہ قول نہ بھی ثابت ہو تو اتنا تو طے ہے کہ حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ کا قول یہی ہے کہ ایسی عورت کو صرف میراث ملے گی۔ اور کچھ بھی نہیں ملے گا۔ اور یہی حضرت زید بن ثابت، ابن عباس اور ابن عمر رضی ﷲ عنہم کا بھی مذہب ہے ۔ اب بتایئے حضرت علی رضی ﷲ عنہ اور تینو ں فقہاء صحابہ کے بارے میں کیا فتویٰ ہے؟ یہ اہل رائے تھے یا اہل حدیث؟۔

(۶)۔ ترمذی میں ہے کہ فاطمہ بنت قیس رضی ﷲ عنہا نے یہ حدیث بیان کی کہ میرے شوہر  نے مجھے تین طلاقیں دیں اس پر رسول ﷲ نے ان کے شوہر سے نہ عدت کا نفقہ دلایا اور نہ رہنے کے لئے مکان دلایا۔

مغیرہ رضی اللّٰہ عنہ کا بیان ہے کہ میں نے جب یہ حدیث ابراہیم سے ذکر کی تو انھوں نے کہا، اس پر حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ نے یہ فرمایا:

لا ندع کتاب اﷲ و سنۃ نبینا ﷺ بقول امرأ ۃ لا ندری احفظت ام نسیت فکان عمر جعل لھاالسکنیٰ والنفقۃ ۔

ہم ﷲ کی کتاب اور اپنے نبی کی سنت ایک عورت کے کہنے سے نہیں چھوڑ سکتے پتہ نہیں اس نے یاد رکھا یا بھول گئی۔ حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ نے ایسی عورت کو نفقہ بھی دلایا اور مکان بھی۔

شارحین نے کہا کہ کتابُ ﷲ سے مراد سورۃ طلاق کی یہ دو آیتیں ہیں :

ولا تخرجوہن من بیو تہن ۔

انھیں (عدت کے دوران) ان کے گھروں سے نہ نکالو اور نہ وہ خود نکلیں ۔

اسکنوھن من حیث سکنتم۔

جہاں خود رہتے ہو وہیں انہیں رکھو اپنی طاقت بھر۔

Share:
keyboard_arrow_up