Imam e Azam

Author: Allama Syed Shah Turab ul Haq Qadri

Total Pages: 167

Page 110 of 167

اِشعار کا مسئلہ:

احناف کو حدیث کے بالمقابل قیاس پر عمل کر نے کا بہت زیادہ طعن ، اِشعار کی کراہت کے قول سے دیا جاتا ہے۔ اس کا قصہ یہ ہے کہ ایام حج میں جو جانور قربانی کے لئے مکّہ معظّمہ لے کر جاتے ہیں جنھیں ہَدی کہتے ہیں انھیں شناخت کے لئے یا تو گردن میں کچھ پہنا دیا جاتا ہے یا ان کے کوہان میں معمولی سا زخم لگا دیا جاتا ہے اسے اِشعار کہتے ہیں۔ احادیث میں ہے کہ خود رسول ﷲ نے اِشعار کیا۔

حضرت امامِ اعظم رضی اللّٰہ عنہ نے اِشعار کو منع فرمایا۔ اس پر قیامت سر پر اٹھا لی گئی حالانکہ ہم اس کی بھی بکثرت نظیریں پیش کر سکتے ہیں کہ احادیث کی صحت تسلیم کرتے ہو ئے صحابہ کرام نے حدیث کے صریح منطوق کے خلاف اپنی رائے دی۔

مثلاً صحیح حدیث میں ہے کہ فرمایا:

لا تمنعوا آماء اللّٰہ مساجد اللّٰہ۔

ﷲ کی کنیزوں کو ﷲ کی مسجدوں میں داخل ہونے سے مت روکو۔

اور عیدین کی حاضری کے لئے فرمایا:

ولیشھدن الخیرودعوۃ المسلمین۔

بھلائی اور مسلمانوں کی دعاء میں حاضر ہوں ۔

لیکن ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی ﷲ عنہا نے فرمایا:

آج عورتوں نے جو حال بنا رکھا ہے اگر نبی دیکھتے تو انہیں مسجدوں سے روک دیتے جیسے بنی اسرائیل کی عورتیں روک دی گئیں ۔ اوربالآخر آج پوری امت نے بالاتفاق عورتوں کو مسجد میں جانے سے روک دیاہے۔ بولیے پوری امت نے بھی وہی جرم کیا یا نہیں جو جرم حضرت امام ابوحنیفہ رضی اللّٰہ عنہ نے کیا؟ جو اس کا جواب ہے وہی ہمارا جواب ہے۔ اِشعار جو مسنون تھا وہ صرف یہ تھا کہ اونٹ کے دائیں یا بائیں کوہان کے نیچے تھوڑا سا چمڑے میں شگاف لگا دیں کہ کچھ خون بہہ جائے لیکن جب لوگوں نے اس میں تعدی کی اور گہرے گہرے زخم لگا نے لگے جو گوشت تک پہنچ جاتے۔ اس میں بلا ضرورت شرعیہ جانور کو ایذا بھی دینی تھی اور یہ بھی خطرہ تھا کہ یہ زخم بڑھ کر جانور کے ہلاک ہو نے کا سبب نہ بن جائے تو امامِ اعظم رضی اللّٰہ عنہ نے اپنے زمانے کے اِشعار کو مکروہ بتایا۔

مذہبی ارکان کی ادائیگی میں کبھی کبھی عوام کا جوش تعدی کی حد تک بڑھ جاتا ہے۔ یہی حال اِشعار میں بھی ہونے لگا تھا۔ اس لئے فتنہ کے سدباب کے لیے امامِ اعظم رضی اللّٰہ عنہ نے اسے مکروہ بتایا۔ جیسے عورتوں کو اس زمانے میں مسجد میں نماز کے لئے جانے سے روکنا حدیث کے منافی نہیں ،اسی طرح اِشعار میں تعدی کی بناء پر اِشعار کو مکروہ کہنا، حدیث کے منافی نہیں ۔یہ لوگوں کے احوال کے اعتبار سے ہے۔

معانی ٔحدیث کا فہم:

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں،

امام اجل سفیان بن عیینہ رحمہ اللّٰہ جو امام شافعی و امام احمد بن حنبل کے استاذ اور امام بخاری و امام مسلم رحمہم اللّٰہ تعالیٰ کے استاذ الاستاذ ہیں فرماتے ہیں ،الحدیث مضلۃ الا للفقھاء۔’’ حدیث سخت گمراہ کرنے والی ہے سوائے مجتہدوں کے‘‘۔

اس کی شرح میں امام ابن الحاج مکی رحمہ اللّٰہ مدخل میں فرماتے ہیں،

’’ان کی مراد یہ ہے کہ غیر مجتہد کبھی ظاہر حدیث سے جو معنے سمجھ میں آتے ہیں ان پر جم جاتا ہے حالانکہ دوسری حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ یہاں مراد کچھ اور ہے۔ یا وہاں کوئی اور دلیل ہے جس پر اس شخص کو اطلاع نہیں ، یا متعدد اسباب ایسے ہیں جن کی وجہ سے اس پر عمل نہ کیا جائے گا۔ ان سب باتوں پر قدرت اسی کو حاصل ہوتی ہے جو علم کا دریا بنا اور منصبِ اجتہاد تک پہنچا(یعنی فقیہ ہوا)‘‘۔

حضورِ اکرم کا ارشادِ گرامی ہے،

’’ﷲ عزوجل جس کے ساتھ خیر کا ارادہ فرماتا ہے اسے دین میں سمجھ عطا فرماتا ہے‘‘ ۔

Share:
keyboard_arrow_up