Imam e Azam

Author: Allama Syed Shah Turab ul Haq Qadri

Total Pages: 168

Page 116 of 168
حضرت سعید بن جبیررضی اللہ عنہ سے پوچھاگیا، دنیا میں آپ سے بڑا بھی کوئی عالم ہے؟ فرمایا، ہاں ، عکرمہ رحمہ اللہ۔ امام شعبیرضی اللہ عنہ فرماتے تھے،قرآن جاننے والا عکرمہ رضی اللہ عنہ سے بڑھ کر میں نے نہیں دیکھا۔ ۱۰۷ ھ میں آپکا وصال ہوا۔
حضرت سلمہ بن کہیل رضی اللہ عنہ:
آپ مشہور محدث اور تابعی ہیں ۔حضرت جندب بن عبداللہ، عبداللہ بن ابی اوفٰی، ابوالطفیل اور بہت سے دوسرے صحابہ رضی اللہ عنہمسے حدیثیں روایت کیں ۔ سفیان بن عیینہ رحمہ اللہفرماتے تھے،’’ سلمہ بن کہیل رضی اللہ عنہارکان میں سے ایک رکن ہیں ‘‘۔
ابنِ سعد نے انہیں ’’کثیر الحدیث‘‘ تحریر کیا ہے۔ ابن مہدی کا قول ہے کہ’’ کوفہ میں چار لوگ سب سے زیادہ صحیح الروایت تھے۔منصور بن معتمر، عمرو بن مرہ،ابوحصین اور سلمہ بن کہیل‘‘۔رضی اللہ عنہم
حضرت محارب بن وثار رضی اللہ عنہ:
آپ حضرت جابر، عبداللہ بن عمر اور دیگر صحابہ رضی اللہ عنہم سے احادیث روایت کرتے ہیں ۔ امام احمد، ابن معین،ابوزرعہ،دارقطنی، ابوحاتم اور امام نسائی وغیرہ نے آپ کو ثقہ تسلیم کیا ہے۔علامہ ذہبی رحمہ اللہنے لکھا ہے کہ محارب عموماً حجت ہیں ۔
آپ نہایت متقی پرہیزگار تھے۔ حضرت سفیان ثوری رحمہ اللہ فرماتے تھے، میں نے محارب بن وثار رحمہ اللہ سے زیادہ عابد وزاہد کوئی نہ دیکھا۔آپ کوفہ میں منصبِ قضا پر مامور تھے۔ ۱۱۶ھ میں آپ کا وصال ہوا۔
حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ:
آپ عظیم محدث اور مشہور تابعی ہیں ۔ آپ بے پناہ قوتِ حافظہ کے مالک تھے اس لیے احادیث من وعن سنانے میں شہرت رکھتے تھے۔ حضرت انس، حضرت ابوالطفیل اور دیگر کئی صحابہ رضی اللہ عنہم سے حدیثیں روایت کیں ۔
آپ فرماتے تھے،’’جو بات میرے کان میں پڑتی ہے اسے میرا دل محفوظ کر لیتا ہے‘‘۔ امامِ اعظم رضی اللہ عنہنے ان سے بھی اکتسابِ علم کیا۔۱۰۷ ھ میں وصال ہوا۔
حضرت سماک بن حرب رضی اللہ عنہ:
آپ جلیل القدر تابعی اور محدث ہیں اور حدیث میں امامِ اعظم رضی اللہ عنہکے استاد ہیں ۔ آپ خود فرماتے ہیں کہ’’ مجھے اسّی (۸۰) صحابہ کرام کی زیارت کا شرف حاصل ہے‘‘۔ آپ سے دو سو(۲۰۰) حدیثیں مروی ہیں ۔
حضرت سفیان ثوری رضی اللہ عنہ ان کے بارے میں کہتے ہیں کہ’’ سماک بن حرب رضی اللہ عنہنے کبھی حدیث میں غلطی نہیں کی‘‘۔آپ جابر بن سمرہ ، نعمان بن بشیراور دیگر صحابہ رضی اللہ عنہمسے روایت کرتے ہیں ۔ ۱۲۳ھ میں وصال ہوا۔
حضرت ہشام بن عروہ رضی اللہ عنہ:
آپ معروف محدث اور تابعی ہیں ، حضرت زبیررضی اللہ عنہکے پوتے ہیں ۔ آپ نے بہت سے صحابہ سے حدیثیں روایت کیں ۔ ابن سعد نے لکھا ہے کہ ہشام بن عروہ رضی اللہ عنہ، ثقہ اور کثیر الحدیث تھے۔
محدث ابوحاتم رحمہ اللہنے آپ کو امام الحدیث قرار دیا۔بڑے بڑے ائمہ حدیث مثلاً امام مالک، امام ابوحنیفہ، سفیان ثوری،سفیان بن عیینہ وغیرہ رضی اللہ عنہمآپ کے شاگرد تھے۔
حضرت سلیمان بن مہران رضی اللہ عنہ:
آپ امام اعمش کے نام سے مشہور ہیں ۔ صحابہ کرام میں سے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہاور حضرت عبداللہ بن ابی اوفٰی رضی اللہ عنہکی زیارت کا شرف حاصل تھا۔ آپ عبداللہ بن ابی اوفٰی رضی اللہ عنہ سے حدیث روایت کرتے ہیں ۔
حضرت امامِ اعظم ، سفیان ثوری، شعبہ بن الحجاج ،سفیان بن عیینہ، عبداللہ بن مبارک ، فضیل بن عیاض وغیرہ رضی اللہ عنہمآپ کے شاگردوں میں سے ہیں ۔ آپ نے عمر بھر کسی امیر یا بادشاہ کا نذرانہ قبول نہ کیا۔ ۱۴۸ ھ میں آپ کا وصال ہوا۔
Share:
keyboard_arrow_up