Imam e Azam

Author: Allama Syed Shah Turab ul Haq Qadri

Total Pages: 168

Page 111 of 168
اور یہ حدیث پاک بھی پہلے مذکور ہوئی کہ ’’اﷲ تعالیٰ اس شخص کو خوش و خرم رکھے جس نے میری حدیث سن کر اچھی طرح یاد کی اور پھر اسے دوسروں تک پہنچایا۔ کیونکہ اکثر کوحدیث یاد ہوتی ہے مگر وہ اس کے فہم و فقہ کی قابلیت نہیں رکھتے یعنی وہ غیر فقیہ ہوتے ہیں اور وہ اسے ان تک پہنچادیتے ہیں جو اعلیٰ درجہ کے فقیہ ہوتے ہیں ‘‘۔
اس حدیث کے تحت اعلیٰ حضرت امام احمد رضامحدث بریلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ، اگر فقط حدیث معلوم ہو جانا فہمِ حکم کے لیے کافی ہوتا تو اس ارشادِ اقدس کے کیا معنی تھے؟ ()
ایک بار مشہور محدث و امام اعمش نے امام ابویوسف سے ایک مسئلہ دریافت کیا، انہوں نے جواب بتادیا۔ آپ نے کہا، اس کی دلیل؟ امام ابویوسف نے کہا،فلاں حدیث جو آپ سے روایت کی ہے۔ امام اعمش نے ہنس کر فرمایا، یہ حدیث مجھے اس وقت سے یاد ہے جب تمہارے والد کی شادی بھی نہ ہوئی تھی مگر اس کے معنی مجھے آج معلوم ہوئے ہیں ۔ ()
پس معلوم ہوا کہ قرآن و حدیث کا سمجھنا ہر شخص کا کام نہیں ۔ پھر سمجھنے والے بھی مختلف مدارج کے ہوتے ہیں ۔ ایک چیز سے ایک بات ایک کے سمجھ میں آتی ہے اور دوسرے لوگ اسے نہیں سمجھ پاتے ۔ دو مثالیں پیشِ خدمت ہیں :
(۱) حضور اقدس ﷺ نے اخیر عمر مبارک ، دورانِ خطبہ فرمایا:’’اﷲ نے ایک بندے کو یہ اختیار دیا کہ دنیا پسند کرے یا حضوریٔ بارگاہ ،اس بندے نے حضوریٔ بارگاہ کو پسند کیا۔یہ سن کر حضرت ابو بکر رضی اﷲ عنہ رونے لگے ۔
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ راویٔ حدیث کہتے ہیں ،ہم لوگوں کو اس پر تعجب ہوا کہ آپ رو کیوں رہے ہیں ۔ مگر بعد میں معلوم ہوا کہ وہ بندۂ مختار خود حضور اقدس ﷺ تھے اور حضرت ابو بکر رضی اﷲ عنہ ہم سب سے زیادہ علم والے تھے۔()
(۲) حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ ،حضرت ابن عباس رضی اﷲ عنہما کو اپنے قریب رکھتے تھے۔ یہ بات دوسرے بزرگوں کو ناپسند ہوئی کہ ہمارے لڑکوں کو اتنا قریب کیوں نہیں کرتے۔ خدمت میں عرض کیا ۔حضرت عمررضی اللہ عنہنے سب کے صاحبزادوں کو اور حضرت ابن عباس رضی اﷲ عنہما کو بھی بلایا اور دریافت کیا کہ سورۃ النصر سے کیا سمجھتے ہو، کچھ صاحبزادے تو بالکل خاموش رہے ۔ کچھ نے عرض کیا کہ ہمیں یہ حکم دیا گیا ہے کہ جب ہماری مدد ہوئی ہمیں فتح نصیب ہوئی تو ہم اﷲ کی تسبیح اورتحمید کریں ، استغفار کریں ، یعنی اس کا شکر کریں ۔
حضرت عمر رضی اﷲ عنہ نے حضرت ابن عباس رضی اﷲ عنہما سے پوچھا کہ تم کیا کہتے ہو تو انہوں نے عرض کیا۔ اس میں حضور اقدس ﷺکے وصا ل کے قرب کی خبر دی جا رہی ہے۔
کچھ اسی قسم کا معاملہ حضرت امامِ اعظم رضی اللہ عنہ اور ان کے معاصرین و معاندین کا بھی ہے۔حضرت امامِ اعظم رضی اللہ عنہ کو اﷲ تعالیٰ نے قرآن واحادیث کے معانی کے سمجھنے کی ایسی قوت و صلاحیت عطا فرمائی تھی جو دوسروں میں نہ تھی۔ دوسروں کی نظریں الفاظ کی سطح تک رہتیں اور حضرت امامِ اعظم رضی اللہ عنہ کی نکتہ رس نظریں فہم معانی کے دقیق سے دقیق ،ادق سے ادق بطون تک پہنچ جاتی جس پر یہ لوگ خود حیران رہ جاتے۔ ان میں جسے اﷲ چاہتا وہ امام کی جلالت کو تسلیم کر لیتا ورنہ معاندانہ روش پر اڑا رہتا۔
علامہ ابن حجر مکّی شافعی رحمہ اللہنے الخیرات الحسان میں خطیب کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ حضرت امام ابو یوسف رحمہ اللہنے فرمایا، حدیث کی تفسیر اور حدیث میں جہاں جہاں فقہی نکات ہیں ، ان کا جاننے والا میں نے حضرت امام ابوحنیفہرضی اللہ عنہ سے زیادہ کسی کو نہیں دیکھا۔ میں نے جب ان کا خلاف کیا پھر غور کیا تو ان کا مذہب آخرت میں زیادہ نجات دہندہ نظر آیا۔
Share:
keyboard_arrow_up