Imam e Azam

Author: Allama Syed Shah Turab ul Haq Qadri

Total Pages: 167

Page 119 of 167

حضرت علقمہ بن قیس نخعی رضی ﷲ عنہ:

آپ حضرت عبداللّٰہ ابن مسعود رضی ﷲ عنہ کے خاص شاگردوں میں سے تھے۔ حضرت ابن مسعود رضی ﷲ عنہ فرمایا کرتے تھے، ’’علقمہ کا علم میرے علم سے کم نہیں ہے‘‘۔

امام یافعی رحمہ اللّٰہ نے لکھا ہے کہ:

حضرت علقمہ رضی ﷲ عنہ کا علم و فضل اس قدر تھا کہ ان سے صحابہ کرام بھی فتوے لیا کرتے تھے۔ حضرت علقمہ رضی ﷲ عنہ اور آپ کے صاحبزادے حضرت ابو عبیدہ رضی ﷲ عنہ حضرت ابن مسعود رضی ﷲ عنہ کے آئینے کہلائے ۔ یہ دونوں حضرات کامل طور پر حضرت ابن مسعود رضی ﷲ عنہ کے احوال سے متصف تھے۔ حضرت علقمہ رضی ﷲ عنہ کا وصال ۶۲ ھ میں ہوا۔ آپ کے وصال کی خبر سن کر حضرت ابن عباس رضی ﷲ عنہما نے فرمایا ’’آج علم کا سرپرست فوت ہوگیا‘‘۔

امام ابوحنیفہ رضی ﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ:

میں نے امام حماد رضی ﷲ عنہ کو یہ کہتے سنا کہ جب میں ابراہیم نخعی رضی ﷲ عنہ کو دیکھتا تو ان کی سیرت و عادات دیکھنے والا ہر کوئی یہ کہتا کہ ان کی خصلت و سیرت عین حضرت علقمہ رضی ﷲ عنہ کی عادات و سیرت ہے اور جو علقمہ رضی ﷲ عنہ کو دیکھتا وہ کہتا، ان کی عادات و سیرت عبدﷲ بن مسعود رضی ﷲ عنہ کی عادات و سیرت ہے اور جو حضرت عبدﷲ بن مسعود رضی ﷲ عنہ کی عادات و سیرت دیکھتا تو وہ یہ کہتا ، یہ تو بعینہٖ رسول ﷲ کی عادات و سیرت ہے۔

خوش نصیبی دیکھیے کہ یہ خود تابعی و فقیہ و محدث، ان کے دو بھتیجے اسود اور عبدالرحمن بلند پایہ تابعی فقیہ و محدث، اور ایک نواسہ ابراھیم نخعی تابعی فقیہ و محدث۔یعنی ایک گھر میں چار تابعی اور عالی قدر محدث و فقیہ ۔ سبحان اللّٰہ! آپ کا وصال۶۲ھ یا ۷۴ھ میں ہوا۔

حضرت اسود بن یزید نخعی رضی ﷲ عنہ:

آپ حضرت علقمہ رضی ﷲ عنہ کے بھتیجے اور حضرت عبداللّٰہ ابن مسعود رضی ﷲ عنہ کے خاص شاگردوں میں سے ہیں ۔ آپ صاحبِ علم و فضل اور متقی و پرہیزگار  تھے۔ آپ کثرت سے نوافل پڑھتے اور سار اسال روزے رکھتے۔ آپ نے اسّی حج اور عمرے کیے۔ کوفہ میں آپ کی عبادات و کرامات اس قدر مشہور ہوئیں کہ لوگ آپ کو ’’اَسود جنتی‘‘ کہہ کر پکارا کرتے تھے۔ ۷۵ھ میں آپ کا وصال ہوا۔ جب حضرت امیر معاویہ رضی ﷲ عنہ کے زمانے میں خشک سالی ہوئی تو انہوں نے حضرت اسود بن یزید رضی ﷲ عنہ کا بازو پکڑ کر کہا، الہٰی! ہم اپنے میں سب سے اچھے افضل شخص اسود بن یزید رضی ﷲ عنہ کے وسیلے سے تجھ سے بارش مانگتے ہیں ۔اور پھر آپ سے بھی دعا کا کہا۔ چنانچہ آپ نے بھی ہاتھ اٹھا کر دعا کی تو اسی وقت بارش ہو گئی۔ جب آپ کی وفات کا وقت قریب آیا تو رونے لگے۔ کسی نے وجہ پوچھی تو فرمایا، مجھ سے زیادہ رونے کا حقدار اور کون ہے؟ خدا کی قسم! اگر اللّٰہ تعالیٰ اپنے لطف و کرم سے مجھے بخش دے تو بھی مجھے اپنے مولیٰ سے شرمندگی رہے گی۔ دیکھو کوئی شخص معمولی خطا کرتا ہے اور جس کی خطا کی ہو وہ اس کو معاف بھی کر دیتا ہے پھر بھی وہ ہمیشہ اس شخص سے شرمندہ رہتا ہے۔

امامِ اعظم رضی ﷲ عنہ سے کسی نے دریافت کیا کہ حضرت علقمہ رضی ﷲ عنہ اور حضرت اسود رضی ﷲ عنہ میں سے افضل کون ہے؟ آپ نے فرمایا، ’’خدا کی قسم! میری کیا بساط ہے جو دونوں کا موازنہ کروں ، میرا کام یہ ہے کہ ان کے لیے دعا کروں ‘‘۔

امام ابراہیم نخعی رضی اللّٰہ عنہ:

حضرت ابراہیم بن یزید نخعی رضی اللہ عنہ عراق کے نامور فقیہ اور علم الحدیث کے امام ہیں ۔امُ المؤمنین عائشہ صدیقہرضی اللہ عنہا اور دیگر کئی صحابہ کرام کی زیارت سے مشرف ہوئے۔ آپ اکثر صحابہ کرام سے بطریق ارسال اور تابعین میں سے حضرت علقمہ، حضرت مسروق اور حضرت اسود رضی اللہ عنہمسے احادیث روایت کرتے ہیں ۔

Share:
keyboard_arrow_up