Imam e Azam

Author: Allama Syed Shah Turab ul Haq Qadri

Total Pages: 168

Page 113 of 168
چنانچہ اسی لغت پر مندرجہ ذیل شعر ہے،
ان اباھا و ابا اباھا
قد بلغا فی المجد غایتاھا
مگر ان غریبوں کو یہی معلوم ہے کہ چونکہ نحو میر میں اسمائے ستہ مکبرہ کا اعراب یہ لکھا ہے کہ حالت جر میں ’’یا‘‘ کے ساتھ اور حالت رفع میں ’’واؤ‘‘کے ساتھ اس لئے ’’انت اباجھل‘‘اور’’ولو قتلہ بابا قبیس‘‘ غلط ہے‘‘۔ ()

باب یازدہم(11) امامِ اعظم کے اساتذہ
امامِ اعظم رضی اللہ عنہنے علمِ فقہ کے حصول کے لیے حضرت امام حماد رضی اللہ عنہ کے حلقۂ درس سے وابستگی اختیار کی۔ اس دوران آپ علمِ حدیث کے حصول کے لیے دنیائے اسلام کے نامور محدثین کرام کی خدمت میں حاضری دیتے رہے کیونکہ فقہی مسائل کی مجتہدانہ تحقیق کے لیے علمِ حدیث کی تحصیل و تکمیل ازحد ضروری تھی۔
امام ابوحفص کبیررحمہ اللہ فرماتے ہیں ، ہمارے زمانے میں یہ اختلاف ہوا کہ امام ابوحنیفہ اورامام شافعی میں سے کون افضل ہے؟(رضی اللہ عنہما) یہ طے ہوا کہ دونوں کے مشائخ واساتذہ شمار کر لیے جائیں ، جس کے مشائخ زیادہ ہوں وہ افضل ہے۔ چنانچہ امام شافعیرضی اللہ عنہ کے اساتذہ اَسّی(۸۰) شمار ہوئے جبکہ امامِ اعظم رضی اللہ عنہ کے اساتذہ کی تعداد چار ہزار تک پہنچ گئی۔ ()
اور بعض نے کہا ہے کہ یہ چار ہزار شیوخ تابعین میں سے تھے۔ اب آپ خود سوچئے کہ ان کے سوا اور کتنے ہوں گے۔()
علامہ موفق رحمہ اللہنے اسی باب میں امامِ اعظم رضی اللہ عنہکے 244 اساتذہ کرام کے نام تحریر کیے ہیں جبکہ علامہ محمد بن یوسف شافعی رحمہ اللہنے عقود الجمان میں امامِ اعظم رضی اللہ عنہ کے 324مشائخ کے نام لکھے ہیں ۔
علامہ جلا ل الدین سیوطی شافعی رحمہ اللہنے آپ کے مشائخ میں تابعین وتبع تابعین سے74 حضرات کے نام لکھے ہیں جن سے آپ نے احادیث روایت کی ہیں جبکہ سات صحابہ کرام کے نام تحریر کیے ہیں ۔()
آپ کے معروف اساتذہ حضرت ابراھیم نخعی اور حضرت حماد بن ابی سلیمان رضی اللہ عنہما کا ذکر ہم اگلے عنوان’’فقہ حنفی کا سلسلہ‘‘ کے تحت کریں گے۔ یہاں ہم آپ کے بعض نامور اساتذہ کرام کا مختصر ذکر کرتے ہیں :
امام محمد بن علی باقررضی اللہ عنہما:
آپ امام حسین بن علی رضی اللہ عنہمکے پوتے ہیں ۔ آپ نے اپنے والد امام زین العابدین، حضرت ابن عباس،حضرت عائشہ ، حضرت ام سلمہ وغیرہ رضی اللہ عنہم اجمعینسے حدیث سماعت فرمائی۔ آپ کو وسیع العلم اور کثیر الحدیث ہونے کی وجہ سے باقر العلوم کہا جاتا تھا۔ آپ کے فقیہ اور محدث ہونے پر امام نسائی رحمہ اللہاور دیگر اکابر محدثین نے گواہی دی۔آپ کو سیدنا صدیق اکبر اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہماسے بڑی محبت تھی۔ آپ کا ارشادِ گرامی ہے،’’ میں ان لوگوں سے بیزار ہوں جو ابوبکر وعمر رضی اللہ عنہماسے بغض رکھتے ہیں اور اہلبیت کی محبت کا دعویٰ کرتے ہیں کیونکہ میں نے اپنے اہلبیت میں سے ہر کسی کو ان سے محبت کرتے ہوئے پایا ہے‘‘۔
امامِ اعظم رضی اللہ عنہنے امام محمد بن علی بن حسین بن علی المعروف امام محمد باقررضی اللہ عنہم سے بھی اکتسابِ فیض کیا۔ ایک بار ان کی خدمت میں حاضر ہوئے تو امام باقررضی اللہ عنہ نے فرمایا، ابوحنیفہ! ہم سے کچھ پوچھیے۔ آپ نے چند سوالات دریافت کیے اور پھر اجازت لے کر وہاں سے رخصت ہوئے تو امام باقر رضی اللہ عنہنے حاضرین سے فرمایا، ’’ابوحنیفہ کے پاس ظاہری علوم کے خزانے ہیں اور ہمارے پاس باطنی و روحانی علوم کے ذخائر ہیں ‘‘۔()
امام ابن عبد البررحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ ایک مرتبہ جب امام ابوحنیفہرضی اللہ عنہ، امام باقررضی اللہ عنہ سے علمی گفتگو کرکے رخصت ہوئے تو امام باقررضی اللہ عنہ نے فرمایا، ’’ ان (ابوحنیفہ) کا طریقہ اور انداز کتنا اچھا ہے اور ان کی فقہ کتنی زیادہ ہے‘‘۔امامِ اعظم رضی اللہ عنہنے امام باقر رضی اللہ عنہسے یہ روایت لی ہے کہ امام باقر محمدبن علیرضی اللہ عنہما نے فرمایا، حضرت علیرضی اللہ عنہ حضرت عمررضی اللہ عنہ کے جنازے کے پاس گئے۔ اور جنازے پر چادر پڑی ہوئی تھی۔ آپ نے فرمایا ، کوئی شخص ایسا نہیں ہے کہ میں اس کا نامۂ اعمال لے کر اﷲ کے پاس جاؤں سوائے اِس چادر پوش کے(یعنی حضرت عمر رضی اللہ عنہکے نامۂ اعمال پر حضرت علیرضی اللہ عنہ کو فخر تھا )‘‘۔ ()
Share:
keyboard_arrow_up