حضرت عون بن عبداللہ رضی اللہ عنہ:
آپ بھی مشہور تابعی اور عظیم محدث ہیں ۔ آپ کے والد عبداللہ رضی اللہ عنہ، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بھتیجے ہیں ۔آپ حدیث میں ثقہ مانے جاتے ہیں ۔ زہد وتقویٰ کا پیکر تھے۔ آپ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہاور عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہماسے حدیثیں روایت کرتے ہیں ۔
حضرت سلیمان بن یسار رضی اللہ عنہ:
آپ ام المومنین حضرت میمونہ رضی اللہ عنہاکے آزاد کردہ ہیں ۔ مدینہ منورہ کے مشہور سات فقہاء میں علم وفضل کے اعتبار سے ان کا دوسرا نمبر تھا۔ آپ تابعین کرام کی جماعت میں نہایت عابد وزاہد اور کامل فقیہ سمجھے جاتے تھے۔۱۰۷ھ میں آپ کا وصال ہوا۔
حضرت سالم بن عبداللہ رضی اللہ عنہ:
آپ حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہماکے بیٹے ہیں اور مدینہ منورہ کے نامور فقہاء میں سے ہیں ۔ آپ نے اپنے والد گرامی اور حضرت ابوہریرہ و ابو رافع وغیرہ رضی اللہ عنہمسے دینی علم حاصل کیا۔ تابعین کی جماعت میں علم وفضل کے لحاظ سے نمایاں مقام رکھتے ہیں ۔ امام مالک رضی اللہ عنہکا قول ہے کہ آپ اپنے زمانے کے صلحاء وعابدین میں بے مثال اور زہد وتقویٰ اور علم وفضل میں بے نظیر تھے۔ ۱۰۶ھ میں وصال ہوا۔
امامِ اعظم ابوحنیفہرضی اللہ عنہ نے ان دونوں فقہائے مدینہ سے اکتسابِ علم کیا اور ان سے حدیثیں روایت کیں ۔
فقہ حنفی کا سلسلہ:
امامِ اعظم ابوحنیفہرضی اﷲ عنہ جب پہلی بار عباسی خلیفہ منصور کے دربار میں آئے تو مشہور عابد وزاہد عیسیٰ بن موسیٰ رحمہ اللہنے خلیفہ سے کہا، یہ دنیا کے سب سے بڑے عالم ہیں ۔ خلیفہ نے پوچھا، آپ نے کس سے علم حاصل کیا؟
آپ نے فرمایا، ’’ میں نے حضرت عمر کے ساتھیوں سے اور انہوں نے سیدنا عمر سے، اور میں نے حضرت علی کے ساتھیوں سے اور انہوں نے سیدنا علی سے، نیز میں نے حضرت عبداللہ ابن مسعود کے اصحاب سے اور انہوں نے سیدنا ابن مسعود سے‘‘۔ (رضی اللہ عنہم اجمعین) خلیفہ نے کہا، علم تو بہت پختہ حاصل کیا ہے۔
مشہور فقیہ و محدث امام مسروق رضی اﷲ عنہفرماتے ہیں ،’’ میں نے صحابہ کرام کی صحبت سے فیض پایا ہے۔ میں نے دیکھا کہ سب صحابہ کرام کا علم سمٹ کر ان چھ اکابر صحابہ کی طرف لوٹتا ہے۔ حضرت عمر، حضرت علی، حضرت عبداﷲ بن مسعود، حضرت معاذ بن جبل، حضرت ابوالدرداء اور حضرت زید بن ثابت۔ پھر میں نے ان چھ حضرات سے اکتسابِ فیض کیا تو دیکھاکہ ان سب کا علم حضرت علی اور حضرت عبداﷲ بن مسعود کے علم پر ختم ہوگیا‘‘۔رضی اللہ عنہم اجمعین()
گویا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اﷲ عنہکو صحابہ کرام کے علم کا خزینہ داراور محافظ کہا جا سکتا ہے۔امام شعبیرضی اﷲ عنہ جو کوفے کے عظیم محدث و فقیہ اور امامِ اعظم رضی اﷲ عنہ کے استاد ہیں ، فرماتے ہیں ، حضور ﷺ کے صحابہ کرام کے بعد کوفہ میں عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہکے شاگرد ہی دین کے فقہاء تھے۔ ()
آپ کے خاص شاگردوں میں حضرت علقمہ، حضرت اسود، قاضی شریح، امام مسروق اور حضرت ابوعبیدہ رضی اﷲ عنہم زیادہ مشہور ہوئے۔
پس فقہ حنفی کا سلسلہ یہ ہے کہ امامِ اعظم ابوحنیفہ نے امام حماد سے، انہوں نے حضرت ابراھیم نخعی سے، انہوں نے علقمہ و اسود سے ، انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اﷲ تعالیٰ عنہم اجمعینسے اور انہوں نے رسولُ اللہ ﷺ سے علم حاصل کیا۔
اب ہم اس سلسلے کے جلیل القدر ائمہ کرام کے بارے میں مختصر گفتگو کرتے ہیں ۔
سیدنا عبداللہ بن مسعودرضی اﷲ عنہ:
آپ اسلام قبول کرنے والے چھٹے شخص ہیں ۔ بارگاہِ نبوی میں آپ کے خصوصی مقام کا اندازہ اس بات سے کیا جا سکتا ہے کہ آقا ومولیٰ ﷺ نے آپ سے یہ فرمایا،’’ تمہیں اجازت طلب کرنے کی ضرورت نہیں ، پردہ اٹھا کر اندر آجاؤ اور ہماری خاص باتیں سنو جب تک کہ میں تم کو روکوں ‘‘۔
Page 117 of 168

