شیخ ابوزہرہ مصری رحمہ اللہ رقمطراز ہیں ،’’جب یہ ثابت ہو چکا کہ ابراہیم نخعی رضی اﷲ عنہنے ان تین اکابر صحابہ کی فقہ نقل کر کے حضرت حمادرضی اﷲ عنہتک پہنچائی پھر یہ فقہی ورثہ امام ابوحنیفہ رضی اﷲ عنہکے حصے میں آیا تو کوئی وجہ نہیں کہ امام نخعی رضی اﷲ عنہنے نقدِ حدیث میں ان کے طرزِ فکر اور نقلِ روایت میں ان کی شدیداحتیاط کو امام حمادرضی اﷲ عنہ تک نہ پہنچایا ہو۔ چنانچہ حضرت ابن مسعودرضی اﷲ عنہ کا یہ عالم تھا کہ حدیث روایت کرتے وقت ان پر کپکپی طاری ہو جاتی تھی مبادا وہ ایسی چیز بیان کردیں جو حضور ﷺ نے نہ فرمائی ہو مگر اپنی رائے سے فتویٰ دینے میں انھیں کوئی مضائقہ نہ تھا ۔
ادھر حضرت عمررضی اﷲ عنہ لوگوں کو قلتِ روایت کی تلقین کرتے تھے مبادا وہ حدیثِ رسول ﷺ میں دروغ گوئی کا ارتکاب نہ کر بیٹھیں ۔ ایسے میں حضرت علی رضی اﷲ عنہ کی یہ حالت تھی کہ اگر کوئی ثقہ راوی بھی حدیث بیان کرتا تو اسے حلف دلاتے اور اس طرح ان کی روایت کا تزکیہ کرتے‘‘۔()
حضرت ابراہیم نخعی رضی اﷲ عنہ حدیث کی روایت میں ارسال کے عادی تھے اس کے باوجود رسول اﷲ ﷺ سے روایت کرنے سے ڈرتے تھے۔ قال رسول اﷲ ﷺ کہنے پر قال الصحابی کہنے کو ترجیح دیتے تھے۔ آپ سے کہا جاتا، کیا آپ کوئی حدیثِ نبوی بیان نہیں کرسکتے؟ تو فرماتے، ’’حدیث تو بیان کرسکتا ہوں مگر میں قال عمر، قال عبداﷲ، قال علقمہ، قال اسود کہنے کو آسان تر اور پسندیدہ خیال کرتا ہوں ‘‘۔
بعض دفعہ آپ الفاظِ حدیث روایت کرنے کے بجائے حدیث کا مفہوم خود اپنی طرف سے بیان کر دیا کرتے تھے۔ ()
اس سے معلوم ہوا کہ نبی کریم ﷺ سے شریعت اخذ کرنے اور اسے دوسروں تک پہنچانے کے دو طریقے رائج تھے۔
اول: ظاہری طریقہ یعنی اسناد کے ساتھ حدیث بیان کرنا( متواتر ہو یا غیر متواتر) ۔ (بطریقِ ظاہر)
دوم: حضور ﷺ کے اقوال و افعال و تقریر سے جو مسئلہ سمجھنا ، اسے آپ ﷺ کی طرف انتساب کیے بغیر بیان کرنا۔ ( بطریقِ دلالت)
اول الذکر طریقے سے احادیث بیان کرنے میں صحابہ بیحد احتیاط کرتے بلکہ دوسروں کو بھی منع فرماتے۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے کثرتِ روایت سے منع فرمایا۔ حضرت عمر ،حضرت علی اور حضرت ابن مسعود رضی اﷲ عنہم کا روایات میں احتیاط کرنا اوپر مذکور ہوا۔ امام شافعیرضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ ’’ حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے جو حدیثیں رسول اﷲ ﷺ سے روایت کیں ان کی تعداد سترہ سے زیادہ نہیں ۔ حضرت عمررضی اﷲ عنہ کی روایت سے پچاس حدیثیں بھی ثابت نہیں ، حضرت عثمان رضی اﷲ عنہ کا بھی یہی حال ہے‘‘۔ ()
سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ظاہری طریقے سے احادیث بیان کرنے کے بجائے مسائل کے استنباط کے لیے اجتہادکرتے تھے چنانچہ آپ عہدِ نبوی ہی میں فقیہ اور مفتی کا فریضہ انجام دیتے رہے۔ معروف دانشورڈاکٹر محمد حمید اللہرحمہ اللہ فرماتے ہیں ،
’’ایک روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے لوگوں سے کہہ دیا تھا کہ تمہیں کوئی چیز معلوم کرنا ہو تو ابوبکررضی اﷲ عنہ سے پوچھ لو۔ حضرت ابوبکررضی اﷲ عنہ ایک ماہرِ قانون تھے اور صحابہ کرام رسول اللہ ﷺ کو ہر چھوٹی چیز کے متعلق زحمت دینے کے بجائے ، حضرت ابوبکر رضی اﷲ عنہکے پاس جاتے اور ان سے پوچھ لیتے۔ انہیں ایک طرح اجازت تھی کہ وہ چھوٹے موٹے مسائل میں فتویٰ دیں ۔ ()
سیدنا امامِ اعظم رضی اﷲ عنہنے حضرت ابوبکر و عمر رضی اﷲ عنہما کے اس قانون پر عمل کیا اور حدیث کی پہلی قسم کی روایت میں کثرت نہ کی۔ ()
Page 124 of 168

