Imam e Azam

Author: Allama Syed Shah Turab ul Haq Qadri

Total Pages: 168

Page 119 of 168
حضرت علقمہ بن قیس نخعیرضی اﷲ عنہ:
آپ حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اﷲ عنہکے خاص شاگردوں میں سے تھے۔ حضرت ابن مسعودرضی اﷲ عنہ فرمایا کرتے تھے ، ’’علقمہ کا علم میرے علم سے کم نہیں ہے‘‘۔
امام یافعی رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ حضرت علقمہ رضی اﷲ عنہ کا علم وفضل اس قدر تھا کہ ان سے صحابہ کرام بھی فتوے لیا کرتے تھے۔
حضرت علقمہ رضی اﷲ عنہ اور آپ کے صاحبزادے حضرت ابو عبیدہ رضی اﷲ عنہحضرت ابن مسعود رضی اﷲ عنہ کے آئینے کہلائے ۔ یہ دونوں حضرات کامل طور پر حضرت ابن مسعود رضی اﷲ عنہ کے احوال سے متصف تھے۔ حضرت علقمہرضی اﷲ عنہ کا وصال ۶۲ ھ میں ہوا۔ آپ کے وصال کی خبر سن کر حضرت ابن عباس رضی اﷲ عنہمانے فرمایا ’’آج علم کا سرپرست فوت ہوگیا‘‘۔()
امام ابوحنیفہرضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے امام حمادرضی اﷲ عنہ کویہ کہتے سنا کہ جب میں ابراہیم نخعیرضی اﷲ عنہ کو دیکھتا تو ان کی سیرت و عادات دیکھنے والا ہر کوئی یہ کہتا کہ ان کی خصلت و سیرت عین حضرت علقمہرضی اﷲ عنہ کی عادات و سیرت ہے اور جو علقمہرضی اﷲ عنہ کو دیکھتا وہ کہتا، ان کی عادات و سیرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہ کی عادات و سیرت ہے اور جو حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہ کی عادات و سیرت دیکھتا تو وہ یہ کہتا ، یہ تو بعینہٖ رسول اﷲ ﷺ کی عادات و سیرت ہے۔ ()
خوش نصیبی دیکھیے کہ یہ خود تابعی و فقیہ ومحدث، ان کے دو بھتیجے اسود اور عبدالرحمن بلند پایہ تابعی فقیہ و محدث، اور ایک نواسہ ابراھیم نخعی تابعی فقیہ و محدث۔یعنی ایک گھر میں چار تابعی اور عالی قدر محدث و فقیہ ۔ سبحان اللہ! آپ کا وصال۶۲ھ یا ۷۴ھ میں ہوا۔
حضرت اسود بن یزید نخعی رضی اﷲ عنہ:
آپ حضرت علقمہ رضی اﷲ عنہ کے بھتیجے اور حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اﷲ عنہ کے خاص شاگردوں میں سے ہیں ۔ آپ صاحبِ علم وفضل اور متقی و پرہیزگار تھے۔آپ کثرت سے نوافل پڑھتے اور سار اسال روزے رکھتے۔ آپ نے اسّی حج اور عمرے کیے۔ کوفہ میں آپ کی عبادات وکرامات اسقدر مشہور ہوئیں کہ لوگ آپ کو ’’اَسود جنتی‘‘ کہہ کر پکارا کرتے تھے۔ ۷۵ھ میں آپ کا وصال ہوا۔
جب حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ کے زمانے میں خشک سالی ہوئی تو انہوں نے حضرت اسود بن یزید رضی اﷲ عنہ کا بازو پکڑ کر کہا،الہٰی! ہم اپنے میں سب سے اچھے افضل شخص اسود بن یزید رضی اﷲ عنہکے وسیلے سے تجھ سے بارش مانگتے ہیں ۔اور پھر آپ سے بھی دعا کا کہا۔چنانچہ آپ نے بھی ہاتھ اٹھا کر دعا کی تو اسی وقت بارش ہو گئی۔
جب آپ کی وفات کا وقت قریب آیا تو رونے لگے۔ کسی نے وجہ پوچھی تو فرمایا، مجھ سے زیادہ رونے کا حقدار اور کون ہے؟ خدا کی قسم!اگر اللہ تعالیٰ اپنے لطف و کرم سے مجھے بخش دے تو بھی مجھے اپنے مولیٰ سے شرمندگی رہے گی۔ دیکھو کوئی شخص معمولی خطا کرتا ہے اور جس کی خطا کی ہو وہ اس کو معاف بھی کر دیتا ہے پھر بھی وہ ہمیشہ اس شخص سے شرمندہ رہتا ہے۔
امامِ اعظم رضی اﷲ عنہ سے کسی نے دریافت کیا کہ حضرت علقمہرضی اﷲ عنہ اور حضرت اسود رضی اﷲ عنہ میں سے افضل کون ہے؟ آپ نے فرمایا،’’خدا کی قسم ! میری کیا بساط ہے جو دونوں کا موازنہ کروں ، میرا کام یہ ہے کہ ان کے لیے دعا کروں ‘‘۔()
امام ابراہیم نخعی رضی اللہ عنہ:
حضرت ابراہیم بن یزید نخعی رضی اللہ عنہ عراق کے نامور فقیہ اور علم الحدیث کے امام ہیں ۔امُ المؤمنین عائشہ صدیقہرضی اللہ عنہا اور دیگر کئی صحابہ کرام کی زیارت سے مشرف ہوئے۔ آپ اکثر صحابہ کرام سے بطریق ارسال اور تابعین میں سے حضرت علقمہ، حضرت مسروق اور حضرت اسود رضی اللہ عنہمسے احادیث روایت کرتے ہیں ۔
Share:
keyboard_arrow_up