علم وفضل کا یہ عالم تھا کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہمانے ایک بار آپ کو مغازی کا درس دیتے سنا تو فرمایا، ’’واللہ یہ شخص اس فن کو مجھ سے اچھا جانتا ہے‘‘۔
امام زہری فرماتے تھے، ’’عالم صرف چار ہیں ۔مدینہ میں سعید بن مسیب، بصرہ میں حسن بصری، شام میں مکحول اور کوفہ میں شعبی‘‘۔رضی اللہ عنہم اجمعین
آپ اعلیٰ درجہ کے فقیہ اور مفتی تھے۔ امام ابن سیرین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ امام شعبیرضی اللہ عنہ صحابہ کرام کی کثیر تعداد کے سامنے فتویٰ دیا کرتے تھے۔
اعلیٰ حضرت محدث بریلوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ آپ کا فرمانِ عالیشان ہے ، ’’بیس سال ہو چکے ہیں کہ کسی محدث سے کوئی حدیث میرے کان تک ایسی نہیں پہنچتی جس کا علم مجھے اس محدث سے زائد نہ ہو‘‘۔ ()
علامہ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ، امام شعبیرضی اللہ عنہ، امام ابوحنیفہرضی اللہ عنہ کے بڑے استاد تھے۔ آپ کا وصال ۱۰۴ ھ یا ۱۰۶ھ میں ہوا۔
حضرت ابواسحاق سبیعی رضی اللہ عنہ:
آپ حضرت ابن عباس، ابن عمر، ابن زبیر، براء بن عازب، زید بن ارقم اور بہت سے صحابہ رضی اللہ عنہم سے احادیث روایت کرتے ہیں ۔ بعض کے بقول اٹھائیس (۲۸) صحابہ کرام سے آپ کو بالمشافہ روایت کا شرف حاصل ہے۔
امام بخاری رحمہ اللہکے استاد علی بن المدینی رحمہ اللہکہتے ہیں ، میں نے ابواسحق رضی اللہ عنہکے شیوخ شمار کیے تو تین سو (۳۰۰) شمار ہوئے جن میں اسّی (۸۰) صحابہ کرام شامل ہیں ۔ آپ کا وصال ۱۲۹ ھ میں ہوا۔
امام شعبہ بن الحجاج رضی اللہ عنہ:
علمِ حدیث میں آپ کا لقب ’’امیر المومنین فی الحدیث‘‘ ہے۔ آپ کو دو ہزار حدیثیں یاد تھیں ۔امام شافعیرضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے، ’’اگرامام شعبہ نہ ہوتے تو عراق میں کوئی حدیث کا پہچاننے والا نہ ہوتا‘‘۔
آپ کو اپنے شاگردِرشید امام ابوحنیفہرضی اللہ عنہسے بڑی محبت تھی۔آپ ان کی بڑی تعریف کیا کرتے۔ ایک بار ان کے ذکر پر فرمایا،’’جس طرح مجھے یقین ہے کہ آفتاب روشن ہے اسی طرح مجھے یقین ہے کہ علم اور ابوحنیفہ ساتھی اور ہم نشین ہیں ‘‘۔
امام بخاری رحمہ اللہکے استاد یحییٰ بن معینرحمہ اللہ سے امامِ اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ عنہکے متعلق دریافت کیا گیا تو فرمایا،
’’امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے ثقہ ہونے کے لیے یہ بات کافی ہے کہ انہیں امام شعبہرحمہ اللہ نے حدیث وروایت کی اجازت دی ہے اور شعبہ آخر شعبہ ہی ہیں ‘‘۔
عراق میں یہ پہلے محدث ہیں جنہوں نے جرح وتعدیل کے مراتب مقرر کیے۔ ۱۶۰ھ میں آپ کا وصال ہوا۔
حضرت عطاء بن ابی رباح رضی اللہ عنہ:
آپ نہایت مشہور تابعی ہیں ۔ مکہ مکرمہ میں سب سے وسیع حلقۂ درس آپ ہی کا تھا۔ آپ کا ارشاد ہے کہ میں نے دو سو صحابہ کرام کی زیارت کی ہے۔ علمِ حدیث میں آ پ کو ابن عباس، ابوہریرہ،ابوسعید خدری اور دیگرکئی صحابہ رضی اللہ عنہمکی شاگردی کا شرف حاصل ہوا۔ مجتہدین صحابہ نے آپ کے علم وفضل کی تعریف کی۔
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہمافرماتے تھے کہ عطاء بن ابی رباح رضی اللہ عنہکے ہوتے ہوئے لوگ میرے پاس کیوں آتے ہیں ۔
امام اوزاعی، امام زہری وغیرہ آپ ہی کے شاگرد ہیں ۔امامِ اعظم رضی اللہ عنہجب بھی مکہ مکرمہ جاتے ، ان کے درس میں ضرور شریک ہوتے۔ امامِ اعظم رضی اللہ عنہ کی ذہانت کی وجہ سے آپ دوسروں کو ہٹا کر امام ابوحنیفہرضی اللہ عنہ کو سب سے آگے اپنے پہلو میں جگہ دیتے۔ ۱۱۵ ھ میں آپ کا وصال ہوا۔
حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ:
آپ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہماکے غلام اور شاگرد تھے۔ ان کے علاوہ آپ حضرت علی، ابوہریرہ، ابن عمر اور دوسرے کئی صحابہ رضی اللہ عنہم سے احادیث روایت کرتے ہیں ۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہمانے آپ کی تعلیم وتربیت کر کے اپنی حیات میں ہی آپ کو اجتہاد اور فتوی کی اجازت دی۔ تقریباً ستر (۷۰) مشہور تابعین تفسیر وحدیث میں آپ کے شاگرد ہیں ۔
Page 115 of 168

