Imam e Azam

Author: Allama Syed Shah Turab ul Haq Qadri

Total Pages: 167

Page 124 of 167

شیخ ابو زہرہ مصری رحمہ اللّٰہ رقم طراز ہیں،

’’جب یہ ثابت ہو چکا کہ ابراہیم نخعی رضی ﷲ عنہ نے ان تین اکابر صحابہ کی فقہ نقل کر کے حضرت حماد رضی ﷲ عنہ تک پہنچائی پھر یہ فقہی ورثہ امام ابوحنیفہ رضی ﷲ عنہ کے حصے میں آیا تو کوئی وجہ نہیں کہ امام نخعی رضی ﷲ عنہ نے نقدِ حدیث میں ان کے طرزِ فکر اور نقلِ روایت میں ان کی شدید احتیاط کو امام حماد رضی ﷲ عنہ تک نہ پہنچایا ہو۔

چنانچہ حضرت ابن مسعود رضی ﷲ عنہ کا یہ عالم تھا کہ حدیث روایت کرتے وقت ان پر کپکپی طاری ہو جاتی تھی مبادا وہ ایسی چیز بیان کردیں جو حضور نے نہ فرمائی ہو مگر اپنی رائے سے فتویٰ دینے میں انھیں کوئی مضائقہ نہ تھا ۔

ادھر حضرت عمر رضی ﷲ عنہ لوگوں کو قلتِ روایت کی تلقین کرتے تھے مبادا وہ حدیثِ رسول میں دروغ گوئی کا ارتکاب نہ کر بیٹھیں ۔ ایسے میں حضرت علی رضی ﷲ عنہ کی یہ حالت تھی کہ اگر کوئی ثقہ راوی بھی حدیث بیان کرتا تو اسے حلف دلا تے اور اس طرح ان کی روایت کا تزکیہ کرتے‘‘۔

حضرت ابراہیم نخعی رضی ﷲ عنہ حدیث کی روایت میں ارسال کے عادی تھے اس کے با وجود رسول ﷲ سے روایت کرنے سے ڈرتے تھے۔ قال رسول ﷲ ﷺ کہنے پر قال الصحابی کہنے کو ترجیح دیتے تھے۔ آپ سے کہا جاتا، کیا آپ کوئی حدیثِ نبوی بیان نہیں کرسکتے؟ تو فرماتے، ’’حدیث تو بیان کرسکتا ہوں مگر میں قال عمر، قال عبدﷲ، قال علقمہ، قال اسود کہنے کو آسان تر اور پسندیدہ خیال کرتا ہوں ‘‘۔ بعض دفعہ آپ الفاظِ حدیث روایت کرنے کے بجائے حدیث کا مفہوم خود اپنی طرف سے بیان کر دیا کرتے تھے۔

اس سے معلوم ہوا کہ نبی کریم سے شریعت اخذ کرنے اور اسے دوسروں تک پہنچانے کے دو طریقے رائج تھے۔

اول: ظاہری طریقہ یعنی اسناد کے ساتھ حدیث بیان کرنا ( متواتر ہو یا غیر متواتر) ۔ (بطریقِ ظاہر)

دوم: حضور کے اقوال و افعال و تقریر سے جو مسئلہ سمجھنا ، اسے آپ کی طرف انتساب کیے بغیر بیان کرنا۔ ( بطریقِ دلالت) اول الذکر طریقے سے احادیث بیان کرنے میں صحابہ بیحد احتیاط کرتے بلکہ دوسروں کو بھی منع فرماتے۔

حضرت ابو بکر صدیق رضی ﷲ عنہ  نے کثرتِ روایت سے منع فرمایا۔ حضرت عمر ، حضرت علی اور حضرت ابن مسعود رضی ﷲ عنہم کا روایات میں احتیاط کرنا اوپر مذکور ہوا۔

امام شافعی رضی ﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ:

’’حضرت ابوبکر صدیق رضی ﷲ عنہ نے جو حدیثیں رسول ﷲ سے روایت کیں ان کی تعداد سترہ سے زیادہ نہیں ۔ حضرت عمر رضی ﷲ عنہ کی روایت سے پچاس حدیثیں بھی ثابت نہیں ، حضرت عثمان رضی ﷲ عنہ کا بھی یہی حال ہے‘‘۔

سیدنا صدیق اکبر رضی اللّٰہ عنہ ظاہری طریقے سے احادیث بیان کرنے کے بجائے مسائل کے استنباط کے لیے اجتہاد کرتے تھے چنانچہ آپ عہدِ نبوی ہی میں فقیہ اور مفتی کا فریضہ انجام دیتے رہے۔

معروف دانشور ڈاکٹر محمد حمید اللّٰہ رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں،

’’ایک روایت ہے کہ رسول اللّٰہ  نے لوگوں سے کہہ دیا تھا کہ تمہیں کوئی چیز معلوم کرنا ہو تو ابوبکر رضی ﷲ عنہ سے پوچھ لو۔ حضرت ابوبکر رضی ﷲ عنہ ایک ماہرِ قانون تھے اور صحابہ کرام رسول اللّٰہ کو ہر چھوٹی چیز کے متعلق زحمت دینے کے بجائے ، حضرت ابوبکر رضی ﷲ عنہ کے پاس جاتے اور ان سے پوچھ لیتے۔ انہیں ایک طرح اجازت تھی کہ وہ چھوٹے موٹے مسائل میں فتویٰ دیں ۔

سیدنا امامِ اعظم رضی ﷲ عنہ نے حضرت ابوبکر و عمر رضی ﷲ عنہما کے اس قانون پر عمل کیا اور حدیث کی پہلی قسم کی روایت میں کثرت نہ کی۔ 

Share:
keyboard_arrow_up