Imam e Azam

Author: Allama Syed Shah Turab ul Haq Qadri

Total Pages: 167

Page 109 of 167

لیکن گذارش یہ ہے کہ ان آیتوں میں یہ تصریح نہیں ہے کہ یہ طلاق والی کے لئے ہیں۔ اور آپ کے نزدیک خبر واحد سے کتابُ ﷲ کی تخصیص جائز تو کیوں نہ اسے فاطمہ بنت قیس رضی ﷲ عنہا کی حدیث سے حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ  نے خاص فرمایا۔ آپ لوگوں کی زبان میں یہ حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ کا قیاس تھا کہ انھوں نے آیتوں کو اپنے عموم میں رکھا تو یہ قیاس سے حدیث کا رد کرنا ہوا۔  بولئے حضرت عمر رضی ﷲ عنہ کے بارے میں کیا تحقیق ہے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ نے صحابہ کرام کے مجمع عام میں یہ فیصلہ فرمایا سب نے سکوت کیا۔ کیا سب صحابہ کرام قیَّاس تھے ؟۔

رہ گئی وہ حدیث جو اس کے معارض ہے وہ ترمذی میں مذکور نہیں البتہ احناف کے اصولِ فقہ میں مذکور ہے کہ حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ نے فرمایا، میں نے رسولُ ﷲ کو فرما تے سنا کہ ایسی عورت کے لئے نفقہ اور سکنی ہے۔

یہاں بھی احتمال ہے کہ کہیں جو حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ نے سنا وہ مطلق مطلقہ  کے لئے ہو اور اسی پر مطلقہ ثلثہ کو قیاس فرمایا جیسا کہ کتابُ ﷲ کے سلسلے میں ظاہر ہو گیا اور اگر بالفرض یہ ارشاد خاص مطلقہ ثلثہ کے بارے میں ہی ہو تو ایک حدیث کی دوسرے پر ترجیح کی وجہ حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ کا افقہ ہونا ہے۔

اور یہی احناف بھی کہتے ہیں کہ تعارض کے وقت ترجیح اس روایت کو ہو گی جس کے راوی زیادہ فقیہ ہوں لیکن اب ہمیں یہ بتایئے کہ حضرت امام مالک ، امام شافعی ، لیث بن سعد رحمہم اللّٰہ کا مذہب یہ ہے کہ اسے رہنے کے لئے مکان ملے گا مگر نفقہ نہیں ملے گا۔

ترمذی میں ہے : ’’بعض اہل علم نے کہا، اسے رہنے کے لئے مکان ملے گا مگر نفقہ نہیں ملے گا یہ مالک بن انس ، لیث بن سعد اور شافعی کا مذہب ہے ‘‘۔ ان تینوں آئمہ کو کس زمرہ میں داخل مانتے ہو؟۔ اہل رائے کے یا اہل حدیث کے؟

اعلیٰ حضرت محدث بریلوی رحمۃ اللّٰہ علیہ فرماتے ہیں،

سیدنا امام مالک بن انس رضی اللّٰہ عنہ کا ارشاد ہے، علماء کا عمل حدیثوں سے زیادہ مستحکم ہے۔ اور ان کے اتباع  نے فرمایا، ایسی جگہ حدیث سنانا پوچ بات ہے۔ آئمہ تابعین کی ایک جماعت کو جب دوسروں سے ان کے خلاف حدیثیں پہنچتیں تو وہ فرماتے، ہمیں ان حدیثوں کی خبر ہے مگر عمل اس کے خلاف پر گذر چکا ۔

امام محمد بن ابی بکر بن جریر سے بارہا ان کے بھائی کہتے، تم  نے فلاں حدیث پر کیوں نہ حکم کیا؟ وہ فرماتے، میں نے علماء کو اس پر عمل کرتے نہ پایا۔

امام بخاری و امام مسلم کے استاذ الاستاذ عبدالرحمن بن مہدی فرماتے، اہلِ مدینہ کی پرانی سنت حدیث سے بہتر ہے۔ ان اقوال کوامام ابن الحاج مکی  نے مدخل میں روایت کیا۔رحمہم اللّٰہ تعالیٰ اب ان آئمہ تابعین کے بارے میں کیا کہا جائے گا جو علماء و فقہاء کرام کے عمل کو احادیث پر ترجیح دے رہے ہیں ؟ بلکہ غیر مقلدوں  کے  پیشوا میاں نذیر حسین دہلوی اپنی کتاب معیار الحق میں لکھتے ہیں کہ’’بعض آئمہ کا ترک کرنا بعض احادیث کو فرعِ تحقیق ان کی ہے کیونکہ انہوں نے ان احادیث کو قابلِ عمل نہیں سمجھا،بدعوے نسخ یا بدعوے ضعف اور امثال اس کے …الخ‘‘۔

اعلیٰ حضرت رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں، ’’اس امثال کے بڑھانے  نے کھول دیا کہ بے دعوے ٰ نسخ یا ضعف بھی آئمہ بعض احادیث کو قابلِ عمل نہیں سمجھتے۔ اور بیشک ایسا ہی ہے خود اسی ’’معیار‘‘ میں حدیثِ جلیل صحیح بخاری شریف حتیّٰ ساوی الظل التلولکو بعض مقلدین شافعیہ کی ٹھیٹھ تقلید کر کے بحیلۂ تاویلات باردہ کاسدہ ساقطہ فاسدہ متروک العمل کر دیااور عذرِ گناہ کے لیے بولے کہ جمعاً بین الادلۃ یہ تاویلیں حقہ کی گئیں ۔

اور اس کے سوا اور بہت سی احادیثِ صحاح کو محض اپنا مذہب بنانے کے لیے بدعاویٔ باطلہ عاطلہ ذاہلہ زائلہ بیدھڑک واہیات و مردود بتا دیا۔ جس کی تفصیلِ جلیل، فقیر کے رسالہ حاجز البحرین الواقی عن جمع الصلاتین میں مذکورہے‘‘۔

Share:
keyboard_arrow_up