Imam e Azam

Author: Allama Syed Shah Turab ul Haq Qadri

Total Pages: 167

Page 123 of 167

مثلاً: قیام میں قرأت ہو اور قرأت میں سورۃ فاتحہ ہو ۔ رکوع ،سجود میں تسبیح پڑھی جائے۔ فقہا ء نے جتنی باتیں قرآن مجید یا احادیث متواترہ سے ثابت ہوئی ان کو فرض قرار دیا بقیہ باتوں کو احادیث کی نوعیت کے لحاظ سے واجب ،سنّت ، مستحب قرار دیا۔ اس کو آپ ایک جزئی مثال سے ذہن نشین کیجئے۔

قرآن مجید میں ہے:

فَاقْرَؤُامَا تَیَسَّرَمِنَ الْقُرْآن۔

 جتنا تم پر آسان ہو قرآن پڑھو ۔

اس آیت کا عموم اس کا مقتضی ہے کہ نمازی قرآن کی جو بھی سورۃ ، آیت پڑھ لے نماز ہو جائے گی مگر احادیث میں ہے کہ :لاصلوٰۃ الا بفاتحۃ الکتاب۔

اور کثیر احادیث سے ثابت ہے کہ حضور اقدس سورۃ فاتحہ کے بعد اور بھی قرآن مجید کچھ نہ کچھ پڑھا کرتے تھے جو بااعتبارِ معنی حدِ شہرت تک پہنچی ہیں ۔ ان احادیث کا مفاد یہ ہوا کہ بغیر سورۃ فاتحہ اور ضم سورۃ کے نماز نہیں ہو گی۔ فقہاء نے فرق مراتب سے فائدہ اٹھا کر اس تعارض کو دور فرمایا کہ مطلق قرأت فرض اور خاص سورۃ فاتحہ پڑھنا اور ضم سورۃ واجب ۔

اگر( معاذﷲ) احناف احادیث کو قابل عمل نہ جانتے تو بہت آسانی سے کہہ سکتے تھے کہ چونکہ یہ احادیث قرآن کے معارض ہیں لہذا متروک العمل ہیں ، اسی لئے احناف کے اصول فقہ کامسلمہ کلیہ مشہورہ ہے کہ جب قرآن و حدیث میں تعارض ہو تو پہلے تطبیق کی کوشش کی جائے۔ تطبیق ہو جائے فبہاورنہ بدرجۂ مجبوری کتاب ﷲ کے مقابلہ میں خبر آحاد ضرور متروک ہوں گی ۔

کیا کوئی اسے عمل بالحدیث کا ترک کہہ سکتا ہے ؟

نہیں لیکن عناد کا کوئی علاج نہیں ‘‘۔

فقہ حنفی کی بنیاد:

معروف دانشور ڈاکٹر محمد حمید اللّٰہ رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں،

’’رسول اللّٰہ کی حیاتِ طیبہ میں اسلامی قانون کے دو مستقل ، غیر تبدل پذیر ماخذ یعنی قرآن و حدیث مکمل ہو جاتے ہیں ۔ قانونی نکتۂ نظر سے جب کوئی نئی گتھی پیدا ہوتی تو اسے سلجھا نے کے لیے مسلمان سب سے پہلے قرآن اور پھر حدیث سے رجوع کرتے اور اگر ان دونوں میں کوئی حل نہ ملتا تو پیغمبر کے عطا کردہ عظیم الشان اصول یعنی اجتہاد پر عمل کرتے۔ یہ اصول بعد میں مسلمانوں کے بہت کام آیا ورنہ اسلامی قانون منجمد ہو جاتا اور مسلمان اسے نا کافی پا کر شاید غیر اسلامی قوانین اختیار کر لینے پر مجبور ہو جاتے۔ اجتہاد کے ذریعے سے ہر نئی چیز کے بارے میں قانون بنانے کا موقع مل گیا‘‘۔

جیسا کہ پہلے بیان کیا گیا کہ حضرت عبداللّٰہ بن مسعود رضی ﷲ عنہ نے اپنی زندگی کا ایک طویل عرصہ کوفہ میں گزارا اور درس و تدریس کے ذریعہ اپنے کئی شاگردوں کو حدیث و فقہ کا ماہر بنا دیا۔حضرت علی رضی ﷲ عنہ اپنی مدتِ خلافت میں کوفہ ہی میں مقیم رہے اور آپ نے بھی کئی طالبانِ علم کو فیضیاب کیا۔ ان دونوں صحابہ کی وجہ سے ہی کوفہ کو’’ فقہ کا دارالعلوم‘‘ کہا گیا۔ معروف دانشور ڈاکٹر محمد حمید اللّٰہ کے بقول، حضرت عبداللّٰہ بن مسعود رضی ﷲ عنہ کو قانون میں خاص ملکہ حاصل تھا اس لیے ان کے درس میں قانونی مباحث اور فقیہانہ عناصر ہمیشہ زیادہ ہوتے تھے۔

چونکہ حضرت ابن مسعود رضی ﷲ عنہ اجتہاد و فتوے میں حضرت عمر فاروق رضی ﷲ عنہ کے طریقِ کار سے متاثر تھے اس لیے یہ کہا جا سکتا ہے کہ کوفہ میں فقہ کی اساس حضرت عمر، حضرت علی اور حضرت ابن مسعود سے منقول فتاویٰ تھے جو آگے چل کر فقہ حنفی کی بنیاد بنے۔ ان فقہاء صحابہ کی تعلیمات کو حضرت علقمہ، حضرت اسود اور قاضی شریح  وغیرہ نے کوفہ میں خوب پھیلایا پھر ان سے حضرت ابراہیم نخعی نے اکتسابِ علم و فضل کر کے تمام علم حضرت حماد کو منتقل کیا جو امامِ اعظم ابوحنیفہ کے استاد تھے۔رضی ﷲ تعالیٰ عنہم اجمعین ۔

Share:
keyboard_arrow_up