لیکن گذارش یہ ہے کہ ان آیتوں میں یہ تصریح نہیں ہے کہ یہ طلاق والی کے لئے ہیں ۔ اور آپ کے نزدیک خبر واحد سے کتابُ اﷲ کی تخصیص جائز تو کیوں نہ اسے فاطمہ بنت قیس رضی اﷲ عنہا کی حدیث سے حضرت عمر رضی اللہ عنہنے خاص فرمایا۔ آپ لوگوں کی زبان میں یہ حضرت عمررضی اللہ عنہ کا قیاس تھاکہ انھوں نے آیتوں کو اپنے عموم میں رکھا تو یہ قیاس سے حدیث کا رد کرنا ہوا۔
بولئے حضرت عمر رضی اﷲ عنہ کے بارے میں کیا تحقیق ہے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہنے صحابہ کرام کے مجمع عام میں یہ فیصلہ فرمایاسب نے سکوت کیا۔ کیا سب صحابہ کرام قیَّاس تھے ؟۔
رہ گئی وہ حدیث جو اس کے معارض ہے وہ ترمذی میں مذکور نہیں البتہ احناف کے اصولِ فقہ میں مذکور ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہنے فرمایا ، میں نے رسولُ اﷲ ﷺ کو فرماتے سنا کہ ایسی عورت کے لئے نفقہ اور سکنی ہے۔ یہاں بھی احتما ل ہے کہ کہیں جو حضرت عمر رضی اللہ عنہنے سنا وہ مطلق مطلقہ کے لئے ہواور اسی پر مطلقہ ثلثہ کو قیاس فرمایا جیسا کہ کتابُ اﷲ کے سلسلے میں ظاہر ہو گیا اور اگر بالفرض یہ ارشاد خاص مطلقہ ثلثہ کے بارے میں ہی ہو تو ایک حدیث کی دوسرے پر ترجیح کی وجہ حضرت عمر رضی اللہ عنہکا افقہ ہوناہے ۔ اور یہی احناف بھی کہتے ہیں کہ تعارض کے وقت ترجیح اس روایت کو ہو گی جس کے راوی زیادہ فقیہ ہوں لیکن اب ہمیں یہ بتایئے کہ حضرت امام مالک ، امام شافعی ، لیث بن سعدرحمہم اللہ کا مذہب یہ ہے کہ اسے رہنے کے لئے مکان ملے گا مگر نفقہ نہیں ملے گا۔
ترمذی میں ہے :’’بعض اہل علم نے کہا، اسے رہنے کے لئے مکان ملے گا مگر نفقہ نہیں ملے گا یہ مالک بن انس ، لیث بن سعد اور شافعی کا مذہب ہے ‘‘۔
ان تینو ں ائمہ کو کس زمرہ میں داخل مانتے ہو؟۔ اہل رائے کے یا اہل حدیث کے؟
اعلیٰ حضرت محدث بریلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ،سیدنا امام مالک بن انس رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے،علماء کا عمل حدیثوں سے زیادہ مستحکم ہے۔ اور ان کے اتباع نے فرمایا، ایسی جگہ حدیث سنانا پوچ بات ہے۔ائمہ تابعین کی ایک جماعت کو جب دوسروں سے ان کے خلاف حدیثیں پہنچتیں تو وہ فرماتے، ہمیں ان حدیثوں کی خبر ہے مگر عمل اس کے خلاف پر گذر چکا ۔
امام محمد بن ابی بکر بن جریر سے بارہا ان کے بھائی کہتے، تم نے فلاں حدیث پر کیوں نہ حکم کیا؟ وہ فرماتے، میں نے علماء کو اس پر عمل کرتے نہ پایا۔ امام بخاری و امام مسلم کے استاذ الاستاذ عبدالرحمن بن مہدی فرماتے، اہلِ مدینہ کی پرانی سنت حدیث سے بہتر ہے۔ان اقوال کوامام ابن الحاج مکی نے مدخل میں روایت کیا۔رحمہم اللہ تعالیٰ
اب ان ائمہ تابعین کے بارے میں کیا کہا جائے گا جو علماء وفقہاء کرام کے عمل کو احادیث پر ترجیح دے رہے ہیں ؟ بلکہ غیرمقلدوں کے پیشوا میاں نذیر حسین دہلوی اپنی کتاب معیار الحق میں لکھتے ہیں کہ’’بعض ائمہ کا ترک کرنا بعض احادیث کو فرعِ تحقیق ان کی ہے کیونکہ انہوں نے ان احادیث کو قابلِ عمل نہیں سمجھا،بدعوے نسخ یا بدعوے ضعف اور امثال اس کے …الخ‘‘۔
اعلیٰ حضرت رحمہ اللہ فرماتے ہیں ، ’’اس امثال کے بڑھانے نے کھول دیا کہ بے دعوے ٰ نسخ یا ضعف بھی ائمہ بعض احادیث کو قابلِ عمل نہیں سمجھتے۔ اور بیشک ایسا ہی ہے خود اسی ’’معیار‘‘ میں حدیثِ جلیل صحیح بخاری شریف حتیّٰ ساوی الظل التلولکو بعض مقلدین شافعیہ کی ٹھیٹھ تقلید کر کے بحیلۂ تاویلات باردہ کاسدہ ساقطہ فاسدہ متروک العمل کر دیااور عذرِ گناہ کے لیے بولے کہ جمعاً بین الادلۃ یہ تاویلیں حقہ کی گئیں ۔ اور اس کے سوا اور بہت سی احادیثِ صحاح کو محض اپنا مذہب بنانے کے لیے بدعاویٔ باطلہ عاطلہ ذاہلہ زائلہ بیدھڑک واہیات و مردود بتا دیا۔ جس کی تفصیلِ جلیل ،فقیر کے رسالہ حاجز البحرین الواقی عن جمع الصلاتین میں مذکورہے‘‘۔()
Page 109 of 168

