یہ اکابر صحابہ کرام حدیث کی روایت موخر الذکر طریقے سے کیا کرتے یعنی جو کوئی مسئلہ دریافت کرتا تو اس پر قرآن و سنت کی روشنی میں فتویٰ صادر فرماتے۔ چنانچہ یہ کہنا بالکل صحیح ہے کہ امامِ اعظم رضی اﷲ عنہکی مرویات جو فقہ حنفی کے نام سے جانی جاتی ہیں ، دراصل مذکورہ جید صحابہ کرام کی فقہ یا باالفاظِ دیگر محمدی فقہ ہے۔
مذہب حنفی کے اصول:
علامہ ابن حجر مکی رحمہ اللہلکھتے ہیں ، ’’ یہ بات اچھی طرح جان لینی چاہیے کہ علماء کی اس بات سے کہ ’’ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ اور ان کے اصحاب اہلِ رائے ہیں ‘‘ کوئی یہ نہ سمجھے کہ علماء نے ان کی توہین کی ہے اور نہ ہی یہ سمجھے کہ یہ حضرات اپنی رائے کو سنت پر ترجیح دیتے ہیں ،ایسا ہرگز نہیں ہے۔ کیونکہ یہ بات متعدد طریقوں سے ثابت ہو چکی ہے کہ آپ سب سے پہلے قرآن مجید سے راہنمائی لیتے ہیں اگر قرآن میں حکم نہیں ملے تو سنت کی طرف رجوع کرتے ہیں اور اگر سنت میں نہ ملے تو صحابہ کرام کا قول لیتے ہیں اور اس قول کو لیتے ہیں جو قرآن و سنت کے زیادہ قریب ہو اور اگر صحابہ کا قول نہیں ملتا تو پھر آپ تابعین کے قول کے پابند نہیں رہتے بلکہ خود اجتہاد کرتے ہیں جیسا کہ دوسرے تابعین اجتہاد کرتے ہیں ‘‘۔ ()
محدث علی قاری رحمہ اللہ نے بھی آپکے اصحابِ رائے ہونے کا یہی مفہوم بیان کیا ہے کہ ’’ان کو اصحابِ رائے اس لیے کہا جاتا ہے کہ ان کی رائے دقیق اور عقل تیز ہوتی ہے‘‘۔ ()
اس سے معلوم ہوا کہ امامِ اعظم رضی اﷲ عنہ اور ان کے اصحاب کو اصحاب الرائے اس لیے نہیں کہا جاتا کہ وہ (معاذ اﷲ) اپنی رائے کو حدیث پر ترجیح دیتے ہیں بلکہ انہیں اس لیے اہلِ رائے کہاجاتا ہے کہ وہ عقل و دانائی سے حدیث کے مشکل معانی سمجھنے کی اہلیت رکھتے ہیں ۔ امام ربیعہ بن ابی عبدالرحمٰن رضی اﷲ عنہ ( المتوفی ۱۳۶ ھ) جو ربیعۃ الرائے کے نام سے مشہور تھے، ان کی وجہ تسمیہ کے متعلق امام ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ، ’’وہ امام، حافظ الحدیث، فقیہ، مجتہد اور رائے و قیاس کے ماہر تھے ،اسی وجہ سے انہیں ربیعۃ الرائے کہا گیا ہے‘‘۔ ()
اسی طرح امام مالک، امام شافعی، امام سفیان ثوری و دیگر مجتہدین حضرات بھی صاحب الرائے ہیں لیکن فقہ و اجتہاد اور قیاس و رائے میں جو بلند مقام امامِ اعظم اور آپ کے اصحاب کو ملا ، وہ کسی اور کو نہ مل سکا۔رضی اﷲ عنہم اجمعین
امیرالمومنین فی الحدیث حضرت عبداﷲ بن مبارک رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں ،’’ اگر حدیث معروف ہو اور اس میں رائے کی ضرورت ہو تو امام مالک، امام سفیان ثوری اور امام ابوحنیفہ رضی اﷲ عنہم کی رائے ملحوظ رکھنی چاہیے اور امامِ اعظم رضی اﷲ عنہ ان سب میں فقہ کی تہ تک پہنچنے والے ہیں اور ان تینوں میں بڑے فقیہ ہیں ‘‘۔ ()
آپ ہی کا ارشاد ہے کہ امامِ اعظم رضی اﷲ عنہنے فرمایا، ’’ لوگوں پر تعجب ہے کہ وہ میرے متعلق کہتے ہیں کہ میں اپنی رائے سے فتویٰ دیتا ہوں حالانکہ میں تو حدیث سے فتویٰ دیتا ہوں ۔‘‘
آپ نے ان سے یہ بھی روایت کیا کہ ’’ کتابُ اﷲ میں حکم ہوتے ہوئے کسی کوبھی اپنی رائے سے بولنے کا حق نہیں ہے، اور سنتِ رسول ﷺ میں حکم ہوتے ہوئے کسی کو اپنی رائے سے بولنے کا حق نہیں ہے، اور اسی طرح صحابہ کرام کے اجماع کے ہوتے ہوئے کسی کو اپنی رائے سے بولنے کا حق نہیں ہے البتہ جس مسئلے میں صحابہ کا اختلاف ہوا ہے تو ہم ان کے اس قول کو لیتے ہیں جو قرآن و سنت کے زیادہ قریب ہو اور جو ان کے علاوہ ہے اس میں اجتہاد کیا جاتا ہے اور اپنی رائے سے اجتہاد وہ شخص کرسکتا ہے جس کو اختلاف کا صحیح علم ہو اور وہ قیاس کے اصول و ضوابط جانتا ہو‘‘۔ ()
Page 125 of 168

