ایک بار حضرت امامِ اعظم رضی اللّٰہ عنہ، امام سلیمان اعمش رضی اللّٰہ عنہ کے یہاں تھے۔ امام اعمش سے کسی نے کچھ مسائل دریافت کئے ۔ انہوں نے امامِ اعظم رحمہ اللّٰہ سے پوچھا ، آپ کیا کہتے ہیں ؟ آپ نے ان سب کے حکم بیان فرمائے۔ امام اعمش نے پوچھا، کہاں سے یہ کہتے ہو؟فرمایا، آپ ہی کی بیان کردہ ان احادیث سے۔اورپھر آپ نے اُن احادیث کو مع اسناد کے بیان کر دیا۔ امام اعمش رحمہ اللّٰہ نے فرمایا، بس بس ، میں نے آپ سے جتنی حدیثیں سو دن میں بیان کی آپ نے وہ سب ایک دن میں سنا ڈالیں ۔ میں نہیں جانتاتھا کہ آپ ان احادیث پریوں عمل کرتے ہیں ۔
یا معشر الفقہاء انتم الاطباء ونحن الصیادلۃ وانت ایھا الرجل اخذت بکلا الطرفین۔
اے گروہِ فقہاء! تم طبیب ہو اور ہم محدثین عطارہیں یعنی دوائیں ہمارے پاس ہیں مگر ان کا طریق استعمال تم جانتے ہو اور اے مردِ کامل! تم نے تو فقہ و حدیث دونوں کو حاصل کر لیا۔
ﷲ تعالیٰ امام اعمش رحمہ اللّٰہ کو جزائے خیر عطا فرمائے، انہوں نے محدثین اور فقہاء کے مراتب کے متعلق تمام مباحث کو ان چند لفظوں میں سمیٹ کے رکھ دیاہے ۔
ایک جاہلانہ اعتراض:
’’حضرت امامِ اعظم رضی اللّٰہ عنہ کی جلالتِ شان گھٹانے کے لیے ایک جاہلانہ سوال بہت اُچھالا جاتاہے۔آجکل کے غیر مقلدین اسے بطور وظیفہ پڑھتے بھی ہیں اور اپنے غیر مقلد طلبہ کو پڑھا تے بھی ہیں ۔اس کا خاص سبب یہ ہے کہ حضرت امام بخاری سے بآں جلالتِ شان کہیں کہیں لغوی ،صرفی لغزش ہو گئی ہے، جن پر شارحین نے کلام کیا ہے۔ علامہ عینی نے بھی ان لغزشوں کا تذکرہ اپنی شرح میں کر دیا ہے بس کیا تھا بھڑ کے چھتّے میں لکڑی چلی گئی !!! ساری دنیا امام بخاری پر اعتراض کرے تو کرے ایک حنفی کیوں کچھ کہے۔ دیانت خدا ترسی سب کو بالائے طاق رکھ کر امامِ اعظم رضی اللّٰہ عنہ پرلعن طعن سب و شتم پر اتر آئے۔
امام بخاری سے بڑی عقیدت تھی تو ان لغزشوں کی تصحیح کرتے۔ یہ تو ان سے ہو نہ سکا،کِیا یہ کہ حضرت امامِ اعظم رضی اللّٰہ عنہ کا ایک قول ڈھونڈ نکالا جو ان معاندین کی پڑھی ہوئی نحو کے خلاف ہے ۔ قصہ یہ ہے کہ ابو عمر و علاء نحوی مقری نے حضرت امامِ اعظم رضی اللّٰہ عنہ سے پوچھا کہ قتل بالمثَقَّل سے قصاص واجب ہے یا نہیں ؟ فرمایا، نہیں ۔ اس پر ابو عمرو نے کہا اگر وہ منجنیق کے پتھر سے مارے پھر بھی نہیں ؟ فرمایا، لوقتلہ بابا قبیس۔ اگرچہ (پہاڑ) ابی قبیس سے قتل کرے ۔ چونکہ ابو قبیس پر’ با‘ حرفِ جار داخل ہے اس لیے اس کو یاء کے ساتھ ’’بابی قبیس‘‘ ہونا چاہیے تھا۔ اور حضرت امامِ اعظم رضی اللّٰہ عنہ نے اسے الف کے ساتھ فرمایا۔ یہ نحو کے قاعدے سے ناواقفی کی دلیل ہے ۔
حالانکہ حقیقت اس کے بر عکس ہے اس سے ایک طرف حضرت امامِ اعظم رضی اللّٰہ عنہ کا نحوی تبحر ثابت ہوتا ہے تو دوسری طرف معاندین کی جہالت اور علم نحو میں ان کی بے مائیگی ثابت ہوتی ہے اور حد یہ ہے کہ بخاری سے بھی واقفیت نہیں ۔
بخار ی قتل ابی جھل میں ہے کہ حضرت ابن مسعود رضی اللّٰہ عنہ ابو جہل کا سر قلم کر نے گئے تو اس سے کہا ، انت اباجھل۔ جو روایت بطریق محمد بن مثنیٰ ہے اس میں معتمد روایت یہی ہے۔ جیسا کہ فتح الباری میں ہے ، حالانکہ ہو نا چاہیے ابو جہل ۔ اپنے مخالف پر اعتراض کرنے چلے تھے اور وہ ان کے ہی امام پر لوٹ آیا۔
اولیاء ﷲ کے ساتھ عداوت کا یہی حال ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ نہ ’’بابا قبیس‘‘ غلط ہے اور نہ ’’انت ابا جھل‘‘ غلط۔ اسمائے ستہ مکبرہ میں ایک لغت یہ بھی ہے کہ’’ جب غیر یائے متکلم کی جانب مضاف ہو تو ہر حالت میں الف کے ساتھ ان کا اعراب ہو گا‘‘۔

