بہت سے ایسے واقعات پیش آئے کہ رسول اﷲ ﷺ کے زمانہ میں ان کا عین و اثر بھی پایا نہیں گیا تھا۔ صحابہ کو ان صورتوں میں استنباط، تفریع ، حمل النظیراور قیاس سے کام لینا پڑا۔ان اصولوں کے طریقے یکساں نہ تھے اس لیے ضروری اختلاف پیدا ہوئے۔ غرض صحابہ ہی کے زمانے میں احکام اور مسائل کا ایک دفتر بن گیا اور جداجدا طریقے قائم ہو گئے‘‘۔()
مجتہد صحابہ کرام اپنے فتاویٰ اور اجتہادات کو جمع نہیں کرتے تھے لیکن بدلتے ہوئے حالات کے تقاضوں کے پیشِ نظر تابعین کے دور میں علماء وفقہاء نے احادیثِ نبوی اور فقہ وفتاویٰ کی تدوین کا کام شروع کیا۔شیخ ابوزہرہ مصری رحمہ اللہ لکھتے ہیں ،
’’مدینہ کے فقہاء حضرت عائشہ، ابن عمر، ابن عباس اور ان کے بعد کے تابعین کے فتاویٰ جمع کرنے لگے، وہ ان کو دوسرے مسائل کے لیے مبنیٰ قرار دیتے تھے۔ عراق کے فقہاء ابن مسعود اور حضرت علی کے فتاویٰ اور قاضی شریح وغیرہ دیگر قاضیوں کے فیصلوں کو جمع کرتے تھے۔ راویوں کا بیان ہے کہ حضرت ابراہیم نخعی نے بھی فتاویٰ کو ایک مجموعہ میں جمع کیا تھا۔ امام ابوحنیفہ کے استاد امام حماد کا بھی ایک مجموعہ تھا تاہم یہ مجموعے کتابوں کی حیثیت نہیں رکھتے تھے بلکہ ان کی حیثیت ایک ذاتی ڈائری کی تھی کہ مجتہد ضرورت کے وقت اس کی طرف رجوع کرتا تھا‘‘۔() رضی اﷲ عنہم اجمعین
امام ا عظمرضی اﷲ عنہ کاعظیم کارنامہ یہ ہے کہ آپ نے مسائل کے استنباط کے قواعدوضع کیے جس کی وجہ سے فقہ ، جو ابتدا میں جزئیاتِ مسائل کا نام تھا،ایک مستقل فن بن گیا۔بعد میں امامِ اعظم رضی اﷲ عنہ کے تلامذہ نے مرتب، منظم اور کتابی شکل میں علمِ فقہ کی اشاعت کی۔
فقہی احکام کی اقسام :
مفتی محمد شریف الحق امجدی رحمہ اللہ رقمطراز ہیں ،
’’ رواۃ کی قلت اور کثرت کے اعتبار سے تین قسمیں ہیں ۔ متواتر ، مشہور،خبرواحد۔
اب یہ بالکل بدیہی ہے کہ قرآن مجید کی ایک ایک آیت کا ثبوت ایسا یقینی و قطعی ہے کہ اس میں کسی شبہے کی گنجائش نہیں اور یہی حال حدیثِ ِمتواتر کا ہے ۔ حدیث مشہور کا ثبوت بھی یقینی ہے مگر متواتر کی طرح نہیں ۔ اور خبر واحد میں یہ یقین اور کم درجہ کا ہو جاتا ہے ۔ اس لئے کہ راوی لاکھ قوی الحافظہ سہی ، لاکھ متدین سہی، لاکھ محتاط و متیقظ سہی مگر ہے تو انسان ہی ۔ بہر حال اس سے سہو ، نسیان ، خطا، بھول چوک مستبعد نہیں ۔ اس لئے جو درجہ دو اور دو سے زائد راویوں کا ہے وہ تنہا ایک کا نہیں ہو سکتا۔ اور یہ تعداد جتنی بڑھتی جائے گی قوت بڑھتی جائے گی۔ اور تعداد گھٹنے میں قوت گھٹتی جائے گی۔اگرچہ راوی قوی الحافظہ، صدوق، ثقہ، تام الضبط، وغیرہ جامع شرائط ہو۔
اب چونکہ فقہ کی بنیاد جن پر تھی وہ سب ایک درجہ کے نہیں ۔ اس لئے ضروری ہوا کہ ان سے ثابت ہونے والے امور بھی ایک درجہ کے نہ ہوں بلکہ ان میں بھی مختلف مدارج ہوں ۔ اس لئے احناف کے یہاں احکام کی ابتدائی تین قسمیں ہوئیں ۔ ماموربہ، منہی عنہ، مباح۔ پھر مامور بہ کی سات قسمیں ہیں ۔ فرض اعتقادی، فرض عملی، واجب اعتقادی، واجب عملی ، سنت مؤکدہ ، سنت غیر مؤکدہ ، مستحب۔ منہی عنہ کی بھی پانچ قسمیں ہیں ۔ حرام قطعی، مکروہ تحریمی، اساء ت، مکروہ تنزیہی، خلاف اولیٰ۔
یہ سب صرف اس لئے کہ قرآن کی عظمت اور قطعیت اپنی جگہ رہے اور احادیث کی عظمت اپنی جگہ۔ اور ثابت ہونے والے امور کی ان کے ثبوت کی نوعیت کے اعتبار سے حیثیت اپنی جگہ رہے۔
احکام کے ان فرق مراتب کے مو جد حضرت امامِ اعظم رضی اﷲ عنہ ہیں ۔ فرق مراتب کو سبھی مجتہدین نے قبول کیا۔ اس تقسیم سے بہت سے وہ خلجان جو قرآن و احادیث میں بظاہر نظر آتے ہیں خود بخود ختم ہو جاتے ہیں ۔ مثلاً قرآن مجید میں نماز کے سلسلے میں صرف قیام،قرأت ، رکوع ،سجود کا حکم ہے احادیث میں ان کی تفصیل ہے ۔
Page 122 of 168

