امامِ اعظم رضی اﷲ عنہ کے اس بیان سے واضح ہوجاتا ہے کہ مذہب حنفی کی بنیاد واساس دین کے چار معروف اصول یعنی کتاب و سنت اور اجماع و قیاس ہیں ۔ ان چاروں اصولوں کے حجت ہونے پر احادیث پہلے ہی پیش کی جاچکی ہیں ۔
ایک دن امامِ اعظم رضی اﷲ عنہکسی سے قیاس کے متعلق گفتگو فرمارہے تھے کہ ایک شخص نے چیخ کر کہا، قیاس کو چھوڑ دوکیونکہ پہلا قیاس ابلیس نے کیا تھا۔ آپ نے اس شخص سے فرمایا ، تم نے ٹھیک بات نہیں کی کیونکہ ابلیس نے اپنے قیاس سے اﷲ تعالیٰ کے حکم کو رد کیا ۔ اس لیے وہ کافر ہوا جبکہ ہمارا قیاس تو اﷲ تعالیٰ کے احکام کی اتباع کے لیے ہے کیونکہ ہم قیاس کے ذریعے مسئلہ کو اﷲ تعالیٰ کی کتاب ، اس کے رسول ﷺ کی سنت اور صحابہ و تابعین کرام کے اقوال کی طرف لے جارہے ہیں اور اتباع کے ارد گرد ہی رہتے ہیں تو ہم کس طرح ابلیس ملعون کے مساوی ہو سکتے ہیں ؟
یہ سن کر اس شخص نے کہا،’’ مجھ سے غلطی ہوئی میں توبہ کرتا ہوں ۔ اﷲ تعالیٰ آپ کے دل کو منور کرے جس طرح آپ نے میرے دل کو منور کیا ‘‘۔ ()
امام زفررحمہ اللہ فرماتے ہیں ،’’ امامِ اعظم رضی اﷲ عنہ اور ان کے تلامذہ قرآن و سنت سے ہٹ کر کوئی بات نہیں کرتے۔ اگر قرآن و سنت میں حکم نہ ملے تو وہ صحابہ کرام کے اقوال و اعمال کو مشعلِ راہ بناتے ہیں اور اگر ان ذرائع سے بھی مسئلہ حل نہ ہو تو پھر قرآن و سنت کی روشنی میں قیاس کرتے ہیں‘‘۔()
ولی کامل حضرت فضیل بن عیاض رحمہ اللہکی گواہی بھی ملاحظہ فرمائیے۔ آپ کا ارشاد ہے، ’’ اگر کسی مسئلہ میں صحیح حدیث مل جاتی تو امامِ اعظم رحمہ اللہ اس کی اتباع کرتے اور اگر صحابہ کرام و تابعین عظام سے اس کا حکم ملتا تو ان کی پیروی کرتے ورنہ قیاس کرتے اور بہترین قیاس کرتے‘‘۔ ()
حضرت عبد اﷲ بن مبارک رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے، ’’ تم یہ نہ کہا کرو کہ یہ امام ابوحنیفہ رضی اﷲ عنہ کی رائے ہے بلکہ یوں کہا کرو کہ یہ حدیث کی تفسیرہے‘‘۔ آپ ہی کا ایک اور ارشاد ہے ، ’’حدیث و اثر کا سیکھنا بیشک ضروری ہے مگر اس کی تشریح اور وضاحت کے لیے امامِ اعظم رضی اﷲ عنہ کی عقل و فہم کی ضرورت ہے تاکہ حدیث کی تفسیر اور اس کا مفہوم سمجھا جا سکے‘‘۔ ()
ان دلائل سے معلوم ہوا کہ امامِ اعظم ابوحنیفہرضی اﷲ عنہ قرآن و حدیث اور صحابہ کرام کے اقوال و آثار کے ہوتے ہوئے ہر گز قیاس و رائے کو اختیار نہ کرتے تھے۔ اور جب آپ قیاس و اجتہاد کرتے تو اس کی بنیاد قرآن و سنت اور اجماعِ صحابہ پر قائم ہوتی، اس لیے امت کی اکثریت اس کی تعریف اور پیروی کرتی۔اس کے باوجود آپکی انکساری اور وسعت نظری کا یہ عالم تھا کہ آپ فرماتے ہیں ،
’’ یہ ہمارا قیاس و اجتہاد ہے۔ ہم اس پر کسی کو مجبور نہیں کرتے اور نہ یہ کہتے ہیں کہ اس پر عمل کرنا واجب ہے۔ اگر کسی کے پاس اس سے بہتر رائے ہو تو وہ لے آئے ہم اس کو قبول کرنے کو تیار ہیں‘‘۔()
حضرت سفیان ثوری رحمہ اللہکا ابتدا میں یہ گمان تھا کہ آپ قیاس کو احادیث پر مقدم رکھتے ہیں چنانچہ امام عبدالوہاب شعرانی شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ، ’’ ایک دن جامع مسجد کوفہ میں سفیان ثوری، مقاتل بن حیان ، حماد بن سلمہ، امام جعفر صادق اور دوسرے علماء رضی اﷲ عنہم آئے اور انہوں نے امامِ اعظم رضی اﷲ عنہسے کہا، ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ آپ دین میں بکثرت قیاس کرتے ہیں ۔ آپ نے ان علماء سے گفتگو شروع کی اور ظہر تک یہ گفتگو جاری رہی۔
امامِ اعظم رضی اﷲ عنہنے اپنا مذہب یہ بیان کیا ،’’ میں سب سے پہلے کتابُ اﷲ پر عمل کرتا ہوں پھر سنتِ نبوی پر اور پھر صحابہ کرام کے فیصلوں پر۔ اگر ان سب میں مجھے کوئی مسئلہ نہ ملے تو پھر قیاس کرتا ہوں ‘‘۔ یہ سن کر علماء کرام کھڑے ہوئے اور آپکے سر اور گھٹنوں کو چوما اور فرمایا،’’ آپ علماء کے سردار ہیں ۔ ماضی میں جو کچھ ہم نے آپ کے متعلق ناروا کہا وہ لاعلمی میں تھا ۔ آپ اسے معاف کردیں ‘‘۔ آپ نے فرمایا، ا للہ تعالیٰ ہماری اور آپکی مغفرت فرمائے۔ ()
Page 126 of 168

