آپ رسول کریم ﷺ کے خاص خادم اور رازدار صحابی تھے۔آپ صحابہ کرام میں ’’صاحبُ النعلین والسواک والسِواد ‘‘ کے لقب سے مشہور تھے۔ آپ کے ذمہ یہ خدمتیں تھیں مثلاً آقا کریم ﷺ کی نعلین پاک اٹھانا، مسواک ساتھ رکھنا، آپ کے آگے چلنا، وضو کے لیے پانی فراہم کرنا، سفر میں بستر مبارک اٹھانا، خواب سے بیدار کرنا۔
حضرت ابو وائل بن ابی سلمہ رضی ﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ:
میں رسول اللّٰہ ﷺ کے صحابہ کے حلقوں میں بیٹھا ہوں،میں نے ابن مسعود رضی ﷲ عنہ کی بات سے انکار کرتے کسی کو نہیں دیکھا اور نہ ہی کسی صحابی نے آپ کا رد کیا۔
صحیح مسلم میں ہے کہ حضرت ابن مسعود رضی ﷲ عنہ نے ایک مجمع میں دعویٰ کیا کہ ’’تمام صحابہ جانتے ہیں کہ میں قرآن کا سب سے زیادہ عالم ہوں ‘‘۔ آپ کے اس دعویٰ کا کسی صحابی نے انکار نہیں کیا۔ جب حضرت ابو بکرصدیق رضی ﷲ عنہ کی خلافت کا مسئلہ درپیش ہوا تو حضرت عبدﷲ بن مسعود رضی ﷲ عنہ نے فرمایا، ہم اپنے دنیوی امور کے لیے اس ہستی کو پسند کرتے ہیں جس کو ہمارے آقا و مولیٰ ﷺ نے ہمارے دینی کام کے لیے پسند کیا۔
یعنی حضور ﷺ نے حضرت ابو بکر صدیق رضی ﷲ عنہ کو اپنی ظاہری حیات مبارکہ میں نماز پڑھانے کے لیے مقرر کیا تھا ( اس لیے وہی ہمارے خلیفہ ہوں گے)۔ حضرت ابن مسعود رضی ﷲ عنہ کی اس دلیل کو صحابہ نے تسلیم کیا۔
علامہ ابن عبدالبر رحمہ اللّٰہ نے لکھا ہے کہ:
رسول کریم ﷺ کے وصال ظاہری کے بعد حضرت ابن مسعود رضی ﷲ عنہ کا یہ ارشاد پہلا اجتہاد تھا۔
نبی کریم ﷺ نے عبدﷲ بن مسعود رضی ﷲ عنہ کی فضیلت یوں بیان فرمائی کہ ’’تم ابن مسعود کے حکم کو مضبوط پکڑے رہو‘‘۔
ایک اور حدیث پاک میں آقا ومولیٰ ﷺ نے چار صحابہ سے قرآن سیکھنے کا حکم فرمایا، ان میں سب سے پہلے عبداللّٰہ بن مسعود رضی ﷲ عنہ کا نام لیا۔
یہ وہی ابن مسعود رضی ﷲ عنہ ہیں جن کے متعلق امیر المومنین فاروق اعظم رضی ﷲ عنہ فرماتے، ’’یہ ایک تھیلا ہیں علم سے بھرا ہوا ‘‘۔ اور نہایت یہ کہ سید المرسلین ﷺ نے فرمایا، ’’میں نے اپنی امت کے لیے وہ پسند فرما لیا جو کچھ عبد ﷲ بن مسعود رضی ﷲ عنہ اس کے لیے پسند کریں ‘‘۔
حضرت حذیفہ رضی ﷲ عنہ سے پوچھا گیا، ایسے شخص کے بارے میں بتائیے جو صورت و سیرت میں نبی کریم ﷺ سے قریب تر ہو تاکہ ہم اس سے کچھ سیکھیں ۔ فرمایا، میں کسی ایسے شخص کو نہیں جانتا جو عبداللّٰہ بن مسعود رضی ﷲ عنہ سے زیادہ نبی کریم ﷺ سے قریب ہو۔
سیدنا علی رضی ﷲ عنہ کا ارشاد ہے،
’’ابنِ مسعود رضی ﷲ عنہ نے قرآن پڑھ کر جو اس میں حلال تھا اس کو حلال کیا اور جو حرام تھا اس کو حرام کیا، وہ دین کے فقیہ ہیں اور سنت کے عالم‘‘۔
امام شعبی رحمہ اللّٰہ کا قول ہے،
رسول کریم ﷺ کے صحابہ میں سے ہمارے استاد ابن مسعود رضی ﷲ عنہ سے بڑھ کر کوئی فقیہ نہ تھا‘‘۔
خلاصہ یہ ہے کہ حضرت عبداللّٰہ بن مسعود رضی ﷲ عنہ علومِ مصطفیٰ ﷺ کے مرجعِ اخیر اور فقہ کے مرجعِ کل ہیں اور آپ پہلے صحابی ہیں جو باقاعدہ طور پر فقہ کی تعلیم دیتے تھے۔ آپ سے کثیر صحابہ اور تابعین احادیث روایت کرتے ہیں جن میں ابن عباس، ابن عمر اور ابن زبیر رضی ﷲ عنہم شامل ہیں ۔ آپ ۲۰ھ تا ۳۰ھ کوفہ میں مقیم رہے۔ ۳۲ھ میں آپ کا وصال ہوا۔حضرت عثمان غنی رضی ﷲ عنہ نے نماز جنازہ پڑھائی۔
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی رحمہ اللّٰہ، محدث علی قاری رحمہ اللّٰہ کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ:
ہمارے آئمہ کے نزدیک سیدنا عبد اللّٰہ بن مسعود رضی ﷲ عنہ خلفاء آربعہ کے بعد سب سے زیادہ فقیہ ہیں ۔ اسی لیے ہمارے امامِ اعظم ان کی روایت و قول کو خلفائے آربعہ کے بعد سب صحابہ کے قول پر ترجیح دیتے ہیں ۔

