حضرت علقمہ بن قیس آپ کے ماموں جبکہ حضرت اسود بن یزید آپ کے ماموں زاد بھائی تھے اور یہ دونوں حضرات ا بن مسعود کے خصوصی اصحاب میں سے تھے۔ رضی اللہ عنہم اجمعین
آپ کا لقب ’’صیر فی الحدیث‘‘ تھا یعنی کھری کھوٹی احادیث کا پرکھنے والا۔ امام اعمش رضی اللہ عنہفرماتے تھے کہ’’ محدثین تو بہت ہیں مگر حدیث کو پرکھنے والا ابراہیم نخعی رضی اللہ عنہکے سوا کوئی نہیں ‘‘۔ آپ کا وصال ۹۵ ھ یا ۹۶ ھ میں ہوا۔
جب آپ کا وصال ہواتو امام شعبی رضی اللہ عنہنے فرمایا، حدیث و فقہ کا سب سے بڑا عالم دنیا سے چلا گیا۔ کسی نے کہا، کیا وہ حسن بصری رضی اللہ عنہسے بھی زیادہ عالم تھے؟ فرمایا، صرف حسن بصری رضی اللہ عنہسے زیادہ نہیں بلکہ وہ پورے عراق وشام و حجاز میں سب سے بڑے فقیہ تھے۔ ()
امام حماد بن ابی سلیمان رضی اللہ عنہ:
آپ کوفے کے عظیم فقیہ، جلیل القدرمحدث اور اپنے وقت کے سب سے بڑے عالم تھے۔ صحابہ کرام میں سے حضرت انس رضی اللہ عنہ اور تابعین میں سے ابراہیم نخعی، سعید بن مسیب، سعید بن جبیر، زید بن وہب، ابو وائل اور امام شعبی وغیرہ رضی اللہ عنہم جیسے فقہاء ومحدثین کے مایہ ناز شاگرد ہیں خصوصاً حضرت ابراہیم نخعی رضی اللہ عنہکے تمام علوم کے وارث اور جانشین ہیں ۔
امام مسلم اور اصحابِ سنن نے آپ کی مرویات لکھی ہیں ۔ حدیث شریف روایت کرتے وقت آپ پر حال طاری ہو جاتا، بعض اوقات آپ پر بیخودی کا غلبہ ہوجاتا۔امام یحییٰ بن معین، امام نسائی، امام بخاری اور ابن حبان وغیرہ بڑے بڑے نقادِ حدیث اماموں نے آپ کو کثیر الحدیث، ثقہ اور فقیہ تحریر کیا ہے۔
آپ کے شاگردوں میں امام ابوحنیفہ، امام اعمش، سفیان ثوری، امام شعبہ، امام عاصم احول وغیرہ رضی اللہ عنہمجیسے جلیل القدر ائمہ فقہ وحدیث ہیں ۔ ۱۲۰ ھ میں آپ کا وصال ہوا۔ ()
باب دوازدہم(12) فقہ کی ضرورت
’’انسان کی معاشرت کی وسعت نے اتنی چیزوں کا انسان کو محتاج بنادیا ہے کہ ایک انسان اگر لاکھ کوشش کرے کہ وہ دوسرے سے مستغنی ہو جائے تو محال ہے۔ مسلمان چونکہ عبادت کے علاوہ معاملات میں بھی شریعت کا پابند ہے اس لئے اسے عبادات کے علاوہ معاملات میں بھی قدم قدم لحظہ لحظہ احکامِ شریعت کی ضرورت ہے۔
آپ صرف عبادات ہی کو لیجئے اس کے فروع و جزئیات کتنے کثیر ہیں اب ہر انسان کو اس کا مکلف کرنا کہ وہ پورا قرآن مجید مع معنی و مطالب کے حفظ رکھے اور تمام احادیث کو مع سند و مالہ و ماعلیہ یاد رکھے، تکلیف مالایطاق ہے۔اس لئے ضروری ہوا کہ انسان میں تقسیم کار ہو۔اس کے نتیجے میں ضروری ہے کہ ایک طبقہ علم دین کی تحصیل اور پھر اس کی نشر و اشاعت میں مصروف ہو۔ جس کا صریح حکم سورۃ التوبۃ کی آیت۱۲۲ میں موجود ہے ،کہ فرمایا :
لِیَتَفَقَّھُوْا فِی الدِّیْنِ۔’’ہر گروہ سے ایک جماعت فقہ حاصل کرے‘‘۔()
رہ گئے عوام تو انھیں یہ حکم ہے :
فَاسْئَلُوْا اَھْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لَاتَعْلَمُوْنَ ۔
’’علم والوں سے پوچھو اگر تمھیں علم نہیں ‘‘۔ ()
عوام کو اس کا مکلف کیا گیا کہ وہ اﷲعزوجل اور رسول ﷺکے بعد علماء کی اطاعت کریں ۔ ارشاد ہے:
یٰٓایُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اَطِیْعُوْاﷲواَطِیْعُوْالرَّسُوْلَ وَاُوْلیِ الْامْرِمِنْکُمْ۔
اے ایمان والو ! اﷲ کا حکم مانو اور رسول کا اور تم میں جو حکم والے ہیں ان کا حکم مانو۔()
اب ایک منزل یہ آتی ہے کہ کوئی شخص ایک مسئلہ پوچھنے آیا تو کیا یہ ضروری ہے کہ اسے قرآن کی وہ آیت پڑھ کے سنائی جائے یا وہ حدیث مع سند کے بیان کی جائے جس سے یہ حکم نکلتا ہے۔ اور استخراج کی وجہ بھی بیان کی جائے ۔ اور اگر یہ ضروری قرار دیں تو اس میں کتنی دقت اور دشواری اور حرج ہے وہ ظاہر ہے۔ علاوہ ازیں جن جزئیات میں کوئی آیت یا حدیث نہیں ان جزئیات کے بارے میں کیا کیا جائے۔ جہاں تک میری معلومات ہیں امت کا اس پر عملی طور پر اجماع ہے کہ عوام کو اتنا بتا دینا کافی ہے کہ اس صورت کا یہ حکم ہے۔
Page 120 of 168

