چنانچہ اسی لغت پر مندرجہ ذیل شعر ہے،
ان اباھا و ابا اباھا
قد بلغا فی المجد غایتاھا
مگر ان غریبوں کو یہی معلوم ہے کہ چونکہ نحو میر میں اسمائے ستہ مکبرہ کا اعراب یہ لکھا ہے کہ حالت جر میں ’’یا‘‘ کے ساتھ اور حالت رفع میں ’’و ا ؤ‘‘ کے ساتھ اس لئے ’’انت اباجھل‘‘اور’’ولو قتلہ بابا قبیس‘‘ غلط ہے‘‘۔
باب یازدہم(11)
امامِ اعظم کے اساتذہ امامِ اعظم رضی اللّٰہ عنہ نے علمِ فقہ کے حصول کے لیے حضرت امام حماد رضی اللّٰہ عنہ کے حلقۂ درس سے وابستگی اختیار کی۔ اس دوران آپ علمِ حدیث کے حصول کے لیے دنیائے اسلام کے نامور محدثین کرام کی خدمت میں حاضری دیتے رہے کیونکہ فقہی مسائل کی مجتہدانہ تحقیق کے لیے علمِ حدیث کی تحصیل و تکمیل ازحد ضروری تھی۔
امام ابوحفص کبیر رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں،
ہمارے زمانے میں یہ اختلاف ہوا کہ امام ابوحنیفہ اور امام شافعی میں سے کون افضل ہے؟ (رضی اللّٰہ عنہما) یہ طے ہوا کہ دونوں کے مشائخ و اساتذہ شمار کر لیے جائیں ، جس کے مشائخ زیادہ ہوں وہ افضل ہے۔ چنانچہ امام شافعی رضی اللّٰہ عنہ کے اساتذہ اَسّی(۸۰) شمار ہوئے جبکہ امامِ اعظم رضی اللّٰہ عنہ کے اساتذہ کی تعداد چار ہزار تک پہنچ گئی۔اور بعض نے کہا ہے کہ یہ چار ہزار شیوخ تابعین میں سے تھے۔ اب آپ خود سوچئے کہ ان کے سوا اور کتنے ہوں گے۔
علامہ موفق رحمہ اللّٰہ نے اسی باب میں امامِ اعظم رضی اللّٰہ عنہ کے 244 اساتذہ کرام کے نام تحریر کیے ہیں جبکہ علامہ محمد بن یوسف شافعی رحمہ اللّٰہ نے عقود الجمان میں امامِ اعظم رضی اللّٰہ عنہ کے 324مشائخ کے نام لکھے ہیں ۔
علامہ جلا ل الدین سیوطی شافعی رحمہ اللّٰہ نے آپ کے مشائخ میں تابعین وتبع تابعین سے 74 حضرات کے نام لکھے ہیں جن سے آپ نے احادیث روایت کی ہیں جبکہ سات صحابہ کرام کے نام تحریر کیے ہیں۔
آپ کے معروف اساتذہ حضرت ابراھیم نخعی اور حضرت حماد بن ابی سلیمان رضی اللّٰہ عنہما کا ذکر ہم اگلے عنوان’’فقہ حنفی کا سلسلہ‘‘ کے تحت کریں گے۔
یہاں ہم آپ کے بعض نامور اساتذہ کرام کا مختصر ذکر کرتے ہیں :
امام محمد بن علی باقر رضی اللّٰہ عنہما: آپ امام حسین بن علی رضی اللّٰہ عنہم کے پوتے ہیں ۔ آپ نے اپنے والد امام زین العابدین،حضرت ابن عباس،حضرت عائشہ، حضرت اُم سلمہ وغیرہ رضی اللّٰہ عنہم اجمعین سے حدیث سماعت فرمائی۔ آپ کو وسیع العلم اور کثیر الحدیث ہونے کی وجہ سے باقر العلوم کہا جاتا تھا۔ آپ کے فقیہ اور محدث ہونے پر امام نسائی رحمہ اللّٰہ اور دیگر اکابر محدثین نے گواہی دی۔ آپ کو سیدنا صدیق اکبر اور سیدنا عمر فاروق رضی اللّٰہ عنہما سے بڑی محبت تھی۔ آپ کا ارشادِ گرامی ہے، ’’ میں ان لوگوں سے بیزار ہوں جو ابو بکر و عمر رضی اللّٰہ عنہما سے بغض رکھتے ہیں اور اہلبیت کی محبت کا دعویٰ کرتے ہیں کیونکہ میں نے اپنے اہلبیت میں سے ہر کسی کو ان سے محبت کرتے ہوئے پایا ہے‘‘۔
امامِ اعظم رضی اللّٰہ عنہ نے امام محمد بن علی بن حسین بن علی المعروف امام محمد باقر رضی اللّٰہ عنہم سے بھی اکتسابِ فیض کیا۔ ایک بار ان کی خدمت میں حاضر ہو ئے تو امام باقر رضی اللّٰہ عنہ نے فرمایا، ابوحنیفہ! ہم سے کچھ پوچھیے۔ آپ نے چند سوالات دریافت کیے اور پھر اجازت لے کر وہاں سے رخصت ہوئے تو امام باقر رضی اللّٰہ عنہ نے حاضرین سے فرمایا، ’’ابوحنیفہ کے پاس ظاہری علوم کے خزانے ہیں اور ہمارے پاس باطنی و روحانی علوم کے ذخائر ہیں ‘‘۔
امام ابن عبد البر رحمہ اللّٰہ لکھتے ہیں کہ ایک مرتبہ جب امام ابوحنیفہ رضی اللّٰہ عنہ ،امام باقر رضی اللّٰہ عنہ سے علمی گفتگو کرکے رخصت ہو ئے تو امام باقر رضی اللّٰہ عنہ نے فرمایا، ’’ ان (ابوحنیفہ) کا طریقہ اور انداز کتنا اچھا ہے اور ان کی فقہ کتنی زیادہ ہے‘‘۔
امامِ اعظم رضی اللّٰہ عنہ نے امام باقر رضی اللّٰہ عنہ سے یہ روایت لی ہے کہ امام باقر محمدبن علی رضی اللّٰہ عنہما نے فرمایا، حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ کے جنازے کے پاس گئے۔ اور جنازے پر چادر پڑی ہوئی تھی۔ آپ نے فرمایا ، کوئی شخص ایسا نہیں ہے کہ میں اس کا نامۂ اعمال لے کر ﷲ کے پاس جاؤں سوائے اِس چادر پوش کے(یعنی حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ کے نامۂ اعمال پر حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ کو فخر تھا )‘‘۔

