Imam e Azam

Author: Allama Syed Shah Turab ul Haq Qadri

Total Pages: 167

Page 117 of 167

حضرت عون بن عبداللّٰہ رضی اللّٰہ عنہ:

آپ بھی مشہور تابعی اور عظیم محدث ہیں ۔ آپ کے والد عبداللّٰہ رضی اللّٰہ عنہ، حضرت عبداللّٰہ بن مسعود رضی اللّٰہ عنہ کے بھتیجے ہیں ۔آپ حدیث میں ثقہ مانے جاتے ہیں ۔ زہد و تقویٰ کا پیکر تھے۔ آپ حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ عنہ اور عبداللّٰہ بن عمر رضی اللّٰہ عنہما سے حدیثیں روایت کرتے ہیں ۔

حضرت سلیمان بن یسار رضی اللّٰہ عنہ:

آپ ام المومنین حضرت میمونہ رضی اللّٰہ عنہا کے آزاد کردہ ہیں ۔ مدینہ منورہ کے مشہور سات فقہاء میں علم و فضل کے اعتبار سے ان کا دوسرا نمبر تھا۔ آپ تابعین کرام کی جماعت میں نہایت عابد و زاہد اور کامل فقیہ سمجھے جاتے تھے۔۱۰۷ھ میں آپ کا وصال ہوا۔

حضرت سالم بن عبداللّٰہ رضی اللّٰہ عنہ:

آپ حضرت عبداللّٰہ بن عمر رضی اللّٰہ عنہما کے بیٹے ہیں اور مدینہ منورہ کے نامور فقہاء میں سے ہیں ۔ آپ نے اپنے والد گرامی اور حضرت ابوہریرہ و ابو رافع وغیرہ رضی اللّٰہ عنہم سے دینی علم حاصل کیا۔ تابعین کی جماعت میں علم  و فضل کے لحاظ سے نمایاں مقام رکھتے ہیں ۔ امام مالک رضی اللّٰہ عنہ کا قول ہے کہ آپ اپنے زمانے کے صلحاء و عابدین میں بے مثال اور زہد و تقویٰ اور علم و فضل میں بے نظیر تھے۔ ۱۰۶ھ میں وصال ہوا۔

امامِ اعظم ابوحنیفہ رضی اللّٰہ عنہ نے ان دونوں فقہائے مدینہ سے اکتسابِ علم کیا اور ان سے حدیثیں روایت کیں ۔

فقہ حنفی کا سلسلہ:

امامِ اعظم ابوحنیفہ رضی ﷲ عنہ جب پہلی بار عباسی خلیفہ منصور کے دربار میں آئے تو مشہور عابد و زاہد عیسیٰ بن موسیٰ رحمہ اللّٰہ نے خلیفہ سے کہا، یہ دنیا کے سب سے بڑے عالم ہیں ۔ خلیفہ نے پوچھا، آپ نے کس سے علم حاصل کیا؟ آپ نے فرمایا، ’’ میں نے حضرت عمر  کے ساتھیوں سے اور انہوں نے سیدنا عمر سے، اور میں نے حضرت علی کے ساتھیوں سے اور انہوں نے سیدنا علی سے، نیز میں نے حضرت عبداللّٰہ ابن مسعود کے اصحاب سے اور انہوں نے سیدنا ابن مسعود سے‘‘۔ (رضی اللّٰہ عنہم اجمعین) خلیفہ نے کہا، علم تو بہت پختہ حاصل کیا ہے۔

مشہور فقیہ و محدث امام مسروق رضی ﷲ عنہ فرماتے ہیں،

’’میں نے صحابہ کرام کی صحبت سے فیض پایا ہے۔ میں نے دیکھا کہ سب صحابہ کرام کا علم سمٹ کر ان چھ اکابر صحابہ کی طرف لوٹتا ہے۔ حضرت عمر، حضرت علی، حضرت عبدﷲ بن مسعود، حضرت معاذ بن جبل، حضرت ابوالدرداء اور حضرت زید بن ثابت۔ پھر میں نے ان چھ حضرات سے اکتسابِ فیض کیا تو دیکھا کہ ان سب کا علم حضرت علی اور حضرت عبدﷲ بن مسعود کے علم پر ختم ہوگیا‘‘۔رضی اللّٰہ عنہم اجمعین ۔ گویا کہ حضرت عبداللّٰہ بن مسعود رضی ﷲ عنہ کو صحابہ کرام کے علم کا خزینہ دار اور محافظ کہا جا سکتا ہے۔

امام شعبی رضی ﷲ عنہ جو کوفے کے عظیم محدث و فقیہ اور امامِ اعظم رضی ﷲ عنہ کے استاد ہیں، فرماتے ہیں ، حضور کے صحابہ کرام کے بعد کوفہ میں عبدﷲ بن مسعود رضی ﷲ عنہ کے شاگرد ہی دین کے فقہاء تھے۔

آپ کے خاص شاگردوں میں حضرت علقمہ، حضرت اسود، قاضی شریح، امام مسروق اور حضرت ابوعبیدہ رضی ﷲ عنہم زیادہ مشہور ہوئے۔ پس فقہ حنفی کا سلسلہ یہ ہے کہ امامِ اعظم ابوحنیفہ نے امام حماد سے، انہوں نے حضرت ابراھیم نخعی سے، انہوں نے علقمہ و اسود سے ، انہوں نے حضرت عبداللّٰہ بن مسعود رضی ﷲ تعالیٰ عنہم اجمعین سے اور انہوں نے رسولُ اللّٰہ سے علم حاصل کیا۔ اب ہم اس سلسلے کے جلیل القدر آئمہ کرام کے بارے میں مختصر گفتگو کرتے ہیں ۔

سیدنا عبداللّٰہ بن مسعود رضی ﷲ عنہ:

آپ اسلام قبول کرنے والے چھٹے شخص ہیں ۔ بارگاہِ نبوی میں آپ کے خصوصی مقام کا اندازہ اس بات سے کیا جا سکتا ہے کہ آقا ومولیٰ نے آپ سے یہ فرمایا،’’ تمہیں اجازت طلب کرنے کی ضرورت نہیں ، پردہ اٹھا کر اندر آجاؤ اور ہماری خاص باتیں سنو جب تک کہ میں تم کو روکوں ‘‘۔

Share:
keyboard_arrow_up