۱۱۸ ھ میں آپ نے وصال فرمایا۔ امامِ اعظم رضی اللہ عنہ کی آپ سے پہلی ملاقات کے وقت کی گفتگو بہت مشہور ہے جو کہ پہلے مذکور ہوچکی۔
امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ:
آپ امام باقر رضی اللہ عنہکے بیٹے اور اور امام زین العابدین رضی اللہ عنہ کے پوتے ہیں ۔ آپ کے شاگردوں میں امامِ اعظم کے علاوہ امام مالک، سفیان ثوری، سفیان بن عیینہ،یحییٰ بن سعید، ابن جریج وغیرہ رضی اللہ عنہمکئی اکابر محدثین شامل ہیں ۔ آپ بیحد متقی اور مستجابُ الدعوات تھے۔ بلاوضو کبھی حدیث روایت نہ کرتے۔ ایک بار امام ابوحنیفہ رضی اللہ عنہسے چند مسائل پر گفتگو ہوئی تو فرمایا، ’’یہ شخص بڑا عالم وفاضل اور فقیہ ہے‘‘۔ ۱۴۸ ھ میں آپ کا وصال ہوا۔
امامِ اعظم رضی اللہ عنہفرماتے ہیں کہ ایک بار میں مدینہ منورہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ نے مجھے اپنے بالکل قریب بٹھا لیا۔ میں نے عرض کی، آپ کا حضراتِ ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے متعلق کیا نظریہ ہے؟ کیونکہ بعض لوگ آپ پر الزام لگاتے ہیں کہ آپ ان سے بیزاری کا اظہار کرتے ہیں ۔
امام جعفر صادق رضی اللہ عنہنے فرمایا، رب کعبہ کی قسم ! یہ لوگ جھوٹے ہیں اور جھوٹ بولتے ہیں۔ اے ابوحنیفہ ! کیا تمہیں معلوم نہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہنے اپنی بیٹی اُمِ کلثوم بنت فاطمہرضی اللہ عنہا کو حضرت عمررضی اللہ عنہ کے نکاح میں دیا تھا۔ کیا تم نہیں جانتے کہ اُم کلثوم رضی اللہ عنہا کے نانا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سیدُ الانبیاء اور ان کی نانی سیدہ خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا امُّ المومنین ہیں اور ان کے بھائی حسن و حسینرضی اللہ عنہما جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں ۔اگر سیدنا عمررضی اللہ عنہ سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا کے نکاح کے اہل نہ ہوتے تو سیدنا علیرضی اللہ عنہ کبھی اس پر راضی نہ ہوتے۔()
علماء نے فرمایا ہے کہ جس طرح حضرت داؤد طائی رحمہ اللہطریقت میں حضرت حبیب عجمی رحمہ اللہکے مجاز اور خلیفہ ہیں اسی طرح آپ امامِ اعظم کے بھی مجاز اور خلیفہ ہیں ۔ اور اسی طرح امامِ اعظم رضی اللہ عنہبھی طریقت میں امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ کے مجاز اور خلیفہ ہیں ۔ آپ نے سلوک و طریقت کے مراحل امام جعفر صادق رضی اللہ عنہسے دو سال میں طے کیے ہیں پھرفرمایا ہے، لَوْلاَ السَّنَتَانُ لَھَلَکَ النُّعْمَانُ۔ ’’اگر یہ دو سال نہ ہوتے تو نعمان ہلاک ہوجاتا‘‘۔ ()
امام قاسم بن محمدرضی اللہ عنہ:
آپ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہکے پوتے ہیں ۔ مدینہ منورہ کے سات مشہور فقہاء میں سے ایک ہیں ۔علم وعمل میں تمام اہلِ مدینہ سے افضل مانے جاتے تھے۔ یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ کا قول ہے کہ قاسم بن محمد سے زیادہ ہم نے کسی کو افضل نہ پایا۔ آپ حدیث میں اپنے والد محمد بن ابوبکر، اپنی پھوپھی حضرت عائشہ، عبداللہ بن مسعود، ابن عمر، ابن عباس، ابوہریرہ، امیر معاویہ وغیرہ کثیر صحابہ رضی اللہ عنہمکے شاگرد ہیں ۔
آپ کے شاگردوں میں امام شعبی، سالم بن عبداللہ، امام زہری، امامِ اعظم اور دیگر سینکڑوں تابعین و تبع تابعینرضی اللہ عنہم شامل ہیں ۔ آپ زیادہ وقت خاموش رہتے اور احادیث کی روایت کم کرتے۔ اکثر وقت عبادتِ الہٰی میں گزارتے۔ آپ کا وصال ۱۰۱ ھ یا ۱۰۶ھ میں ہوا۔
حضرت امام شعبی رضی اللہ عنہ:
امام شعبیرضی اللہ عنہ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ آپ نے پانچ سو صحابہ کرام کا دیدار کیا۔ یہی وہ بزرگ ہستی ہیں جنہوں نے امامِ اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ کو علمِ دین کے حصول کی طرف راغب کیا تھا۔
Page 114 of 168

