اس لئے ضروری ہوا کہ امت کے جن علماء کو اﷲ عزوجل نے یہ صلاحیت اور استطاعت دی ہے کہ وہ قرآن و احادیث کے حفظ و ضبط کے ساتھ ساتھ ان کے معانی اور مطالب سے کما حقہٗ واقف ہیں اور ان کے ناسخ و منسوخ کو جانتے ہیں ، جن میں اجتہاد و استنباط کی پوری قوت ہے، وہ خدا داد قوت اجتہاد سے احکام شرعیہ کا ایسا مجموعہ تیار کر دیں جن میں منقح احکام مذکور ہوں ۔
اس ضرورت کو سب سے پہلے امام الائمہ ،سراج الامۃ ، امامِ اعظم ابوحنیفہ رضی اﷲ عنہ نے محسوس کیا ۔ اور آپ نے اپنی پوری خداداد صلاحیت کو قرآن و احادیث و اقوالِ صحابہ سے مسائل کے استخراج و استنباط میں صرف فرمادیاجس کے احسان سے امتِ مرحومہ عہد ہ برآ نہیں ہو سکتی ۔ خصوصاً جب کہ وہ دور شروع ہو چکا تھا کہ سینکڑوں نت نئے فتنے اٹھ رہے تھے۔ بد مذہب اسلام دشمن عناصر مسلمانوں میں گھل مل کر ہزار ہا ہزار احادیث گڑھ کر پھیلا چکے تھے۔ اگر فقہ مرتب نہ ہوتی تو امت کا کیا حال ہوتا وہ کسی عاقل سے پوشیدہ نہیں ‘‘۔ ()
کتاب الفقہ علی مذاہب الاربعہ کے قسم عبادات کے مقدمہ میں لکھا ہے، ’’امام ابوحنیفہ رضی اﷲ عنہنے امام حماد رضی اﷲ عنہسے علم حاصل کیا ، انہوں نے ابراہیم نخعی رضی اﷲ عنہ سے اور انہوں نے علقمہ بن قیس رضی اﷲ عنہسے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعودرضی اﷲ عنہ سے علم سیکھا۔ حضرت ابن مسعودرضی اﷲ عنہ کا میلان رائے سے اجتہاد کی طرف تھا اور جب حضرت عمر رضی اﷲ عنہنے ان کو کوفہ بھیجا تو وہاں ان کے خیال کو تقویت ملی اور ان کے میلانِ رائے میں اضافہ ہوا کیونکہ عراق میں بہت سے ایسے مسائل پیش آئے جن سے مدینہ منورہ کے قیام میں سابقہ نہیں پڑا تھا۔ روز روز نئی جزئیات پیش آتی تھیں لہٰذا ضروری ہوا کہ ان پیش آمدہ مسائل کو قواعدِ شرعیہ پر پیش کیا جائے اور اس کے حکم کے مطابق ان کا جو حکم ہو، استنباط کیا جائے‘‘۔()
فقہ کی ابتدا:
’’شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ رسول اﷲﷺ کے زمانے میں احکام کی قسمیں نہیں پیدا ہوئی تھیں ۔آنحضرت ﷺ صحابہ کے سامنے وضو فرماتے تھے اور کچھ نہ بتاتے تھے کہ یہ رکن ہے ، یہ واجب ہے ، یہ مستحب ہے ۔صحابہ آپ کو دیکھ کر اسی طرح وضو کرتے تھے ، نماز کا بھی یہی حال تھا ، یعنی صحابہ فرض و واجب وغیرہ کی تفصیل و تدقیق نہیں کیا کرتے تھے جس طرح رسول اﷲﷺ کو نماز پڑھتے دیکھا خود بھی پڑھ لی۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے کسی قوم کو رسول اﷲ ﷺ کے اصحاب سے بہتر نہیں دیکھا لیکن انھوں نے رسول اﷲ ﷺ کی زندگی میں تیرہ مسئلوں سے زیادہ نہیں پوچھے جو سب کے سب قرآن میں موجود ہیں البتہ جو واقعات غیر معمولی طور سے پیش آتے تھے ان میں لوگ آنحضرت ﷺ سے استفتاء کرتے اور آنحضرت ﷺ جواب دیتے۔ اکثر ایسا بھی ہوتا کہ لوگوں نے کوئی کام کیا اور آپ نے اس پر تحسین کی یا اس سے نارضامندی ظاہر کی۔ اس قسم کے فتوے عام مجمعوں میں ہوتے تھے اور لوگ آنحضرت ﷺ کے اقوال کو ملحوظ رکھتے تھے ۔
آنحضرت ﷺ کے وصال کے بعد فتوحات کو نہایت وسعت ہوئی اور تمدن کا دائرہ وسیع ہوتا گیا۔ واقعات اس کثرت سے پیش آئے کہ اجتہاد و استنباط کی ضرورت پڑی اور اجمالی احکام کی تفصیل پر متوجہ ہونا پڑا ۔مثلاً کسی شخص نے غلطی سے نماز میں کوئی عمل ترک کردیا۔ اب بحث پیش آئی کہ نماز ہوئی یا نہیں اس بحث کے پیدا ہونے کے ساتھ یہ تو ممکن نہ تھا کہ نماز میں جس قدر اعمال تھے سب کو فرض کہہ دیا جاتا۔ صحابہ کو تفریق کرنی پڑی کہ نماز میں کتنے ارکان فرض و واجب ہیں ؟کتنے مسنون اور مستحب ؟ اس تفریق کے لیے جو اصول قرار دیے جاسکتے تھے ان پر تمام صحابہ کی آراء کا متفق ہونا ممکن نہ تھا۔ اس لیے مسائل میں اختلاف ِ آرا ء ہوا اور اکثرمسئلوں میں صحابہ کرام کی مختلف آراء قائم ہوئیں ۔
Page 121 of 168

